Monday , September 25 2017
Home / دنیا / شام میں روسی بمباری، جیش الحر کا بھاری جانی نقصان

شام میں روسی بمباری، جیش الحر کا بھاری جانی نقصان

حلب میں45 ہلاک ، جملہ ہلاکتیں 370 ، لاکھوں افراد فرار

بیروت۔ 20 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) شام میں اللاذقیہ میں اپوزیشن کے زیر نگین علاقوں پر روسی لڑاکا طیاروں کی بمباری سے 45 افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں شام کی جیش الحر کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔ شام میں اب تک کے روسی حملوں سے ہلاکتوں کی جملہ تعداد 70 ہوگئی جبکہ جنگ سے گھبرا کر ملک سے فرار ہونے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی کیونکہ روسی فضائی حملوں کی مدد کی بناء پر حکومت شام کی افواج نے بھی اپنی زمینی فوجی کارروائی میں شدت پیدا کردی ہے۔ انسانی حقوق کی مانیٹرنگ کرنے والی ’آبزرویٹری‘ نے بتایا ہے کہ روس کے لڑاکا طیاروں کی اپوزیشن جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے شامی علاقے اللاذقیہ کے نواح میں واقع ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں فرسٹ کوسٹل ڈویژن کے 12 جنگجو ہلاک ہو گئے۔ دوسری جانب حلب کے قریب متمرکز شامی اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ جنگجوؤں نے بتایا کہ انہیں امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائلوں کی نئی امدادی کھیپ موصول ہو گئی ہے۔ روسی فوج نے اپوزیشن کے فوجی ٹھکانوں کے خلاف بارود سے لدے ہلکے طیارے جان بوجھ کر استعمال کئے۔ ادھر اقوام متحدہ کے ذرائع نے بتایا ہیکہ حلب کے علاقے میں جنگی صورتحال میں تیزی کے بعد علاقے سے 30 ہزار افراد نقل مکانی کر گئے ہیں۔

روس کی شام پر بمباری کو 20 دن ہو چکے ہیں۔ اس بمباری کا مقصد اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کرنا ہے تاکہ طاقت کا توازن بشار الاسد کے حق میں تبدیل کیا جا سکے۔ شامی حکومت بعض مبصرین کی رائے میں اب تک میدان جنگ میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے سے قاصر چلی آ رہی ہے۔ روسی بمباری میں جیش الحر کے 12 جنگجوؤں کی ہلاکت دراصل فرسٹ کوسٹل ڈویژن کے جبل الترکمان میں ایک اجلاس کو نشانہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ اس بمباری میں جیش الحر کے اس اہم یونٹ کے متعدد سرکردہ کمانڈر بھی ہلاک ہوئے۔ ادلب کے نواح سے فیلڈ ذرائع نے بتایا کہ روسی فوج نے تحریک احرار الشام کے معرہ النعمان شہر میں متعدد ٹھکانوں پر بارود سے بھرے چھوٹے طیارے گرائے ہیں جس کے نتیجے میں تنظیم کے متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے ساتھ شامی رضاکاروں نے سوشل میڈیا میں ایسی تصاویر اپ لوڈ کی ہیں جن میں روسی پرچم والی ایک انفنٹری کیرئر کو باغی حماہ کے نواحی گاؤں المنصرہ کے قریب نشانہ بناتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT