Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / شاعرہ نور النساء نسرین کے شعری مجموعہ کی تقریب رونمائی

شاعرہ نور النساء نسرین کے شعری مجموعہ کی تقریب رونمائی

پروفیسر اشرف رفیع ، پروفیسر ایس اے شکور اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 19 ۔ مئی : ( پریس نوٹ ) : اردو مسکن میں شاعرہ نور النساء نسرین کی کتاب ’ تمہی کو ہم نے چاہا تھا تمہی ملتے تو اچھا تھا ‘ کی رسم رونمائی تالیوں کی گونج میں بدست پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی 14 مئی اتوار کو انجام پائی ۔ ادبی اجلاس کی صدارت پروفیسر اشرف رفیع نے کی ۔ مسرور عابدی نے استعاروں کی زبان میں کہا کہ نسرین کی شاعری برگ گل کی طرح نازک اور شگفتہ ہے جس پہ خوشبو ، رنگ اور شبنم کے علاوہ کچھ اور ٹہرتا ہی نہیں ۔ پروفیسر محمد نسیم الدین فریس نے نسرین کی شاعری کا بھر پور احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ نور النساء نسرین کو غزل کی بدلتی قدروں کا ادراک ہے انہوں نے زمین شعر سے جدت کا سورج اگاتے ہوئے بڑے اعتماد سے نظر کی دکان میں غزل کے پھول سجائے ہیں ۔ نسرین کی شاعری کا فکری تسلسل اور ذہنی رشتہ پروین شاکر سے جا ملتا ہے ۔ سید شاہ نور الحق قادری نے کہا کہ نور النساء نسرین میں شاعرانہ صلاحیتیں بھر پور تابناکی کے ساتھ جلوہ فرما ہیں ۔ نسرین کی شاعری نظر سے ہوتے ہوئے روح میں اترتی دکھائی دیتی ہے ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے نور النساء نسرین کی شاعری کو خوبصورت گلدستہ خیال سے تعبیر کیا اور خواتین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مستقبل میں روشن امکانات کی طرف اشارہ کیا ۔ صدر اجلاس پروفیسر اشرف رفیع سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ نے نور النساء نسرین کے مجموعہ کلام کے منتخب اشعار پر تبصرہ کیا اور بھر پور حوصلہ افزائی کی ۔ اشرف رفیع کی رائے نور النساء نسرین کے حق میں سند کا درجہ رکھتی ہے ۔ اشرف رفیع نے نہایت فراخدلی سے نسرین کی شاعرانہ صلاحیتوں کو احاطہ تحریر میں لیتے ہوئے مبارک باد پیش کی ۔ میر فاروق علی ظہیر نے خوبصورت انداز میں نظامت کی ۔ اردو مسکن میں محفل خواتین کی نمائندہ ہستیوں کے علاوہ سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی اور نور النساء نسرین کی سبھی نے شال پوشی و گلپوشی کی ۔ آخر میں محمد انور نے شکریہ ادا کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT