Thursday , August 24 2017
Home / دنیا / شام میں ترکی اور سعودی عرب کی زمینی کارروائی بھی ممکن

شام میں ترکی اور سعودی عرب کی زمینی کارروائی بھی ممکن

ترک وزیر خارجہ کا ادعا ۔ آئی ایس سے مقابلہ کیلئے سعودی عرب کے عزم کی ستائش
استنبول 13 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) ترکی کے وزیر خارجہ نے آج بتایا کہ ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے شام میں اسلامک اسٹیٹ جہادیوں کے خلاف زمینی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے ۔ سعودی عرب کی جانب سے تخریب کارو ں سے مقابلہ کیلئے ایک ترک ٹھکانہ کو جنگی طیارے بھی روانہ کئے جا رہے ہیں۔ وزیر خارجہ مولود چاؤش اوگلو نے نے کہا کہ آئی ایس کے خلاف اگر کوئی حکمت عملی تیار ہوتی ہے تو پھر ترکی اور سعودی عرب ایک زمینی کارروائی میں حصہ دار ہوسکتے ہیں۔ ترک اخبارات نے وزیر خارجہ کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ترکی داعش کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے میں پس و پیش کا شکار ہے ۔ تاہم یہ ترکی ہی ہے جس نے اہم ترین تجاویز پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب حالیہ مہینوں میںترکی کا انتہائی قریبی حلیف بن کر سامنے آیا ہے اور وہ آئی ایس سے مقابلہ کیلئے انسریلک کے ترک فضائی اڈہ کو اپنے جنگی طیارے بھی روانہ کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عہدیدار یہاں کا دورہ کرچکے ہیں ۔ انہوں نے اس فضائی اڈہ کا جائزہ لیا ہے ۔ فی الحال ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ سعودی عرب کتنے طیارے روانہ کریگا ۔ انسریلک کا ہوائی اڈہ آئی ایس کے خلاف امریکی زیر قیادت اتحادی افواج کی کارروائیوں میں اہم ٹھکانہ بن گیا ہے ۔ یہاں برطانیہ ‘ فرانس اور امریکہ کے جنگی طیارے ہیں جو شام کے اندر فضائی حملے کر رہے ہیں۔ مسٹر اوگلو نے کہا کہ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اگر ضروری ہوجائے تو وہ زمینی فوج بھی روانہ کرسکتا ہے ۔ شام میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں سعودی عرب زبردست جذبہ دکھا رہا ہے ۔ سعودی عرب اور ترکی دونوں کا کہنا ہے کہ شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کیلئے صدر بشار الاسد کی علیحدگی ضروری ہے ۔ یہ دونوں ممالک ایران اور روس کی شامی حکومت کو تائید کی شدت سے مخالفت کر رہے ہیں۔ اس سوال پر کہ آیا شام میں گھسنے کیلئے سعودی عرب اپنی افواج ترک سرحدات تک بھیجے گا مسٹر اوگلو نے کہا کہ یہ ہماری خواہش ہے لیکن اس کا ابھی کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ سعودی عرب اپنے طیارے روانہ کر رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ضروری ہوجائے اور وقت آجائے تو زمینی کارروائی کرنے ہم اپنے فوجی بھی روانہ کرسکتے ہیں۔ ترک وزیر خارجہ نے یہ ریمارکس ایسے وقت میں کئے ہیں جب کل ہی صدر بشارالاسد نے ایک انٹرویو میں یہ واضح کیا تھا کہ وہ دہشت گردوں سے شام کے تمام علاقے واپس لینے کا عزم رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT