Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / شامی شہر حلب پر سرکاری فوج کے حملہ میں 500 افراد ہلاک

شامی شہر حلب پر سرکاری فوج کے حملہ میں 500 افراد ہلاک

شمالی شام میں کردوں اور حلیفوں کا اہم فضائی فوجی اڈہ پر قبضہ
بیروت ۔ 11 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) روسی حمایت یافتہ سرکاری فوج نے شمالی شام میں حملہ کیا جس میں مبینہ طور پر 500 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ترکی کو اپنی سرحدیں تشدد سے فرار ہونے والے افراد کیلئے کھول دینے کیلئے دباؤ میں اضافہ ہوگیا۔ عالمی طاقتوں نے رو پر زور دیا کہ اپنے فضائی حملے بند کردے۔ ایک  سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ اس سے راست طور پر دولت اسلامیہ کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا تاکہ شام کی خانہ جنگی پر تبادلہ خیال کرسکے۔ بند کمرہ کا یہ اجلاس جمعرات کے دن میونخ میں اہم بین الاقوامی بات چیت سے پہلے منعقد کیا جارہا ہے تاکہ شام پر امن کیلئے دباؤ ڈالا جاسکے۔ شام کی انسانی حقوق کی نگرانکار رسدگاہ کے بموجب 506 افراد سرکاری فوج کے حلب پر حملہ کا آغاز ہونے کے بعد سے اب تک ہلاک ہوچکے ہیں۔ حملہ کا آغاز یکم ؍ فبروری کو ہوا تھا۔ مہلوکین میں 23 بچے بھی شامل ہیں۔ لاکھوں شامی شہری اب بھی سرحدی علاقہ میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ ترکی نے اپنی سرحد بند کردی ہے۔ یہ لوگ شام سے فرار ہوکر ترکی میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ وزیراعظم ترکی احمد داؤد اوگلو نے چہارشنبہ کے دن کہا تھا کہ ایک نیا کیمپ شام کے اندر پناہ گزینوں کیلئے قائم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی سے اپنی سرحدیں پناہ گزینوں کیلئے کھول دینے کیلئے دباؤ ڈالنا ناانصافی ہے۔ اس کے بجائے روس پر دباؤ ڈالا جانا چاہئے کہ وہ اپنی بمباری بند کرے۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیب احمر کے تخمینہ کے بموجب شام کے صوبہ حلب کے تشدد سے تقریباً 50 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ ایک اور اطلاع کے بموجب عرب باغی گروپس کی حمایت یافتہ کرد افواج نے دفاعی اہمیت کے ایک فوجی اڈہ پر شمالی شہر کے ایک قصبہ میں قبضہ کرلیا ہے۔ کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹ اور اس کے عرب حلیفوں نے اسلام پسندوں اور دیگر باغی جنگجوؤں کو فوجی ہوائی اڈہ مننگ سے نکال باہر کیا ہے۔ شام کے شہر حلب میں یہ دوسرا بڑا فوجی فضائی اڈہ تھا۔ کئی دن قبل کردوں اور ان کے عرب حلیفوں کی خوفناک جھڑپیں ہوئی تھیں جبکہ کردوں کے مستحکم گڑھ آفرین پر قبضہ کی کوشش کی گئی تھی۔ آج کی فوجی کارروائی اس واقعہ کے کئی دن بعد منظرعام پر آئی ہے۔ سرکاری فوجوں کا اگست 2013ء میں مننگ طیرانگاہ سے قبضہ ختم ہوگیا ہے۔ باغی گروپ کو مغرب سے آنے والی کرد افواج اور روس کی فضائی حملوں کی مدد سے پیشرفت کرنے والی سرکاری افواج دونوں کا مقابلہ ہے۔ کردوں اور سرکاری افواج کی جانب سے شام کے شمالی شہر حلب پر قبضہ کی کوشش کی جاری ہے۔ یکم ؍ فبروری کو فوج کی کارروائی کے آغاز سے اب تک 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے آغاز سے اب تک دو لاکھ 60 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور شام کی جملہ آبادی کا نصف حصہ کثیر محاذی جنگ میں بے گھر ہوچکا ہے۔ الجزیرہ کی خبر سے مطابق روس نے جنگ بندی کی تجویز شام کی پانچ سالہ خانہ جنگی کے خاتمہ پر غور کیلئے جرمنی میں دنیا کے اہم ممالک کے اجلاس سے قبل پیش کردی ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے کہا کہ جنگ بندی کی تجویز جرمنی میں منعقدہ مذاکرات کا ایک حصہ ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT