Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / شامی پناہ گزینوں کے سنگین مسائل

شامی پناہ گزینوں کے سنگین مسائل

پروین کمال
زندگی خواہ کتنی ہی ہنگامہ خیز کیوں نہ ہو ۔ وقت کا ایک ایک پل چاہے کاروبار حیات کیلئے ناکافی ہو ۔ پھر بھی موقع پاتے ہی آپ پر کوئی ایک لمحہ ایسا طاری ہوتا ہے جب اپنے اندر سے اٹھنے والے طوفان کا آپ کو شدت سے احساس ہوتا ہے ۔ اندر ہی اندر کراہیں محسوس ہوتی ہیں ۔ آپ اپنے وجود میں عجیب سی بے قراری محسوس کرتے ہیں ، آنکھیں خود بخود اشکبار ہونے لگتی ہیں ۔ ان دنوں کسی ایک انسان کی ہی نہیں ، ہم تمام انسانوں کی آنکھوں سے اشک رواں ہیں ۔ سینوں کے اندر سے ہچکیوں کی صدائیں صاف سنائی دے رہی ہیں ۔ ذرا حساب لگا کر تو دیکھئے ۔ گذشتہ چار برسوں میں ملک شام سے کتنے جنازے اٹھے ۔ کتنے ہی کڑیل جوان خاک و خون میں لت پت پڑے رہے ۔ کتنے غنچے بن کھلے مرجھاگئے ۔ اب تو انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ زندگی سے موت سستی ہے ۔ آہ وہ تین سالہ معصوم شامی بچہ ایلان کردی جو اپنے ماں باپ اور اپنے چار سالہ بھائی کے ساتھ یوروپ کے سفر پر نکلا تھا ۔ حد نظر تک سمندر کی نیلگون موجیں کروٹیں لے رہی تھیں اور وہ خوش تھا کہ کشتی میں بیٹھ کر وہ پانی پر تیر رہا ہے ۔ چاہتا تھا کہ پانی سے کھیلے ، اٹھتی لہروں کو آگے بڑھ کر پکڑلے ، پانی پر بھاگے دوڑے ، ننھا سا دماغ یہی سب کچھ تو سوچے گا ۔ کون جانتا تھا کہ تھوڑی ہی دیر بعد وہ ان ہی لہروں میں گم ہوجائے گا ۔ جسکے ساتھ کھیلنے کی وہ خواہش کررہا تھا ۔ ربڑ کی وہ کشتی جس پر وہ سب سفر کررہے تھے گنجائش سے زیادہ افراد کو سنبھالے ہوئے کسی طرح کچھ دیر تو تیرتی رہی ، لیکن سمندر کے مد و جزر کا مقابلہ نہ کرسکی ۔ نصف شب کا وقت اور بپھری ہوئی لہریں ، کشتی کا توازن برقرار نہ رہ سکا ۔ وہ ڈولنے لگی ۔ ایلان کے والد عبداللہ کردی نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اپنی بیوی اور بچوں کو بانہوں میں سمیٹ لیا لیکن آخرکار کشتی بے قابو ہوگئی اور پھر عبداللہ کے ہاتھوں سے اس کا خاندان پھیل کر لہروں کے بہاؤ کے ساتھ آگے نکل گیا ۔ بم یا سمندر کی لہریں زندگیوں کا تحفظ تھوڑے ہی کرتی ہیں ۔ انھیں تو صرف زندگیوں کو ختم کرنے کا ہنر آتا ہے ۔ بہرکیف ۔ وہ خاندان اور بہت سارے مسافرین بہتے ہوئے آگے نکل گئے اور بدنصیب عبداللہ دیکھتا رہ گیا ۔ دوسرے دن دنیا نے دیکھا کہ معصوم ایلان کا بے جان جسم ترکی کے ساحلی علاقہ پر اوندھے منہ پڑا ہوا ہے ۔ جسے سمندری لہروں نے کنارے لاپھینکا ، اسکا جسم بالکل تازہ لگ رہا تھا ، جیسے ابھی اٹھ کر بھاگنے دوڑنے لگے گا ۔ لیکن وائے حسرت ، وہ زندگی کا سفر طے کرچکا تھا ۔ اب عبداللہ یکا و تنہا رہ گیا ہے ۔ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے خاندان کو ڈوبتا ہوا دیکھ چکا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ آئندہ کسی کے ساتھ ایسا نہ ہو ۔ وہ تمام مہاجرین کیلئے التجا کرتا ہے کہ دنیا والے اس کے خاندان کی اندوہ ناک موت کو دیکھتے ہوئے تمام مہاجرین کو تحفظ دیں ۔ تاکہ پھر کوئی عبداللہ دنیا میں تنہا نہ رہ جائے ۔ اس وقت ایلان کی موت نے دنیا پر یہ ظاہر کردیا کہ یہ اس معصوم کی موت نہیں بلکہ ان رشتوں کی موت ہوئی ہے ۔ جو نسل آدم کے ساتھ خون سے جڑے ہوئے ہیں ۔ انسانیت کے اس جذبے کی موت ہوئی ہے جو ہر انسان کے دل میں پنپتا رہا ہے ۔ اتحاد و یگانگت کے ان بلند بانگ دعوؤں کی موت ہوئی ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح اٹھے اور پانی کی گہرائیوں میں کہیں کم ہوگئے ۔

آخر وہ کیا وجوہات تھیں کہ شامی باشندے بڑے بڑے خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے رخت سفر باندھنے پر مجبور ہوئے ۔ بحیرہ روم کے راستے یوروپ تک پہنچنے کی کوشش میں اس سال کے دوران تین ہزار افراد سمندر برد ہوچکے ہیں ۔ اگر انھیں اپنے ملک میں جان و مال کا تحفظ حاصل ہوتا تو وہ موت کا راستہ کیوں چنتے ۔ جالات کے مارے بیچارے انسان ، انکے دلوں میں امیدوں کے جتنے چراغ جلتے ہیں ، اتنے تو ان خوش حال انسانوں کی حویلیوں کی منڈیروں پر بھی نہیں جلتے ہوں گے کہ وہ دوسرے ملک جا کر امن و سکون کی زندگی گذاریں ۔ اپنے بچوں کا مستقبل بنائیں گے ۔ لیکن راستے ہی میں لقمۂ اجل ہوجائیں تو کولئی بھی حساس ، باضمیر آدمی تلملائے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ ہجرت کرنے والوں کی فہرست میں ایک ایسا خاندان بھی شامل ہے جس کی مہاجرانہ سفر کی روداد انتہائی متاثر کن ہے ۔ وہ اپنے ملک میں خوشحال زندگی گزار رہے تھے ، ایک دن کسی ریستوراں میں کھانے کیلئے بیٹھے تھے کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا ۔ اور چشم زدن میں کھڑکیوں کے شیشے کرچیاں بن کر اڑے اور ان دونوں کے چہرے شدید زخمی ہوگئے ۔ تب ہی سے انھیں اپنے غیر محفوظ ہونے کا احساس ہونے لگا اور انھوں نے یوروپ کی طرف ہجرت کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ جب سفر پر نکلے تو راستوں کی صعوبتوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ یوروپکے کئی ملکوں کی سرحدیں انھوں نے دس دس میل تک پیدل طے کیں ۔ بڑی مشکل اس وقت ہوئی جب ان کا نومولود چار ماہ کا بچہ بھوک سے بے جان ہونے لگے ۔ بہرکیف کسی طرح وہ سرحد پار کرکے جرمنی پہنچے تو کہتے ہیں کہ یہاں پہنچ کر کچھ ایسا لگا کہ ہم زندہ ہیں اور ایک محفوظ پناہ گاہ میں پہنچ گئے ہیں ۔ جہاں ہمیں آزادی حاصل ہوگی اور اپنے حق کا مطالبہ کرنے کا موقع دیا جائے گا ۔ جرمنی میں داخل ہونے کے بعد جیسے ہی ان کے ناموں کا اندراج ہوا ۔ سب سے پہلے انھیں کھانا دیا گیا ۔ شیلٹر ہاوز پہنچایا گیا ۔ جہاں ضروریات زندگی کی تمام سہولتیں موجود تھیں ۔ جسکی وہ توقع کرتے تھے ۔ غرض ۔ اب وہ جرمنی کی آغوش میں اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ سماگئے ہیں ۔ دراصل دنیا بھر سے مہاجرین جرمنی کا رخ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ملک عالمی سطح پر اپنی سوشیل بہبودی کے نظام کی وجہ سے ایک پرکشش حیثیت رکھتا ہے ۔ مہاجرین کیلئے نرم گوشہ رکھنے والی شخصیت جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل ہیں جنہوں نے اس کاز کیلئے بہت اہم رول ادا کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہمارا ملک اقدار اور یکجہتی کی بنیادوں پر قائم ہے‘‘ اگرچہ کہ جرمن عوام کی زیاد تر تعداد اب مہاجرین کی آمد کو پسند نہیں کررہے ہیں کیونکہ دس لاکھ مہاجرین کیلئے خوراک ، لباس ، ادویات اور قیام گاہیں مہیا کرنے کیلئے ہی بہت بڑے سرمائے کی ضرورت ہے ۔ اب مزید مہاجرین کو روکنے کیلئے زبردست احتجاج کیا جارہا ہے ۔ آئے دن جلوس نکالے جارہے ہیں ، جس سے ہنگامی حالات پیدا ہورہے ہیں ۔ لیکن چانسلر میرکل نے عہد کیا ہوا ہے کہ وہ مہاجرین کو ناامید نہیں کریں گی۔ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ 2017ء کے عام انتخابات میں انھیں اقتدار حاصل کرنے کا موقع نہ ملے تاہم اس بات کی انھیں کوئی فکر نہیں ہے کہ انکی کرسی متزلزل بھی ہوسکتی یہ ۔ وہ تو صرف انسانیت اور ہمدردی کے ناطے یہ بیڑہ اٹھائی ہوئی ہیں ۔

ملک شام کا ذکر آتے ہی ایک عجیب خوشگوار احساس ہوتا ہے کہ یہ مشرق وسطی کا ایک بڑا تاریخی ملک اور قدیم ترین تہذیبوں کا مرکز ہے ۔ صدر مقام دمشق کا شمار بھی پرانے آباد شہروں میں کیا جاتا ہے ۔ 26 سال تک فرانس کے قبضے میں رہنے کے بعد 1946ء میں جب اسے فرانس سے آزادی ملی تو وہ ایک آزاد ملک کہلانے لگا ۔ تقریباً ستر برس کا عرصہ ایک آزاد ملک کی حیثیت سے گزار چکا ہے ۔ تعلیمی اعتبار سے کسی صورت پیچھے نہیں ہے ۔ 80 فیصد لوگ تعلیم کی روشنی سے سرفراز ہیں ۔ ملازمتوں کے حوالے سے بھی کوئی ایسے خاص مسائل نظر نہیں آتے ۔ گویا خوشحال ملک ہے ، لیکن اس وقت خانہ جنگی کی وجہ سے ملک تباہ حالی کا شکار ہورہا ہے ۔ عوام کیلئے پناہ ڈھونڈنا مشکل ترین مسئلہ ہے ۔ حیرت ہے کہ ایک ایسا  ملک جہاں اسلامی حکومت اور عوام کی 92 فیصد تعداد مسلم ہے ۔ تعلیمی میدان میں بھی وہ کسی سے کم نہیں ہیں ۔ تعلیم تو انسان کے اخلاقی معیارات بلند کرتی ہے ۔ عقل و فہم اور دانشمندی پختہ ہوتی ہے ۔ حالات کو سمجھنے کی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہے ۔ لیکن سب ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں ۔ آج کی اس دنیا میں ہوس اقتدار اور حکمرانی کے جوش جنون میں انسان ملکوں اور قوموں کی تباہی کا احساس کرنا بھول گیا ہے ۔ یہ نہیں سوچا جاتا کہ نئی نسلوں کا کیا ہوگا ۔ اس وقت عملی صورتحال سے ظاہر تو یہی ہوتا ہے کہ نئی نسلوں کی یا تو زندگی نہیں یا پھر کوئی مستقبل نہیں ۔ شام کے صدر بشار الاسد سابق صدر شام حافظ الاسد کے بیٹے ہیں ۔ بشار الاسد کو 2000 ء میں ان کے والد کی موت کے بعد صدر منتخب کیا گیا تھا وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی پالیسیوں کو آگے بڑھاتے رہے ، لیکن ادھر چند سالوں سے انھیں سخت خانہ جنگی کا سامنا ہے۔ جو کہا جاتا ہے کہ ’’داعش‘‘ تنظیم کی شورشوں کا نتیجہ ہے ۔ اس تنظیم کی بنیاد دس سال قبل عراق کے سنی مسلم جنگجوؤں نے ڈالی تھی ۔ دراصل اسی تنظیم کی وجہ سے صدر اسد کے خلاف بغاوت شروع ہوئی ۔ جو بتدریج بڑھتے ہوئے اس مقام پر پہچن چکی ہے کہ پے در پے باوردی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی موتیں ہورہی ہیں ۔ املاک تباہ ہورہی ہیں ۔ گویا شام کھنڈروں کا شہر بن گیا ہے ۔ حالات سنگین صورت اختیار کرگئے ہیں ۔ ان حالات میں عوام کا ملک چھوڑنے کا قصد کرنا ایک صحیح قدم ہے ۔ زیادہ تر ہجرت کرنے والے یوروپ کی طرف سفر کررہے ہیں ۔ یوروپ کے اکثر ممالک نے انھیں سہارا دیا اور دے رہے ہیں ۔ گزشتہ مہینے یوروپی یونین کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ مہاجرین کی آمد کے راستوں پر تقریباً ایک لاکھ استقبالیہ مراکز قائم کئے جائیں گے ۔ جہاں پناہ گزینوں کی رہائش اور سیاسی پناہ کی درخواست کے اندراج کرنے کے متعلق معاملات طے کئے جائیں گے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ طوفانی رفتار سے مہاجرین پہنچ رہے ہیں ۔ چار سال گزرنے کے بعد بھی مہاجرین کے آنے کا سلسلہ ختم نہیں ہورہا ہے ۔ قیاس کیا جارہا تھا کہ عنقریب شام کے حالات ٹھیک ہوجائیں گے اور پناہ گزینوں کو انکے ملک واپس بھیج دیا جائے گا لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں ۔ غلطی خواہ اسد حکومت کی ہو یا تنظیم داعش کی ، حقیقت یہ ہے کہ اس کے منفی اثرات یوروپی ممالک پر بڑرہے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یوں بھی نکل سکتا ہے کہ مہاجرین کو جو سہولتیں ابھی تک دی گئی وہ روک دی جائیں اور آخرکار واپس بھیج دیا جائے ۔ بہرکیف آگے کیا ہوگا یہ وقت ہی بتائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT