Wednesday , September 20 2017
Home / اداریہ / شام پر جنیوا مذاکرات

شام پر جنیوا مذاکرات

شام پر جنیوا مذاکرات
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے شام نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ صدر شام بشارالاسد کی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے مابین بات چیت25جنوری کو منعقد ہوگی۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ اسٹافن مسٹورا نے بات چیت کو یقینی بنانے کیلئے مقدور بھر کوشش کی ہے۔ انہوں نے یہ توقع ظاہر کی ہے کہ اپوزیشن کے وسیع گروپس بات چیت میں حصہ لیں گے لیکن ہنوز یہ واضح نہیں ہے کہ اسلامک اسٹیٹ گروپ جو اصل حریف ہے بات چیت کے لئے آمادہ ہوا ہے۔ شام کی حکومت نے جنیوا مذاکرات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ توقع ظاہر کی ہے کہ بات چیت سے قومی متحدہ حکومت کے قیام میں مدد ملے گی۔ اپوزیشن گروپس قبل ازیں بشارالاسد کی اقتدار سے بیدخلی تک کسی مذاکرات کیلئے تیار نہیں تھے۔ بیشتر اپوزیشن گروپس کی سرپرستی اور اسلحہ اور مالیہ سے مدد کرنے والے ملک امریکہ کا بھی اصرار تھا کہ بشارالاسد کی اقتدار سے سبکدوشی کے بغیر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ روس اور ایران بشارالاسد کی اقتدار پر برقراری کے زبردست حامی ہیں اور انہوں نے بشارالاسد کی بیدخلی کیلئے شدید عالمی دباؤ کو قبول نہیں کیا ہے۔ روس کا فضائیہ شام میں اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں پر مسلسل بمباری کررہا ہے اور ایران کی پشت پناہی والے لبنانی عسکری گروپ حزب اللہ کے سپاہیوں نے شام کی سرکاری فوج کے کندھے سے کندھا ملا کر باغی فورسیس کا مقابلہ کیا ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرانے کیلئے چین بھی اہم رول ادا کررہا ہے اور اس نے کسی بھی بیرونی مداخلت کے بغیر ہونے والے جنیوا مذاکرات میں اپنے حصہ لینے کیلئے آمادگی ظاہر کی ہے۔ گذشتہ ہفتہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں امن منصوبہ کی توثیق کی گئی جس کے تحت حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے اپنی بات چیت میں مستقبل کی قومی حکومت کے خدوخال طئے کریں گے۔ گذشتہ دو ماہ سے 17ممالک کے نمائندے تقریباً پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کو ختم کرانے کی سرتوڑ کوشش کررہے تھے، اس کوشش میں حصہ لینے والے ممالک میں روس اور ایران کی حکومتیں شامل ہیں جو کھلے عام بشارالاسد حکومت کی برقراری کی وکالت کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کو توقع ہے کہ بہت جلد لڑائی بند ہوگی، قرارداد میں اس بات کیلئے اصرار کیا گیا ہے کہ صرف 6 ماہ کے اندر ایسی عبوری حکومت قائم کی جائے جسے مکمل عاملانہ اختیارات حاصل ہوں۔ شام کی حکومت نے واضح کردیا کہ وہ تازہ بات چیت میں حصہ لینے کے لئے تیار ہے جس کا مقصد لڑائی ختم کرانا ہے۔ طویل عرصہ سے جاری لڑائی میں دو لاکھ پچاس ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور لاکھوں شامی عوام نے دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ حاصل کی ہے اور شامی پناہ گزین اس وقت پورے یوروپ کیلئے ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ جنیوا امن مذاکرات سے قبل دو جہادی گروپس کے ساتھ حکومت شام کی مفاہمت کے تحت دارالحکومت دمشق کے جنوبی علاقہ سے جہادیوں کے تخلیہ کا عمل شروع ہوا ہے لیکن اس دوران شامی فضائیہ کی بمباری میں تخلیہ کرنے والے ایک جہادی لیڈر کی ہلاکت کی وجہ سے تخلیہ کے عمل میں رکاوٹ پڑی ہے۔ مہلوک لیڈر کا تعلق  جیش السلام گروپ سے ہے اسے سعودی عرب کی تائید حاصل ہے اور اس گروپ نے حال ہی میں سعودی عرب میں منعقدہ اپوزیشن گروپس کی اہم میٹنگ میں شرکت کی تھی اور اس میٹنگ میں بشارالاسد حکومت سے بات چیت کے لئے یونائٹیڈ فرنٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ شام کی حکومت ایک دستوری کمیٹی بنائے گی جو نئے دستور کی تیاری اور نئے قانون کی تدوین کا جائزہ لے گی تاکہ کم و بیش18 ماہ کے اندر پارلیمانی انتخابات منعقد کئے جاسکیں۔ چین جو شام کی خانہ جنگی میں کبھی فریق نہیں بنا حکومت اور اپوزیشن میں بات چیت کے لئے اہم مصالحانہ رول ادا کررہا ہے۔ سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس بشارالاسد حکومت کی بیدخلی کیلئے لڑائی لڑنے والوں کی ہر طرح سے مدد کررہے ہیں جبکہ روس پوری طرح بشارالاسد حکومت کی برقراری کے حق میں ہے اور اس کے جنگی طیارے شام میں اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں پر گولہ باری کررہے ہیں۔ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کو شکایت ہے کہ روسی فضائیہ نے ان دیگر گروپس کو نشانہ بنایا ہے جو بشارالاسد کی بیدخلی کے لئے مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔ قبل ازیں ویانا میں منعقدہ میٹنگ میں طئے گئے منصوبہ کے نکات کو اقوام متحدہ کی قرارداد میں جگہ دی گئی ہے جس کا مقصد یہی ہے کہ متحدہ حکومت کی تشکیل اور انتخابات کے انعقاد کیلئے سازگار فضاء قائم کی جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ شامی اپوزیشن گروپس خود آپس میں متحد نہیں ہیں مختلف گروپس مختلف ممالک کی پشت پناہی سے سرگرم عمل ہیں اور ان میں بعض گروپس آپس میں بھی متصادم ہیں۔ اپوزیشن گروپس اب تک بھی کسی ایک رہنما کو بشارالاسد کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کرسکے ہیں۔ خانہ جنگی کے ذریعہ ہو یا انتخابات کے ذریعہ بشارالاسد کی بیدخلی کے بعد شام میں لیبیا کی طرح قیادت کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ کرنل قذافی کے قتل کے بعد سے اب تک وہاں کوئی دیرپا حکومت قائم نہیں ہوسکی۔ اس وقت بھی وہاں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں، شام میں بھی مستقبل میں ایسے ہی حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT