Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / شامی پناہ گزینوں کو ’’زبردستی واپس کرنے‘ ‘کا ادعا مسترد

شامی پناہ گزینوں کو ’’زبردستی واپس کرنے‘ ‘کا ادعا مسترد

حکومت ترکی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ‘ 6فوجی بم حملے میں ہلاک
انقرہ۔3اپریل( سیاست ڈاٹ کام ) ترکی نے سختی سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا کہ حکومت ترکی شامی پناہ گزینوں کو زبردستی جنگ زدہ وطن میں واپس بھیج رہی ہے ۔ حکومت ترکی نے کہا کہ یورپی یونین نے معاہدہ کے تحت حکومت ترکی اُن شامیوں کو بھی واپس لینے تیار ہے جو غیرقانونی طور پر یونان کا سفر کرتے ہیں ۔ حکومت ترکی نے مزید کہا کہ الزامات میں کوئی حقیقت موجود نہیں ہے ‘ وزارت خارجہ ترکی نے اپنے ایک بیان میں کل کہا کہ یہ انتہائی المناک بات ہے اس قسم کی خبریں ذرائع ابلاغ کی جانب سے  اتنی شدت سے عوام میں پھیلائی جارہی ہیں ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جمعہ کے دن حکومت ترکی پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ تقریباً 100شامیوں کو غیرقانونی طور پر مجبور کررہا ہے کہ وہ اپنے وطن واپس ہوجائیں ۔الزامات میں کہا گیا تھا کہ ان کے اخراج میں یورپی یونین کے ساتھ جس پناہ گزین معاہدہ کے ساتھ اتفاق ہوا ہے اُس پر عمل آوری میں کوتاہیاں پائی جاتی ہیں ۔ یونان کل تمام پناہ گزینوں کو بشمول شامی ترکی واپس روانہ شروع کردے گا

جو غیرقانونی طور پر بحرایجین پار کر کے یونان آئے تھے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اس کے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی شامی پناہ گزینوں کیلئے واپسی کے لحاظ سے محفوظ ملک نہیں ہے ۔ وزارت خارجہ ترکی نے پُرزور انداز میں کہا کہ کھلے دروازے پالیسی  میں کوئی تبدیلی گذشتہ کئی برسوں سے نہیں آئی ہے ۔ ترکی ہمیشہ خانہ جنگی سے پریشان فرار ہوکر آنے والے شامی شہریوں کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھتا ہے اور انہیں ترکی میں پناہ دیتا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی شامیوں کو جو تشدد اور عدم استحکام سے پریشان ہوکر ترکی آرہے ہیں پناہ دینے کا بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت پابند ہے ۔ دریں اثناء دو روز قبل دیاربکر میں ایک پولیس بس پر ہونے والے کار بم دھماکے میں سات پولیس ملازمین ہلاک اور 27 دوسرے زخمی ہو گئے تھے۔پانچ ترک فوجی اور ایک خصوصی فوج کا پولیس عہدیدار ترکی کے جنوب مشرقی صوبہ مردین میں ایک بم حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ترکی کے خبر رساں ادارہ ’’ ڈوگان‘‘کے مطابق کرد باغی جماعت پی کے کے اس کی ذمہ دار ہے۔یہ فوجی نصیبن شہر میں پی کے کے کے خلاف ایک فوجی کارروائی میں حصہ لے رہے تھے۔ اس شہر میں مارچ کے وسط سے کرفیو نافذ ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ پی کے کے نے نصیبن میں خندقیں کھود رکھی تھیں اور شہر کے گرد رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔یہ حملہ جنوب مشرقی شہر دیاربکر میں ایک پولیس بس پر ہونے والے کار بم دھماکے کے دو دن بعد کیا گیا ہے جس میں سات پولیس ملازمین ہلاک اور 27 دوسرے زخمی ہو گئے تھے۔ہفتہ کے روز ترک حکام نے بتایا کہ انھوں نے دیاربکر بم حملے کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کا تعلق پی کے کے کے عسکری گروپ سے ہے۔پولیس بس اس کے پاس سے گزری تو یہ کار دھماکے سے پھٹ گئی۔

TOPPOPULARRECENT