Monday , April 24 2017
Home / مضامین / شام پر امریکی حملہ ٹرمپ کی سیاسی چال

شام پر امریکی حملہ ٹرمپ کی سیاسی چال

ظفر آغا
آخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا! ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دنیا کو ایک خطرناک جنگی موڑ کے دہانے پر لاکھڑا کردیا۔ پچھلے جمعہ کی رات امریکہ نے جس طرح اپنے ایک خطرناک میزائل سے شام کے ایک فوجی ہوائی اڈہ پر حملہ کیا۔ اس سے دنیا میں پھر ایک سرد جنگ کا آغاز ہوگیا۔ ساتھ ہی عالم عرب پر ایک بار پھر اسی قسم کے جنگی بادل منڈلانے لگے جیسے عراق جنگ سے قبل منڈلارہے تھے۔ الغرض، ٹرمپ کے وائیٹ ہاؤز میں قدم رکھنے سے قبل ہی دنیا کو خطرہ محسوس ہورہا تھا اور آخر ٹرمپ نے دنیا کو اس خطرہ سے دوچار کروادیا۔
یہ سب ہوا کیوں اور کیسے ! پچھلے ہفتہ سب سے پہلے مغربی ایجنسیوں کے ذرائع سے یہ خبریں آئیں کہ شام کی فوج نے باغیوں کے علاقے میں خان شیخون نامی ایک شہر پر کیمیکل ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ اس حملے میں تقریباً 80 افراد مارے گئے جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے۔ امریکہ نے فوراً شام پر یہ الزام لگایا کہ یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔بشارالاسد حکومت نے اس بات سے انکار کیا کہ اس کی فوج نے باغیوں کے قبضے والے شہر خان شیخون پر کوئی حملہ کیا ہے۔ شام کا یہ کہنا تھا کہ یہ حملہ اس کے خلاف باغیوں کی ایک سازش ہے۔ واضح رہے کہ شام وہ ملک ہے جہاں 2011 سے بشارالاسد حکومت کے خلاف خانہ جنگی چل رہی ہے، اس خانہ جنگی میں امریکہ اور روس کے علاوہ سعودی عرب اور دیگر سعودی حامی عرب حکومتوں کے ساتھ ساتھ ان سب کی مخالفت میں ایران اور لبنان بھی ملوث ہیں۔ 1960 کی دہائی سے عالمی سرد جنگ میں پہلے سابق کمیونسٹ سوویٹ یونین اور روس کا حامی رہا ہے۔

شام اب بھی وہ واحد عرب ملک ہے جہاں باقاعدہ روسی فوجی اڈے موجود ہیں اور امریکہ نے ابھی جس شامی ہوائی اڈے پر حملہ کیا تھا وہاں بھی روسی فوجی موجود تھے۔ سابق امریکی صدر جارج بش کے دور حکومت میں امریکی حاکموں نے ایک پالیسی کے تحت یہ طئے کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں حاکموں کو بدل کر نئے امریکی حاکموں کے ذریعہ عالم عرب میں روس کے اثرات بالکل ختم کردیئے جائیں۔ اس پالیسی کے تحت اس علاقے میں 2003 میں عراق جنگ ہوئی جس کے نتیجہ میں لاکھوں عراقی مارے گئے اور آخر وہاں صدام حسین کا خاتمہ ہوا۔ صدام حسین شام کی طرح 1960 سے امریکہ اور اسرائیل مخالف تھے اور پہلے سوویٹ یونین اور پھر روس کے حامی رہے تھے، اس پالیسی کا مقصد یہ تھا کہ امریکہ عالم عرب کے تیل وسائل پر پوری طرح حاوی ہوجائے۔ صدام حسین کے خاتمہ کے بعد سے شام اور اس کے حاکم بشارالاسد امریکہ کے نشانہ پر ہیں لیکن عراق کے مقابلے شام میں روس کے صدر پوٹن نے شروع سے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ شام کو دوسرا عراق نہیں بننے دیں گے۔ یعنی وہ عراق کی طرح خاموش تماشائی نہیں بنے رہیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شام 2011 سے روس اور امریکی جنگ کا ایک عالمی مرکز بن گیا ہے اور شام کی اس خانہ جنگی میں اس علاقے کو امریکی اور روسی حلیف بھی ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ یہی سبب ہے کہ شام میں پتہ پر ہلتا ہے تو ایک جانب سعودی عرب جیسے ممالک بشارالاسد کی مخالفت میں تو دوسری جانب ایران اور لبنان شام کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس پس منظر میں شام پر چل رہی خانہ جنگی عالمی امن کے لئے خطرہ بن چکی ہے اور پچھلے ہفتہ پہلے شام میں ہونے والا کیمیکل حملہ اور پھر اس کے بعد امریکہ کے جوابی حملے نے مشرق وسطیٰ اور اس کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کردیا ہے۔ ساتھ ہی اس خطے میں پچھلے کچھ عرصہ سے چل رہے سعودی عرب ۔ ایران تنازعہ کو بھی تقویت ملی ہے۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ عالم عرب پر پھر ویسے ہی بادل منڈلارہے ہیں جیسے عراق جنگ کے وقت منڈلارہے تھے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے عراق حملے میں امریکہ کی معاشی تباہی کے باوجود ایسا خطرناک قدم کیوں اٹھایا ؟ یہ بات اس لئے بھی حیرتناک ہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ روس کے ساتھ بہترین تعلقات کے حامی تھے، انہوں نے ’’ امریکہ فرسٹ ‘‘ پالیسی کا اعلان کرکے یہ بھی واضح کیا تھا کہ وہ دنیا میں چل رہے تنازعات میں امریکی مداخلت کے بجائے امریکہ کو اندرونی طور پر معاشی طرز پر مضبوط کریں گے بلکہ روس اور بالخصوص وہاں کے صدر پوٹن سے ان کے تعلقات اس قدر بہتر بتائے جارہے تھے کہ ان پر یہ الزام تھا کہ روسی خفیہ ایجنسیوں نے ان کی حریف ہلاری کلنٹن کے خلاف پوٹن نے خاموشی سے ٹرمپ کی حمایت اور انتخابات کے دوران ان کی مدد بھی کی تھی۔ اس معاملہ میں آج بھی ٹرمپ پر امریکی میڈیا میں سخت الزامات عائد ہورہے ہیں اور امریکہ میں ٹرمپ کو ابھی حال تک بھی پوٹن حامی گردانا جارہا تھا لیکن ایسی کیا بات ہوگئی کہ کل تک پوٹن حامی ٹرمپ راتوں رات پوٹن دشمن بن گئے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے جس دن سے وائیٹ ہاؤز میں قدم رکھا ہے اسی دن سے وہ اپنے مخالفین کے نرغے میں ہیں۔ ایک تو انتخابی مہم کے دوران ہی ٹرمپ کی امریکی میڈیا سے ایک جنگ چھڑ گئی تھی جو آج بھی جاری ہے۔ اس جنگ سے ٹرمپ کو ہنی مون دور نصیب نہیں ہوا جو عموماً ایک نئے جمہوری صدر کو ملتا ہے۔ پھر ٹرمپ نے انتخابات کے دوران اپنے ووٹرس سے جو دو تین اہم وعدے کئے تھے وہ ان وعدوں کو پورا کرنے میں بالکل ناکام ہیں۔ اولاً تو انہوں نے سات مسلم ممالک سے امریکہ آنے والے مہاجرین پر پابندی لگائی جس پر امریکی عدالت نے روک لگادی۔ اس سے ٹرمپ کو بہت ذلت کا سامنا ہوا۔ پھر ابھی انہوں نے اوباما کی ’’ اوباما کیر ہیلتھ پالیسی‘‘ کو ختم کرنا چاہا، اس کے خلاف خود ان کی پارٹی اور مریضوں نے مل کر کانگریس میں بغاوت کردی جس کے سبب وہ اس معاملے میں بھی ناکام رہے اور ان کی چاروں طرف رسوائی ہوئی۔

ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کی اندرونی سیاست میں چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں ۔ امریکی نظام، میڈیا اور خود ان کی ریپبلکن پارٹی کا ایک اہم حلقہ ان کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہے۔ آئے دن امریکی سڑکوں پر ہزاروں لوگ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس اندرونی گھیرا بندی سے گھبرا کر ٹرمپ امریکی عوام کا رُخ عالمی معاملات کی جانب موڑنا چاہتے ہیں۔ روس، امریکہ کا ایسا حریف ہے کہ جس کے خلاف وہاں کے میڈیا اور عوام کی رائے عموماً یکجا ہوجاتی ہے۔ شام پر میزائیل حملے کے ذریعہ ٹرمپ روس کا ہوّا کھڑا کرکے امریکی نظام اور عوام کو اپنے حق میں کرنا چاہتے ہیں لیکن اس حرکت نے ساری دنیا کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے اور ان کی اس حرکت سے عالم اسلام کا امن خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ اب دیکھیئے کہیں شام دوسرا عراق نہ جائے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT