Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / شام میں روس کے فضائی حملے، 36 ہلاک، کئی زخمی

شام میں روس کے فضائی حملے، 36 ہلاک، کئی زخمی

لبنانی قیدی عسکریت پسند ہلاک ہونے حزب اللہ کا دعوی، امریکہ کے دوستانہ فضائی حملے میں دو عراقی سپاہی نشانہ
بیروت۔20ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) شام کے شمال مغربی صوبہ اندلیب میں روسی جنگی طیاروں نے فضائی حملے کئے جس کے نتیجہ میں 36 افراد ہلاک ہوگئے۔ حقوق انسانی تنظیم نے بتایا کہ یہ حملے روسی طیاروں کے تھے اور سابقہ حکومت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جو اس وقت اتحادی فوج کے قبضے میں ہے۔ اس اتحادی فوج میں القاعدہ کی شام میں ملحقہ تنظیم النصری فرنٹ اور اسلامک گروپس جیسے احرار الشام وغیرہ شامل ہیں۔ تنظیم نے بتایا کہ ان حملوں میں کئی عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

اس دوران اسرائیل کے قیدخانے میں سب سے طویل عرصہ سے قید لبنانی قیدی سمیر قنطر اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہوگیا ‘ جن کا نشانہ شام کے دارالحکومت کی ایک عمارت تھی ۔ لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ نے آج کہا کہ قنطر جسے لبنان میں ’’لبنانی قیدیوں کا ڈین ‘‘ کہا جاتا تھا ۔ کیونکہ وہ کم از کم 30سال سے اسرائیل کی قید میں تھا ۔ دیگر 8 افراد کے ساتھ اسرائیلی کے فضائی حملے میں جو دمشق کے مضافاتی علاقہ جرمانا میں کئے گئے تھے ہلاک ہوگیا ۔ حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنان نے حملے کی جھلکیاں پیش کی ہے اور کہا گیا ہے کہ کل رات دیر گئے جرمانا میں ایک رہائشی عمارت میں اسرائیل نے فضائی حملہ کیا تھا ۔ قنطر 1978 ء سے اسرائیل کی قید میں تھا جب کہ اُسے ایک ایک حملہ میں قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا ۔ جب کہ ایک سرائیلی ملازم پولیس ایک باپ اور اس کے دو بچے ہلاک ہوگئے تھے ۔ وہ طویل عرصہ سے اسرائیل کو مطلوب تھا کیونکہ اسے اسرائیل کی تاریخ میں سب سے خوفناک قاتل سمجھا جاتا تھا ۔ قنطر اور حزب اللہ چار نیم فوجی جنگجو 2008ء میں دو اسرائیلی فوجیوں کی نعشوں کے تبادلہ میں آزاد کئے گئے تھے ۔

ان اسرائیلی فوجیوں کو 2006ء میں حزب اللہ نے گرفتار کرلیا تھا ۔ اُن کی گرفتاری کے نتیجہ میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 34دن تک جنگ جاری رہی تھی ۔ واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب امریکی زیرقیادت اتحادی افواج ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُن فضائی حملوں کیلئے ذمہ دار ہیں جن میں غلطی سے کئی عراقی فوجی ہلاک ہوگئے تھے ۔ وزیر دفاع امریکہ ایشٹن کارٹر نے آج کہاکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حملہ غلطی سے کیا گیا تھا جس میں دونوں فریق ملوث تھے ۔ کارٹر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم حیدر العبادی کو ٹیلی فون کر تعزیت پیش کرچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک غلطی تھی جس میں دونوں فریق ملوث ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عراق سے وہ اظہار تعزیت کرچکے ہیں ۔ ایشٹن کارٹر نے یہ تبصرہ کیا جس کو امریکہ میں ذرائع ابلاغ نے بڑے پیمانے پر مشہور کردیا ۔ ایشٹن کارٹر نے یو ایس ایس کیرکارج پر کیا تھا جب کہ وہ اس جل تھلیا جنگجو بحری جہاز کے ذریعہ عراق میں اتحادی افواج کی داعش کے خلاف مہم کی تائید کرنے دورہ پر جارہے تھے ۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے فضائی حملوں کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی دوستانہ فضائی حملے کی غلطی ہے جو اس طرح امریکی فوج نے کی ہے جس میں 10 عراقی فوجی ہلاک ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT