Tuesday , August 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / شاطر خاتون نے ملازمت کا جھانسہ دے کر پانچ لاکھ روپئے ہڑپ لیا

شاطر خاتون نے ملازمت کا جھانسہ دے کر پانچ لاکھ روپئے ہڑپ لیا

پولیس کی تحقیقات پر خاتون مہاراشٹرا جیل میں
دیگلور ۔ 18 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) محکمہ ریلوے میں ’’ٹکٹ چیکر‘‘ کی ملازمت دلوانے کا جھانسہ دے کر شہر حیدرآباد کی ایک خاتون نے علاقہ کے نوجوان سے پانچ لاکھ روپئے میں ٹھگ لئے ۔ شکایت پر دیگلور پولیس نے اس دیہی بیروزگار نوجوان کی فریاد پر ’’ملزمہ‘‘ کی تلاش شروع کردی ہے ۔ پولیس کے بموجب دیگلور تعلقہ کے موضع بختہ پور کا ساکن شیواجی ناگو راؤ آٹملوار عمر (27) سال سے سن 2012 ء میں عرشیہ بیگم ، محمد حمید ساکن سوماجی گوڑہ ، حیدرآباد نے اپنے بروکر کے ذریعہ ریلوے ڈپارٹمنٹ میں ’’ٹکٹ چیکر‘‘ کی پوسٹ پر ملازمت دلوانے کا جھانسہ دیا اور اس کے لئے آٹھ لاکھ روپئے نقد ادا کرنے کا مطالبہ بھی ملزمہ نے اس بھولے دیہی نوجوان سے کیا ۔ یہ نوجوان جو پوسٹ گرایجویٹ ہے نوکری کی تلاش میں تھا اس خاتون کی میٹھی میٹھی باتوں میں جھانسہ کا شکار ہوگیا ۔ بالاخر /2 ستمبر کو شیواجی سے محلہ لائین گلی (Line Galli) میں واقع مکان میں بیعانہ کے طور پر پانچ لاکھ (5,00000.00) روپئے نقد حاصل کرلی ۔ (پولیس اس مکان کی تلاش بھی کررہی ہے ) ۔ مابقی تین لاکھ روپئے ملازمت کے احکامات کی حصولی پر ادا کرنے کا ان دونوں میں معاہدہ ہوا ۔ پورے چار سال گزر گئے نہ ملازمت ہی ملی نہ ہی ’’اس کے ‘‘ احکامات؟ بالاآخر شیواجی ناگو راؤ نے حیدرآباد پہنچکر عرشیہ بیگم حمید ساکن سوماجی گوڑہ کی تلاش کرکے اسے رقم واپس دینے کیلئے دباؤ ڈالنا شروع کردیا ۔ پھر عرشیہ بیگم نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا شاخ دیگلور کا ایک چیک شیواجی کے نام جاری کیا ۔ شیواجی نے’’وہ‘‘ چیک انڈیا دیگلور شاخ میں ڈالا ۔ بینک نے کھاتہ میں مطلوبہ رقم موجود نہ رہنے پر شیواجی کو’’وہ چیک‘‘ واپس لوٹادیا ۔ آخر کار ملازمت کی اور ’’عورت‘‘ کی چکر میں پھنس جانے کا نوجوان شیواجی کو تو اب پورا یقین ہوگیا اور وہ فوری دیگلور پولیس اسٹیشن پہنچکر تفصیلی فریاد درج کروائی ہے ۔ دیگلور پولیس نے ملزمہ کے خلاف جھانسہ دینے اور فرضی چیک جاری کرنے کی پاداش میں تعزیرات ہند کی دفعات 406 اور 420کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے ۔ مزید تحقیقات سب انسپکٹر پولیس گیانو با کاڑے کررہے ہیں۔ ملزمہ عرشیہ بیگم محمد حمید نے ناندیڑ ضلع میں ایسے کئی بیروزگار تعلیم یافتہ نوجوان کو نوکریاں دلانے کا جھانسہ دینے کے کئی معاملے اب ظاہر ہورہے ہیں ۔ اسے گرفتار کرنے کے لئے جب مہاراشٹرا پولیس حیدرآباد گئی تب معلوم ہوا کہ ملزمہ کئی کیسیس میں ملوث ہونے کے باعث اب وہ بلولی (ضلع ناندیڑ) پولیس کی تحویل میں ہے ۔ اس چالاک خاتون نے تلنگانہ کی متوطن ہوکر مہاراشٹرا کے کئی نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسایا تو ’’شہر‘‘ کے کتنے نوجوان بیروزگار متلاشی روزگار ’’اس خاتون‘‘ کا شکار ہوئے ہوں گے ۔

TOPPOPULARRECENT