Friday , October 20 2017
Home / دنیا / شامی پناہ گزینوں سے نا روا سلوک، اقوام متحدہ کی مذمت

شامی پناہ گزینوں سے نا روا سلوک، اقوام متحدہ کی مذمت

یوروپی یونین پناہ گزینوں کے مسئلہ سے نمٹنے کے معاملہ پر منقسم ۔ کئی ممالک میں اختلاف رائے

اقوام متحدہ ۔ 17 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ہنگری کے پناہ گزینوں سے برتاؤ سے انھیں صدمہ پہنچا ہے اور ایسا رویہ ناقابل قبول ہے۔ ہنگری میں پولیس نے سربیا سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں کو  پسپا کرنے کیلئے آنسو گیس اور پانی کی توپ کا استعمال کیا ہے جس سے کم از کم دو پناہ گزین زخمی ہوگئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پناہ کے طالب لوگوں سے ایسا رویہ ’ناقابل قبول‘ ہے۔ پانچ ہزار سے زیادہ پناہ گزین اس وقت ہنگری کی سرحد سے متصل سربیا کے علاقے ہوگوز میں جمع ہیں اور ہنگری میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہنگری نے سرحد کو خاردار تاروں کی مدد سے بند کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ہنگری کی پولیس اور پناہ گزینوں میں جھڑپیں ہوئیں۔ ادھر جرمن پولیس نے کہا ہے کہ چہارشنبہ کے روز 7266 لوگ جرمنی میں داخل ہوئے ہیں اور یہ تعداد گذشتہ سے تقریباً دگنی ہے۔

زیادہ پناہ گزینوں کی منزل جرمنی ہے۔ادھر یورپی یونین پناہ گزینوں کے مسئلہ سے نمٹنے کے معاملہ پر منقسم ہے۔ ہنگری نے پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کے 20 پولیس اہلکار اس وقت زخمی ہوگئے تھے جب پناہ گزین نے ایک گیٹ میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی۔ ہنگری پولیس نے پناہ گزینوں پر الزام عائد کیا کہ وہ بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ہنگری کے راستے جرمنی جانے کی کوشش میں تارکین وطن نے احتجاجاً سرحد پر تعینات ہنگری کے سکیورٹی اہلکاروں پر پانی کی بوتلیں پھینکی اور سنگباری کی جبکہ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپ کا استعمال کیا۔ جھڑپوں کے بعد ایمبولینس کے ذریعے کئی زخمی افراد کو طبی امداد دی گئی۔ ان میں سے زیادہ تر افراد آنسو گیس سے متاثر ہوئے تھے جبکہ ایک شخص کو ٹانگ پر زخم آئے۔

وہاں موجود عراق کے عامر حسین نے بتایا کہ ہم جنگ اور تشدد سے بھاگ کر یہاں آئے ہیں اور ہمیں یورپ میں اس غیر انسانی اور ظالمانہ رویے کی توقع نہیں تھی۔ جھڑپوں کے واقعے کے بعد ہنگری کے وزیر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق انھوں نے سربیا سے کہا ہے کہ وہ سرحدی پولیس پر حملے کرنے والے پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی کرے۔ دوسری جانب کروئیشیا نے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو شمالی یورپ جانے کا راستہ فراہم کرے گا اور اس نے ہنگری کی جانب سے سربیا کے ساتھ سرحد کا ایک دن بعد ایک نیا راستہ کھل گیا ہے۔ منگل کی رات کو پناہ گزینوں کا پہلا گروپ سربیا اور کروئیشیا کی سرحد پر پہنچا تھا جسے یورپی ممالک میں جانے کا نیا راستہ کہا جا رہا ہے۔ منگل کو ہنگری نے جب سربیا کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کر دیا تو تارکین وطن کو لے کر کئی بسیں سیڈ شہر کی جانب روانہ ہوئیں جبکہ ہزاروں افراد جو جرمنی جانے کی کوشش میں ہیں وہ اس فیصلے سے محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT