Wednesday , September 20 2017
Home / اداریہ / شام ‘ جنگ بندی کیلئے کون سنجیدہ؟

شام ‘ جنگ بندی کیلئے کون سنجیدہ؟

گذشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں
شام ‘ جنگ بندی کیلئے کون سنجیدہ؟
ملک شام میں اس دور کی بدترینخانہ جنگی کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ ایک طرف سرکاری افواج ہیں تو دوسری جانب باغی یا بیرونی عناصر ہیں۔ فریقین کی لڑائی میں شام کے عوام کی زندگیاں اجیرن ہوگئی ہیں۔ وہ انتہائی غیرانسانی حالات میں جی رہے ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ خوف دہشت کے ماحول میں گذر رہا ہے ۔ صورتحال ایسی ہے کہ شامی عوام کی زندگیاں موت سے بدتر ہوگئی ہیں اور انہیںانتہائی غیر انسانی حالات میںجینے کیلئے مجبور کردیا گیا ہے ۔ یہاں عالمی سطح پر اپنی اجارہ داری کو یقینی بنانے کی کوشش میں امریکہ اور روس بھی فریقین کی حمایت میں میدان میں اتر آئے ہیں۔ شام کے باغیوں اور دوسرے عناصر کو جہاں امریکہ کی تائید حاصل ہے وہیں روس نے بشارالاسد حکومت کی تائید میں اپنا موقف واضح کردیا ہے ۔ شام میں انتہائی بدترین جنگ کی وجہ سے جو انسانی نقصان ہوا ہے اور جو بحران پیدا ہوگیا ہے اس کی کوئی نظیر ملنی مشکل ہی کہی جاسکتی ہے ۔ موجودہ حالات میں شام میں فریقین کے مابین جنگ بندی کیلئے امریکہ اور روس نے تقریبا چار ہفتوں تک کوشش کی تھی جس کے بعد جنگ بندی پر عمل آوری بھی شروع ہوگئی تھی تاہم ایسے واقعات پیش آتے جا رہے ہیںجن سے جنگ بندی عملا ختم ہوتی نظر آ رہی ہے ۔ سب سے پہلی خلاف ورزی امریکہ نے ایک امدادی قافلہ کو نشانہ بناتے ہوئی کی اور یہ عذر پیش کیا کہ یہ فائرنگ غلطی سے کی گئی تھی ۔ اس کے بعد سے حالات دوبارہ بگاڑکی سمت بڑھتے جا رہے ہیں۔ فریقین بھی اپنے اپنے موقف میں لچک اور نرمی پیدا کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی کو مخالف کو کوئی موقع دینا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور روس یہاں اپنے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے صورتحال کا استحصال کر رہے ہیں اور جنگ بندی کو ایک آڑ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ خود شامی فریق بھی جنگ بندی کے معاملہ میںسنجیدہ نظر نہیں آتے ۔ چاہے شامی فریقین ہوں یا ان کے بیرونی حواری ہوں کوئی بھی اپنے مفادات کو ترک کرتے ہوئے شام کے عوام کو درپیش صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے تیار نظر نہیں آتا ۔ امریکہ اور روس بھی اس معاملہ میں قدیم روایت پر ہی عمل کر رہے ہیں اور ان کا مقصد و منشا بھی صرف اپنے مفادات کی تکمیل ہی نظر آتا ہے ۔
شام کے شہر حلب میں صورتحال اور بھی سنگین ہے ۔ یہاں دواخانوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ شام کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں پہلے ہی زخمی ہونے والوں کو ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ معصوم بچے تک ادویات کیلئے اور دودھ کیلئے ترس رہے ہیں۔ دواخانوں میں کوئی سہولت نہیں ہے ۔ دواخانوں کی تعداد بھی گھٹ گئی ہے ۔ دواخانے ہیں تو ڈاکٹرس نہیں ‘ ڈاکٹرس ہیں تو ادویات نہیں ۔ ایسے میں دواخانہ کو حملہ کا نشانہ بنانا غیر انسانی عمل ہے بلکہ اسے جنگی جرائم کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔ شام اور خاص طور پر حلب کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ یہاں بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دی جائے ۔ اس کیلئے جنگ بندی ہی وہ ذریعہ ہوسکتی ہے جس کے ذریعہ ایسی کارروائیوں کو روکا جاسکتا ہے ۔ اس کیلئے ایک عزم اور حوصلے کے ساتھ اور حقیقی معنوں میں سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ صرف اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے جنگ بندی کو ایک آڑ کے طور پر استعمال کرنے سے مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ۔ اقوام متحدہ اس معاملہ میں محض زبانی جمع و خرچ میں مصروف ادارہ تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ۔ وہ کسی بھی فریق یا اس کے بیرونی حواریوں پر اثر انداز ہونے میں ناکام ہوگیا ہے ۔ بلکہ اس نے حقیقی معنوں میں اثر انداز ہونے کی کوشش بھی نہیں کی ہے ۔ یہ اقوام متحدہ کا ذمہ داری سے فرار ہے اور اس فرار کے نتیجہ میں اس عالمی ادارہ کی اہمیت اور افادیت پر ہی سوال پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس ادارہ کو بھی عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے استعمال کر رہی ہیں اور اس کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔
امریکہ ہو یا روس ہو یا پھر خود شام کے فریقین ہوں انہیں ایک ایجنڈہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے ۔ یہ ایجنڈہ بھی صرف جنگ بندی پر سختی سے عمل آوری اور اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کا ہونا چاہئے ۔ عمدا ہوں یا غلطی سے کئے گئے حملے ہوں وہ بند ہونے چاہئیں۔ کسی بھی حال میں پہلے ہی سے تباہی کی انتہا کو پہونچ چکے ملک کو مزید تباہی میں ڈھکیلنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ خاص طورپر شام کی حکومت اور اس کے مخالفین کو اپنے موقف میں لچک اور نرمی پیدا کرنا چاہئے ۔ ایسا کرتے ہوئے ان کا مطمع نظر صرف انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی ہونا چاہئے ۔ جنگ بندی کیلئے ہر فریق کو سنجیدگی اختیار کرنی چاہئے اور امریکہ اور روس کو بھی اس معاملہ میں عالمی طاقتیں ہونے کی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے محض اپنے مفادات کی تکمیل سے گریز کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT