Sunday , August 20 2017
Home / عرب دنیا / شام اور عراق میں ’’چینی داعشی‘‘ کیا ایغور مسلم ہیں ؟

شام اور عراق میں ’’چینی داعشی‘‘ کیا ایغور مسلم ہیں ؟

بغداد ۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) دہشت گرد تنظیم داعش کی غیرملکی جنگجوؤں کو کھینچ لانے اور بھرتی کرنے کی صلاحیت کے ڈرامائی طور پر پروان چڑھنے سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اسی حوالے سے امریکی اخبار “واشنگٹن پوسٹ” نے چینی داعشیوں کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں نام نہاد “سرزمین خلافت” میں ان کی زندگی کی تفصیلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگرچہ شام اور عراق میں ’’داعش‘‘ تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے والے چینیوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار میں کافی فرق پایا جاتا ہے تاہم چینی میڈیا نے شدت پسند تنظیم میں تقریبا 300 چینی شہریوں کے شامل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد صرف 118 جنگجوؤں سے زیادہ نہیں۔ رپورٹ میں “چینی داعشی جنگجوؤں” کے اپنے ساتھی غیرملکی جنگجوؤں سے مختلف ہونے پر تفصیل سے نظر ڈالی گئی ہے۔ ساتھ اس بات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ چین کی جانب سے ایغور کی مسلم اقلیت کے خلاف اپنائی جانے والی پالیسی ، ان جنگجوؤں کو شدت پسندی کی طرف دھکیلنے کا بنیادی سبب ہوسکتی ہے۔ جاریہ سال افشا ہونے والی داعش تنظیم کی خفیہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم کے جنگجوؤں کی اوسط عمر 26 سے 27 برس کے درمیان ہے۔ غیرملکی جنگجوؤں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے کے لیے تنظیم نے 2013 کے وسط سے لے کر 2014 کے وسط تک جنگجوؤں سے متعلق تفصیلات کا اندراج کیا تھا۔

اس ریکارڈ کے مطابق جنگجوؤں میں اکثر کی پیدائش کا سال 1987 ہے۔ تقریبا 59% جنگجو غیر شادی شدہ ہیں جب کہ 23% اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے کر آئے۔ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریبا 32% جنگجوؤں نے اعلی ثانوی مرحلے تک یا اس کے مساوی تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور ان میں اکثریت نے داعش تنظیم میں شمولیت سے قبل کم از کم 3 ملکوں کا سفر کیا ہوا تھا۔ “چینی داعشیوں” سے متعلق رپورٹ میں دلچسپ بات یہ سامنے آئی ہے کہ ان کا طرز زندگی شدت پسند تنظیم کے بقیہ جنگجوؤں سے یکسر مختلف ہے۔ رپورٹ میں چین کے 118 جنگجوؤں کی زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان میں 114 چینی سنکیانگ کے علاقے سے آئے ہیں جہاں ایغور مسلم کمیونٹی کی اکثریت آباد ہے۔ دستاویزات سے ظاہر ہوا کہ یہ لوگ ابھی تک اپنے علاقوں کو ترکستان اور مشرقی ترکستان کا نام دیتے ہیں جو کہ اپنے علاقے کی جانب اشارہ ہے جب اس نے 1930 – 1940 کے درمیان خودمختاری حاصل کی تھی۔ اس وقت یہ علاقہ “سنکیانگ ریجن” کہلاتا ہے۔ اس کے شمال مغرب میں تین مسلم ریاستیں قازقستان، کرغستان اور تاجکستان واقع ہیں۔ جنوب میں افغانستان اور پاکستان جب کہ مشرق میں چینی صوبہ تبت ہے۔

TOPPOPULARRECENT