Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / شامی حکومت و اپوزیشن کے مابین مذاکرات کیلئے اقوام متحدہ میں قرار داد منظور

شامی حکومت و اپوزیشن کے مابین مذاکرات کیلئے اقوام متحدہ میں قرار داد منظور

پانچ سالہ طویل جنگ ختم کرنے اور انتخابات منعقد کرنے کی سمت پہل ۔ بشار الاسد کے مستقبل پر خاموشی ۔ سلامتی کونسل میں وزارتی سطح کا اجلاس
اقوام متحدہ 19 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اقوامم تحدہ سلامتی کونسل میں متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں شام میں گذشتہ پانچ سال سے جاری جنگ کو حکومت اور اپوزیشن کے مابین بات چیت کے ذریعہ ختم کرنے امن کوششوں کی توثیق کی گئی ہے ۔ تاہم اس مسودہ میں ملک میں مجوزہ سیاسی تبدیلی میں صدر بشارالاسد کے رول پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے ۔ شام میں جاری ہلاکت خیز جنگ کو ختم کرنے سے متعلق اپنی اولین قررا داد میں 15 رکنی سلامتی کونسل نے کل منعقدہ وزرائے خارجہ سطح کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون سے کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کو بات چیت کیلئے مدعو کریں تاکہ ملک میں دیرپا قیام امن کیلئے کوشش ہوسکے اور رسمی بات چیت کے ملک میں سیاسی بہتری پیدا کی جاسکے ۔ کونسل کے وزارتی اجلاس میں کہا گیا ہے کہ یہ کوشش 2012 میں جاری کردہ جنیوا اعلامیہ کے مطابق ہونا چاہئے ۔ کہا گیا ہے کہ شام کی قیادت والے سیاسی عمل کو اقوام متحدہ کی توثیق دی جانی چاہئے اور یہ کام آئندہ چھ ماہ میں ہوجانا چاہئے تاکہ ملک میں اتنے عرصہ میں ایک موثر ‘ اجتماعیت والی اور غیر فرقہ واری حکمرانی کو یقینی بنایا جائے ۔ نئے دستور کی تیاری کا کام روک دیا جانا چاہئے ۔ ملک میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں اندرون 18 ماہ انتخابات کروائے جانے چاہئیں جن میں تمام شامی عوام کو رائے دہی کا حق ان کی اہلیت کی بنیاد پر ہونا چاہئے ۔

امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے اجلاس کی صدارت کی اور انہوں نے کہا کہ اس قرار داد کے ذریعہ عالمی ادارہ تمام متعلقہ گوشوں کو یہ واضح پیام دے رہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ شام میں ہلاکتوں کا سلسلہ روکا جائے اور ایک ایسی حکومت کے قیام کیلئے کام کیا جائے جو طویل وقت سے جنگ کے اثرات سے متاثر ہو رہے عوام کی مدد کرسکے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس تعلق سے امریکہ اپنے حلیفوں کے ساتھ پر عزم ہے کہ وہ دہشت گرد گروپ آئی ایس کو شکست دے ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ شامی عوام کیلئے ایک سفارتی کوشش سے زیادہ کوئی چیز دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو مستحکم نہیں کرسکتی ۔ یہ سفارتی کوشش شام کے عوام کو صدر بشارالاسد یا داعش کے درمیان انتخاب کا موقع دینے کی نہیں بلکہ جنگ اور امن کے درمیان موقع دینے کی ہونی چاہئے ۔ یہ کوشش پرتشدد تخریب کاری اور ایک نئے با اختیار سیاسی مرکز کے درمیان انتخاب سے متعلق ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اتنے زیادہ ممالک کے ساتھ اشتراک کیا ہے تاکہ سفارتی پہل کیلئے تائید حاصل کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری امید ہے کہ ملک گیر سطح پر جنگ بندی نافذ ہوگی ۔

اس میں صرف داعش اور النصرہ فرنٹ یا ان کی قبیل کے دوسرے گروپس کو شامل نہیں کیا جائیگا ۔ قرار داد میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آیا بشارالاسد ‘ شام میں ہونے والے مجوزہ انتخابات میں مقابلہ کرسکیں گے یا نہیں۔ سکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے سلامتی کونسل کو آج ہی دن میں انٹریشنل سیریا سپورٹ گروپ کے ساتھ ہوئے اجلاس کی تفصیل سے واقف کروایا تھا جس کے بعد یہ قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔ یہ گروپ عرب لیگ ‘ یوروپی یونین ‘ اقوام متحدہ اور 17 ممالک پر مشتمل ہے جن میں امریکہ اور روس بھی شامل ہے ۔ یہ گروپ گذشتہ کئی ماہ سے شام کے مسئلہ پر پیشرفت کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ بان کی مون نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس پہلی قرارداد میں بحران کو حل کرنے سیاسی راہ اختیار کرنے پر توجہ دی گئی ہے ۔ یہ ایک بہت اہمیت کا حامل قدم ہے جس پر ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسا ملک دیکھ رہے ہیں جو تباہ ہو گیا ہے ۔ اس کے لاکھوں افراد دنیا بھر میں پھیل گئے ہیں اور وہاں تیزی سے انقلابی اور فرقہ واری چیلنجس پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ چیلنجس علاقائی اور عالمی سلامتی کیلئے پیدا ہو رہے ہیں۔ قرار داد میں بان کی مون سے کہا گیا ہے کہ وہ جنگ بندی کیلئے طریقہ کار اور اس پر عمل آوری کیلئے ایک منصوبہ بھی تیار کریں۔

TOPPOPULARRECENT