Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / شام میں جنگ بندی کا اطلاق فی الحال مشکل : بشارالاسد

شام میں جنگ بندی کا اطلاق فی الحال مشکل : بشارالاسد

فضائی حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی: مون، ہاسپٹلس پر حملے ناقابل قبول : فرانسیسی وزیرخارجہ
اقوام متحدہ ۔ 16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) شام میں جنگ بندی کے آثار اس وقت معدوم ہوگئے جب ہاسپٹلس پر کئے گئے فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے جسے فرانس نے جنگی جرم سے تعبیر کیا جبکہ صدر شام کا یہ کہنا ہیکہ جنگ بندی کا اطلاق اب بیحد مشکل معلوم ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق شام کے شہر حلب اور ادلیب میں مختلف ہاسپٹلس اور دو اسکولس پر کئے گئے فضائی حملوں میں 50 شہری بشمول بچے ہلاک ہوگئے۔ اس موقع پر سکریٹری جنرل بان کی مون نے انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فضائی حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور شام میں گذشتہ پانچ سالوں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمہ پر شک و شبہ کے بادل چھا گئے ہیں کیونکہ جنگ بندی کی تمام تر کوششیں جاری تھیں۔ فرانس نے ان فضائی حملوں کو جنگی جرم قرار دیا۔ فرانس کے وزیرخارجہ جین ۔ مارک ایرالٹ نے کہا کہ ایسے مقامات جہاں زخمیوں کا علاج کیا جاتا ہے، ان مقامات کونشانہ بنایا انسانیت کی دلیل نہیں جسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ہاسپٹلس اور اسکولس پر حملوں کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہئے۔ امریکہ کو بھی اقوام متحدہ کی طرح یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ فضائی حملوں کے پس پردہ کونسا ملک ہے۔

امریکہ نے کہا کہ شام کے شمالی علاقوں میں واقع دو ہاسپٹلس کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک ہاسپٹل میڈیکل چیاریٹی میڈیسنس سانس فرنٹیرس (ایم ایس ایف) کے ذریعہ چلایا جاتا ہے اور دوسرا ہاسپٹل باغیوں کے قبضہ والے اعزاز سٹی میں ہے۔ شامی حکومت کی افواج حلب شہر کو خصوصی طور پر نشانہ بنارہی ہے جنہیں روسی لڑاکا طیاروں کا پورا تعاون حاصل ہے۔ دریں اثناء ایم ایس ایف نے بھی ادلیب میں امدادی فنڈس سے چلائے جانے والے ہاسپٹلس پر حملہ کی توثیق کی جس میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ سات افراد ہلاک ہوئے ہیں اور کم و بیش آٹھ لاپتہ ہیں جنہیں مردہ تصور کرلیا گیا ہے۔ تاہم ماسکو میں شام کے سفیر ریاض حداد نے بتایا کہ ہاسپٹل پر امریکہ نے حملہ کیا تھا اور لڑاکا طیاروں نے اسے تباہ کردیا۔ روسی جنگی طیاروں کا ان سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ بہرحال شام میں اس وقت خانہ جنگی کا جو عالم ہے اس کی روک تھام کے مستقبل قریب میں کوئی آثار نظر نہیں آتے کیونکہ جس طرح مختلف ممالک اپنے اپنے نظریات پیش کررہے ہیں اور جس طرح قائدین کے درمیان گرماگرم بحث ہورہی ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہیکہ جنگ بندی ممکن نہیں ہے۔ بشارالاسد کا یہ کہنا کہ جنگ بندی کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ اس معاملہ کو مزید پیچیدہ کردیتا ہے۔ روس ہمیشہ سے یہ استدلال پیش کرتا رہا ہیکہ اس کی افواج نے صرف اور صرف دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو ہی نشانہ بنایا ہے۔ تاہم دیگر ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ روس کے ذریعہ کئے جانے والے اندھادھند فضائی حملوں میں بے قصور شہریوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے جو قابل تشویش ہے۔ شام، عراق، افغانستان، اردن، جنوبی سوڈان۔ صورتحال کچھ اتنی سنگین ہے کہ فی الحال عالم اسلام کے بارے میں کوئی پیش قیاسی قطعی طور پر نہیں کی جاسکتی۔

TOPPOPULARRECENT