Friday , October 20 2017
Home / دنیا / شامی پناہ گزینوں کو ترکی میں مقیم رہنے کی ترغیب

شامی پناہ گزینوں کو ترکی میں مقیم رہنے کی ترغیب

یوروپی ممالک کی امداد میں اضافہ کااعلان ‘ آسٹریا میں 10ہزار پناہ گزینوں کا آمد‘کینیڈا میں درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی

ویانا۔20ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریا میں مزید 10ہزار پناہ گزین پہنچ گئے  جب کہ یورپی ممالک کی پناہ گزینوں کے بحران میں شدت کی یکسوئی کیلئے کوششوں میں اضافہ کیا گیا ۔ کروشیا ‘ ہنگری اور سلوانیا زبردست تعداد میں پناہ گزینوں کی شمالی اور مغربی یورپ روانگی کے دوران اُن کے پاس توقف کرنے کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے جدوجہد کررہی ہے ۔ دریں اثناء یوروپی یونین نے ایک منصوبہ کا اعلان کیا جس کے تحت ترکی میں مقیم شامی پناہ گزینوں کی امداد میں اضافہ کیا جائے گا ۔ بشرطیکہ وہ ترکی میں ہی مقیم رہیں اور دیگر یوروپی ممالک میں پناہ لینے کے ارادوں سے دستبرداری اختیار کرلیں ۔ ہنگری کے عہدیدراوں نے ہزاروں پناہ گزینوں کو آسٹریا کی سرحد پر پہنچانے کی نئی حکمت عملی اختیار کرلی ہے تاکہ جتنی جلد ممکن ہوسکے پناہ گزینوں سے چھٹکارہ حاصل کیا جاسکے ۔ توقع ہے کہ سرحدی علاقوں سے جملہ 10ہزار پناہ گزین آسٹریا پہنچیں گے ۔ عوام کی آمد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔ کروشیا نے کہا کہ چہارشنبہ 20ہزار 700پناہ گزین کروشیا پہنچ چکے ہیں ۔

اس آمد کو روکنے کیلئے ہنگری نے 41کلومیٹر طویل خاردار تار اپنی کروشیا سے متصل سرحد پر نصب کردی ہے ۔ باقی 350کلومیٹر کی سرحد پر دریائی دراوا بہتا ہے جسے پار کرنا بہت مشکل ہے ۔ قبل ازیں پناہ گزینوں نے کروشیا اور سلوانیا کا راستہ اختیار کیا تھا ۔ تاہم اب وہ آسٹریا کا راستہ اختیار کررہے ہیں ۔ ٹورنٹو سے موصولہ اطلاع کے بموجب وزیر اعظم کینیڈا اسٹیفن ہارپر کی حکومت نے کہا کہ مزید ہزاروں ویزے شامی پناہ گزینوں کو جاریہ سال کے اختتام تک جاری کردیئے جائیں گے ۔ پناہ کیلئے اُن کی درخواستوں کی عاجلانہ بنیادوں پر یکسوئی کی جارہی ہے ۔ پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کیلئے کینیڈا کارروائیاں کررہاہے تاکہ انتخابی سال کے دوران تنقید سے محفوظ رہے ۔ ستمبر 2016ء تک کینیڈا 10ہزار پناہ گزینوں کو قبول کرلے گا ۔ یہ اس کے مقررہ پروگرام سے 15ماہ قبل ہوگا ۔ اسٹیفن ہارپر تقریباً دس سال قبل برسراقتدار آئے تھے ۔

شامی پناہ گزینوں کے مسئلہ سے نمٹنا کینیڈا کے لئے اولین ترجیحی انتخابی مسئلہ بن چکا ہے ۔ اس مسئلہ کی یکسوئی کے نتیجہ میں ہی وزیراعظم کو 19اکٹوبر کو چوتھی میعاد کیلئے تائید حاصل ہوسکتی ہے ۔ ہارپر کی حکومت کو ڈھائی ہزار پناہ گزینوں کو جنوری 2014ء سے اب تک قبول کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے لیکن ترکی کے ساحل پر پڑی ہوئی تین سالہ بچے ایلان کی نعش نے حالات تبدیل کردیئے ہیں ۔ تقریباً 40لاکھ شامی شہری 2011ء سے اب تک اپنے ملک سے فرار ہوکر پڑوسی ممالک میں پناہ لے چکے ہیں ۔ کئی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ مزید ہزاروں پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں قبول کریں گے ۔ ہارپر کے مخالفین نے اُن سے ملاقات کر کے خواہش کی ہے کہ وہ بھی ان ممالک کی تقلید کریں ۔ سابق لبرل پارٹی کے وزیراعظم جین کریٹین نے ہارپر پر انکار کو سردمہر ردعمل قرار دیاتھا جس کی وجہ سے کینیڈا کے شہریوں کو شرمندہ ہونا پڑا اور بین الاقوامی برادری کے آگے ان کی نظریں جھک گئیں۔ جنوری میں ہارپر کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ تین سال کی مدت میں 10ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں کو قبول کرچکا ہے اور تیقن دیا تھا کہ مزید 10ہزار پناہ گزینوں کو چار سال کی مدت میں قبول کیا جائے گا ۔ ان اقدامات کیلئے کینیڈا کو دو مالی برسوں میں دو کروڑ پچاس لاکھ امریکی ڈالر خرچ کرنے پڑیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT