Friday , September 22 2017
Home / دنیا / شامی سرحد پر لڑائی انتہائی تشویش کا باعث : قاصد اقوام متحدہ

شامی سرحد پر لڑائی انتہائی تشویش کا باعث : قاصد اقوام متحدہ

بیروت 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) شام میں اقوام متحدہ کے قاصد نے زبادانی شہر میں موجود عام شہریوں کے لئے شدید تشویش کا اظہار کیا جو فی الحال شامی افواج اور لبنان کے حزب اللہ گروپ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جو اس بات کے لئے کوشاں ہیں کہ وہاں سے شورش پسندوں کے قبضہ کو ختم کردیا جائے۔ اقوام متحدہ کے قاصد اسٹفان ڈی مستورا نے اپنے بیان میں مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ فوج نے زبادانی پر کئی بیارل بم برسائے ہیں جس سے نہ صرف غیر ضروری تباہی ہوئی ہے بلکہ معصوم اور بے قصور شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی جاں بحق ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ زبادانی شہر پر کنٹرول کو اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس طرح بشارالاسد کی افواج کو بھی لبنان اور شام کے درمیان واقع سرحدی علاقہ پر کنٹرول حاصل ہوجائے گا۔ شامی افواج نے زبادانی شہر کے اطراف و اکناف میں بمباری کی جبکہ کئی شورش پسندوں نے بھی راکٹس اور مورٹار شیلز داغتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔ شورش پسندوں کے اتحاد جسے ’’آرمی آف فتح‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے نے بھی شمالی مواضعات فوعوا اور کیفریا کو نشانہ بنایا جہاں شہریوں کی بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے اور لڑائی کے درمیان نہ اُنھیں اِس طرف جانے کا موقع مل رہا ہے اور نہ اُس طرف۔ الفوعوا اور کیفریا میں شیعہ مسلکی افراد کی کثیر آبادی ہے۔ شامی افواج کے لئے زبادانی کو شورش پسندوں کے قبضہ سے دوبارہ بحال کرلینا ہی واحد مقصد ہے جو اُن کی حکمت عملی کی سب سے بڑی فتح ثابت ہوسکتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ شامی افواج دیگر کئی محاذوں پر بھی شورش پسندوں سے نبرد آزما ہے۔
یو اے ای کا ایندھن پر سبسیڈی برخاست کرنے کا فیصلہ
دوبئی 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) تیل پیدا کرنے والے اہم ممالک متحدہ عرب امارات نے فیصلہ کیا ہے کہ ماہ اگسٹ سے پٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی سبسیڈی برخاست کردی جائے گی تاکہ اخراجات میں کٹوتی کی جاسکے۔ دوسری طرف خام تیل کی قیمتوں میں انحطاط سے ریونیوز بھی شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق قطعیت دی جائے گی اور اس پر ہر ماہ نظرثانی کی جائے گی۔ وزارت توانائی کی جانب سے جاری کئے گئے اس بیان کو سرکاری خبررساں ایجنسی وام نیوز کے ذریعہ پیش کیا گیا اور اس طرح یہ توقع کی جارہی ہے کہ سالانہ کئی بلین ڈالرس کی بچت ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT