Monday , August 21 2017
Home / اداریہ / شام اور اقوام متحدہ

شام اور اقوام متحدہ

ناکامیٔ حیات کا انجام یہ ہوا
محرومیوں سے اور تمنا سنور گئی
شام اور اقوام متحدہ
شام میں روس اور بشارالاسد کے خون آلود ہاتھوں کو روکنے کی ہمت کرنے والے اقدام میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے شام میں بربریت کو فوری روک دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے 122 بمقابلہ 13 کے ووٹ دے کر ایک قرارداد منظور کی۔ حلب کے بشمول پورے ملک شام میں انسانی امداد پہنچانے اور تمام ناکہ بندیاں اور جنگ و لڑائی کے محاذوں کو ختم کرنے پر زور دیا گیا۔ کناڈا کی جانب سے تیار کردہ مسودہ قرارداد پر رائے دہی میں 36 ممالک نے حصہ نہیں لیا۔ یہ قرارداد شام کی 6 سال پرانی جنگ کو ختم کرانے میں کس حد تک اہم رول ادا کرسکے گی، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال شام کے شہر حلب کی تباہ کن صورتحال عالمی توجہ کی طالب ہے۔ اس مسئلہ سے نمٹنے میں صرف قراردادوں کی منظوری سے کام لیا جارہا ہے تو پھر یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اقوام متحدہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگا۔ شام کی فوج روس کی فضائی طاقت کے سہارے اپنے ہی عوام کو موت کے گھاٹ اتارنے والے نہایت ہی ظالمانہ کارروائیوں میں مصروف ہے۔ شہر حلب کو کھنڈر میں تبدیل کرکے اب یہاں بچ جانے والے انسانوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کرنے کی اطلاعات غمناک ہیں۔ شام کی فوج اس شہر حلب کا قبضہ برخاست کرنے باغیوں کو پیچھے ڈھکیل دینے کی غرض سے ہر ممکن طاقت کا استعمال کررہی ہے تاکہ اس شہر پر اپنے قبضہ کو بحال کراسکے۔ اس کوشش میں انسانی زندگیوں کو موت کے گھاٹ اتارنا اور عمارتوں کو تباہ کرکے کھنڈر بنادینا خانہ جنگی پر کامیابی حاصل کرنے کی ایک ظالمانہ کوشش ہوگی۔ اقوام متحدہ نے اگرچیکہ قرارداد کو منظور کرانے کیلئے رائے دہی کرائی ہے مگر وہ روس اور شام کے طاقتور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ روس، شام کا قریبی حلیف ملک بن کر گذشتہ ایک سال سے حکومت کو فوجی مدد کررہا ہے۔ اس قرارداد پر عمل آوری کیلئے 45 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ ان ایام کے دوران یہ کیسے یقین سے کہا جاسکتا ہیکہ شام کی فوج یا روس کی فضائی بمباری میں انسانی و مالی نقصانات کم ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے کناڈائی سفیر مارک انڈیرے نے یہ تو تسلیم کیا ہیکہ یہ قرارداد شام کی جنگ کا حل نہیں ہے لیکن یہ ایک عالمی توجہ مبذول کرانے والا ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ شام کے عوام کی زندگیوں کے تحفظ کو اپنا فرض اولین سمجھنے والے اقوام متحدہ کو شام میں امدادی کاموں کی انجام دہی میں بھی رکاوٹیں حائل ہیں۔ عالمی سطح پر شام کی صورتحال پر جب مجرمانہ خاموشی اختیار کی جارہی ہے تو صرف کاغذی گھوڑے دوڑا کر انسانی تباہی کا ماتم کرنا ایک کمزور علامت ہے۔ سال 2011ء میں موافق جمہوریت احتجاجیوں نے بشارالاسد حکومت کے خلاف زبردست مہم شروع کی تھی جو خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔ ایسے میں شام و عراق میں دہشت گردی کی مشق کرانے والی مخالف اسلام طاقتوں کو ازخود اسلام کے نام پر تشدد کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا اور ان طاقتوں نے شام کی نصف آبادی 22 ملین نفوس کو بے گھر کردیا اور زائد از 400,000 لاکھ افراد کو ہلاک کردیا ۔ شام کی آبادی کو دھیرے دھیرے صفحہ ہستی سے مٹانے کا عمل جاری ہے تو اقوام متحدہ کے بشمول عالمی طاقتیں خاص کر انسانی حقوق کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرنے والے اب تک صرف چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر اپنا فریضہ ادا کرنے کا ڈھنڈورہ پیٹ رہی ہیں۔ حلب کے باغیوں کے قبضہ میں چلے جانے کے بعد یہاں موجود ہر انسان تباہ کن حالات سے گذرنے لگا۔ حلب سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے والے ہزاروں افراد کا لاپتہ ہونا بھی غور طلب امر ہے۔ حلب سے شہریوں کو محفوظ طور پر نکالنے کیلئے عالمی طاقت صرف اپیل کرسکتی ہے جس کی تشدد پسند عناصر کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ شہر حلب کو ایک بڑے قبرستان میں تبدیل کرنے والی کارروائیوں کو فوری روکنے میں ناکام عالمی گروپ جب شامی شہریوں کی ابتر حالت پر اظہار افسوس کرتا ہے تو اس کے افسوس میں بھی دوہرا پن واضح ہوتا ہے۔ مسلح افراد ان نہتے شامی باشندوں کی راہ روک رکھتے ہیں۔ آگے بھی خطرہ ہے اور پیچھے بھی کھائی ہے۔ یہ مناظر ہولناک حقائق کو واضح کرتے ہیں۔ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران حلب کے شہریوں کو دبوچ کر انہیں قیدی بنانے کی مہم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ حلب کی تباہی یا یہاں جنگ بندی سے شام میں  جاری جنگ ختم نہیں ہوگی اس ملک کو اب تک ایسے تباہ کن دہانے پر پہنچایا گیا ہے کہ دشمن طاقتوں کے آلہ کار بن کر صدر شام اپنے ہی ملک اور عوام کو نقصان پہنچانے کی مجرمانہ کارروائیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اب امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت کیا رنگ لائے گی یہ خیال انسانی حقوق کے تحفظ کی فکر کرنے والے اداروں کیلئے اٹکی سانس ثابت ہورہا ہے کیونکہ اب تک غیرواضح ہیکہ شام کے تعلق سے ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی کیا ہوگی۔ ایران کو کمزور کرنے کا خواب رکھنے والے ٹرمپ کے نزدیک مسلم دنیا کس مقام پر ہوگی یہ تو آئندہ سال جنوری کے بعد ہی ظاہر ہوگا مگر اس کے خلاف خوف کی زنجیریں توڑ کر جرأتمندی کا مظاہرہ کرنے والی طاقت کون ہوگی یہ سوال اہم ہے؟
کیاش لیس سوسائٹی کا ڈیجیٹل انڈیا
فبروری 2016ء کو نریندرمودی کابینہ نے دو سالہ ایکشن پلان کو منظوری دے کر سارے ہندوستان کو ڈیجیٹل انڈیا میں تبدیل کرنے کا حوصلہ افزاء قدم اٹھایا تھا۔ آج سارا ملک اس ڈیجیٹل ایکشن پلان کا شکار ہے۔ وزیراعظم نے اپنے فیصلہ سے ہونے والی تکلیف کو عارضی قرار دیتے ہوئے عوام سے کہا ہیکہ وہ اس معمولی درد کو محسوس کریں کیونکہ آنے والے دنوں میں انہیں بڑی راحت ملے گی۔ کارڈ کے ذریعہ رقمی ادائیگیوں کو یقینی بنانے کا کام کرنسی کی منسوخی سے پہلے ہی سے جاری تھا۔ اب بینک ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے عمل کو ڈیجیٹل انڈیا کے نام سے متعارف کرواکر مودی حکومت نے کوئی نیا کام نہیں کیا ہے۔ کرنسی کی منسوخی سے ہونے والی پریشانیوں کو ڈیجیٹل انڈیا کا خواب سچ کر دکھانے کی لفاظی کے ذریعہ عوام کو لاحق کرنسی بحران سے چھٹکارا دلانے کی کوئی راحت بخش قدم اٹھایا نہیں گیا۔ کرنسی نے مارکٹ کو ٹھپ کردیا ہے۔ اے ٹی ایم مشینوں کو بند کردیا گیا ہے۔ بینکنگ نظام کو پلاسٹک سے مربوط لین دین کا محور بنانے کا مقصد اے ٹی ایمس کی برخاستگی کی راہ ہموار کرنا ہے کیونکہ جب ملک بھر میں سارے اے ٹی ایمس قائم کرکے عوام کو راحت پہنچانے کا بندوبست کیا گیا تھا تو ان اے ٹی ایمس کی دیکھ بھال کیلئے 18000 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے تھے ان کی نگرانی کیلئے تعینات سیکوریٹی کارڈس کو روزگار مل رہا تھا مگر اب حکومت کیاش لیس لین دین کے ذریعہ اے ٹی ایمس کو برخاست کرکے بینکوں کو 18000 کروڑ روپئے کے مصارف سے محفوظ رکھنے کے نام پر لاکھوں ملازمتوں کو برخاست کررہی ہے۔ مودی حکومت کا نعرہ ڈیجیٹل انڈیا، میک ان انڈیا اور اسکیل انڈیا اگر واقعی ہندوستان میں تبدیلی کے نقیب ثابت ہوتے جارہے ہیں تو پھر عوام گذشتہ ایک ماہ سے حکومت پر لعن طعن کیوں کررہی ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن سراپا احتجاج کیوں ہے؟ حکومت نے ملک کو ڈیجیٹل سرگرمیوں سے مربوط کرنے کا پلان وضع کیا ہے تو موبائیل فون کے ذریعہ نیٹ بینکنگ میں جو دھاندلیاں ہوں گی اس سے عوام کس طرح محفوظ رہ سکیں گے؟ اے ٹی ایمس کا خرچ بچانے کی فکر کرنے والی حکومت کو نیٹ بینکنگ دھاندلیوں یا بینک اکاونٹس ہیک کئے جانے کے واقعات کو روکنے پولیس فورس پر روپیہ خرچ کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT