Thursday , August 17 2017
Home / دنیا / شامی تارکین وطن پر امریکی ’دروازے بند‘

شامی تارکین وطن پر امریکی ’دروازے بند‘

واشنگٹن ۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی ایک درجن سے زیادہ ریاستوں نے پیرس میں حملوں کے بعد سکیورٹی خدشات کی وجہ سے شامی تارکین وطن کو لینے کا عمل روک دیا ہے۔ مشی گن ریاست کے گورنر رک سنائڈر نے کہا ہے کہ سکیورٹی جائزے تک وہ شامی تارکین وطن کو بسانے کے عمل کو معطل کر رہے ہیں۔ اسی طرح الاباما، ٹیکساس، وسکونسن، ایریزونا، مسی سیپی، انڈیانا، لوئشیانہ سمیت 17 ریاستوں کی جانب سے شامی تارکین وطن کو بسانے کے عمل کو روکنے کا اعلان کیا ہے تاہم محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا قانونی جواز تاحال غیر واضح ہے۔ امریکی صدر اوباما نے زور دیا ہے کہ امریکہ شام میں خانہ جنگی کے نتیجے میں وہاں سے نکلنے والے شہریوں کو قبول کرنے میں آگے آئے اور اپنا کردار ادا کرے۔ ’شامی تارکین وطن کے لیے اپنے دروازے سختی سے بند کرنا ہمارے اقدار سے غداری ہے۔ہماری قوم کو ان پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنا چاہیے جو شدت سے تحفط کے متلاشی ہیں اور ہماری سکیورٹی کو بھی یقینی بنائیں گے، ہمیں دونوں کو لازمی طور پر کرنا چاہیے۔‘ اگرچہ ریاست الاباما نے ابھی تک کسی شامی تارکین وطن کو قبول نہیں کیا تاہم ریاست کے گورنر کا کہنا ہے کہ’وہ الاباما کے لوگوں کو کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ممکنہ حملے کے خطرے سے دوچار نہیں کرنا چاہتے۔‘لوئشیانہ کے گورنر اور امریکی صدارتی امیدوار بابی جندال نے بھی شامی پناہ گزینوں کو امریکہ آنے سے روک دینے کا سخت حکم جاری کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT