Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / شام میں داعش کے ٹھکانوں پر آسٹریلیا کی بمباری

شام میں داعش کے ٹھکانوں پر آسٹریلیا کی بمباری

دہشت گرد گروپ پر حملوں میں سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ آسٹریلیا بھی شامل

ملبورن ۔ 16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا کے لڑاکا جیٹ طیاروں نے عرب ملک شام میں خوفناک دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے کئی ٹھکانوں پر آج پہلی مرتبہ کامیابی کے ساتھ زبردست فضائی حملے کئے جس میں داعش کے کئی ٹھکانے اور اسلحہ کے گودام تباہ ہوگئے۔ آسٹریلیا کے وزیردفاع کیون اینڈریوس نے ان اطلاعات کی توثیق کی اور کہا کہ ’’میں توثیق کرتا ہوں کہ آسٹریلیائی ایر کاسک گروپ نے مشرقی شام میں آج اپنا پہلا کامیاب مشن پورا کیا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’دو دن قبل آسٹریلیا کے لڑاکا طیاروں نے داعش کے بکتربند بیڑا کو تباہ کردیا تھا۔ یہ داعش کے خلاف لڑائی میں ہماری منطقی توسیع ہے جس کا مقصد نہ صرف شمالی عراق میں فضائی کارروائی کرنا ہے بلکہ مشرقی شام میں بھی ایسے حملے جاری رکھے جائیں تاکہ داعش فورسیس کو بے اثر اور تباہ کیا جاسکے‘‘۔

کیون اینڈریوس نے کہا کہ فضائی حملوں کے دوران آسٹریلیائی لڑاکا طیاروں کو دشمنوں کی فائرنگ یا جوابی حملہ کا سامنا کرنا نہیں پڑا اور عام شہریوں کو ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رکھنے کیلئے سخت احتیاط اور پورے کنٹرول کے ساتھ یہ کارروائی کی گئی ہے۔ آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے وزیردفاع کے حوالہ سے کہا کہ ’’یہ حملے کافی فاصلہ اور بلندی سے کئے گئے تاکہ آسٹریلیائی لڑاکا طیاروں کے تحفظ اور سلامتی کو برقرار رکھا جاسکے‘‘۔ اینڈریوس نے کہا کہ ’’ہم نے کارروائی کے سخت ترین اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے حملے کئے گئے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے عام شہریوں کو کسی گزند سے محفوظ رکھا جاسکے کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ سیویلینس کو نہ چاہتے ہوئے بھی کوئی نقصان پہنچے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ شام اور عراق کے مشتبہ مقامات پر آسٹریلیائی لڑاکا طیاروں نے پرواز کی۔ ہمارا مقصد کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ عراق پر آسٹریلیائی طیاروں کی پروازیں ہنوز جاری ہیں اور ہم پابندی کے ساتھ انتہائی باضابطہ بنیادوں پر اپنا کام جاری رکھیں گے۔ کیون اینڈریوس نے کہا کہ آسٹریلیائی جنگی طیارے تقریباً روزمرہ کی بنیادوں پر پرواز کررہے ہیں۔ داعش کے خلاف جاری مہم میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، ترکی، امریکہ، کینیڈا اور چند دوسرے ممالک حصہ لے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT