Sunday , August 20 2017
Home / Editorial News / شام کا مسئلہ برقرار

شام کا مسئلہ برقرار

دوست کہہ کے ہم نے جس کو بھی پکارا ہے میاں
بس اسی نے پیٹھ میں خنجر اُتارا ہے میاں
شام کا مسئلہ برقرار
صدر امریکہ بارک اوباما نے مشرق وسطیٰ پالیسی میں ناکامی کا منہ دیکھا ہے۔ شام میں بشارالاسد حکومت کو بیدخل کرنے ان کی سابق کوششوں میں ناکامی کے بعد اب پہلے سے زیادہ خون ریزی نے امریکہ کو ہر محاذ پر بدنام کردیا ہے۔ یمن میں القاعدہ کے خلاف اس کے فضائی حملے اور عراق میں فلوجہ کا کنٹرول ختم کرنے داعش کے خلاف اس کی کارروائیوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب داعش شام میں امریکہ کو لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کررہا ہے۔ قبل ازیں صدر امریکہ بارک اوباما نے عراق اور شام کو فوج روانہ کرنے میں نہ صرف پس و پیش کیا تھا بلکہ یہاں پر فضائی حملوں میں بھی شدت نہیں دکھائی تھی۔ پنٹگان نے اگرچیکہ داعش کو نشانہ بنانے کی تیاری کی تو روس نے بشارالاسد کا ساتھ دے کر حالات مزید ابتر بنادیئے۔ داعش کے اہم ٹھکانوں پر بمباری کرنے کا تازہ فیصلہ اس جانب جنگجو گروپ کے خلاف اپنی نئی فوجی حکمت عملی کو وضع کرنے کی کوشش ہے۔ لیکن امریکی صدارتی انتخاب کے سامنے اوباما نظم و نسق پر شدید دباؤ پڑرہا ہے کہ وہ داعش کے خلاف اپنی فوجی مہم کو وسعت دے خاص کر شام میں داعش کا صفایا کردیا جائے مگر یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ شام میں روس کی مداخلت کے بعد امریکہ کو بشارالاسد حکومت کے خلاف مورچہ بنانے میں ناکامی ہورہی ہے۔ روس چاہتا ہے کہ صدر بشارالاسد کا اقتدار برقرار رہے مگر روس نے گزشتہ ایک ماہ سے شام میں جو تباہی پھیلائی ہے اس کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہوا۔ بلاوجہ بے مقصد کارروائیوں کے ذریعہ ایک طرف امریکہ اور دوسری طرف روس شام کو مکمل کھنڈر میں تبدیل کرنے کوشاں ہیں۔ شام کی کیفیت سے پریشان امریکہ اور روس کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی ہے کہ آخر شام کی خون ریزی کو کس طرح ختم کیا جائے۔ روس کے فضائی حملوں کا مقصد اصل میں ان جنگجو گروپس کو پسپا کرنا ہے جو خطرناک حد تک شام کا تقریباً علاقہ اپنے کنٹرول میں لینے کا تہیہ کرلیا ہے۔ شام کے بحران کا اس سے ہٹ کر کوئی دوسرا حل نہیں ہے کہ بشارالاسد کے اقتدار کو بیدخل کردیا جائے لیکن صدر روس ولادیمیر پوٹین صدر بشارالاسد کی حکومت کو بچانے کی کوششیں کیوں کررہے ہیں۔ بشارالاسد حکومت اور شام کی سرکاری افواج کے ہاتھ مضبوط کرنے کی روس کی کوششوں کے پیچھے مقاصد بھی گھناؤنے معلوم ہوتے ہیں۔ صدر شام نے حال ہی میں اچانک ماسکو کا دورہ کرکے صدر پوٹین سے ملاقات کی تو اس سے عالم عرب میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی تھی۔ شام میں لاکھوں عوام کو بے گھر کردینے والی جنگ کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں کوئی نہ کوئی حل طلب قدم اٹھائیں۔ شام کے پاس مسئلہ کی یکسوئی میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گردی ہے تو اس ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ شام کے عوام کو ہی فیصلہ کا اختیار دیا جانا چاہئے۔ شام کے پناہ گزینوں کے بارے میں بھی عالمی طاقتوں کی مختلف رائے ہے۔ اگرچیکہ یوروپ نے اس بحران کو ختم کرنے دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت بھی کی ہے۔ شام کے تقریباً 6 لاکھ پناہ گزین سمندر کے راستے یوروپی یونین کے مختلف ممالک میں پناہ حاصل کرچکے ہیں۔ ترکی نے بھی اب تک 20 لاکھ سے زائد شامی عوام کو اپنے ہاں پناہ دیا ہے۔ تارکین وطن کی بازآبادکاری میں ان حکومتوں کے لئے ایک مسئلہ ہے جنھوں نے پناہ گزینوں کے لئے اپنی سرحدیں کھول دی تھیں۔ ترکی کے اس اقدام سے یوروپی رہنماؤں نے بھی ترکی کو زیادہ سے زیادہ امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے مگر شام کی جنگی کیفیت کو جوں کا توں چھوڑ کر یوروپی ممالک اور عالمی طاقتیں صرف شعلوں کو بجھانے یا دبانے کی ترکیب تلاش کرتے رہیں تو حالات کے بہتر ہونے کی اُمید نہیں کی جاسکتی۔ امریکہ کو شام کے تعلق سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے امریکہ، ایران سے بھی تعاون کرنے تیار ہے۔ جمعہ کے دن ویانا میں منعقدہ چوٹی کانفرنس میں شام کے بحران کو حل کرنے کی راہیں تلاش کی گئی ہیں۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آیا امریکہ شام، یمن، عراق اور مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں میں پیدا ہونے والے بحرانوں کو حل کرنے کے لئے ایران سے اپنے تعلقات کو وسعت دے گا یا نہیں۔ مغربی ملکوں نے ایران کے تعلق سے یہ کہا ہے کہ ایران کی جانب سے شام میں فوجی کارروائیوں کی درپردہ حمایت کی جارہی ہے۔ ایسے میں شام کے مستقبل پر بات چیت کے لئے ضروری ہے کہ مغربی ملکوں کو اپنا تحفظ ذہنی تبدیل کرنا ہوگا۔
ملک میں 4G صارفین اور سوشیل نیٹ ورک
ملک میں سوشیل میڈیا جیسے فیس بُک اور ٹوئٹر، واٹس آپ کے استعمال میں اضافہ کے ساتھ ہی نئی نئی ٹیکنالوجیوں کو متعارف کروایا جارہا ہے۔ ملک میں جہاں ایک طرف مواصلاتی نظام کو فروغ مل رہا ہے وہیں سوشیل نیٹ ورکنگ کا بیجا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ جعلی فیس بُک یا فرضی ٹوئٹر اکاؤنٹس کا گھناؤنا کھیل ہندوستانی مہذب معاشرہ کو عدم رواداری سے دوچار کررہا ہے۔ واٹس آپ کے ذریعہ ہندوستانیوں کے ذہنوں کو ان کے مذہب کی آڑ میں اشتعال دلانے کا منظم منصوبہ بناکر سماج میں بدامنی پھیلائی جارہی ہے۔ ایک طرف حکومت ٹیلی کام صنعتوں کو مراعات دے کر مواصلات کے نظام کو مؤثر بنارہی ہے تو دوسری طرف بڑی بڑی کمپنیوں نے 4G یا 3G کے صارفین پیدا کرکے انٹرنیٹ نیٹ ورک کنکشن کو وسعت دینا شروع کیا ہے۔ ہندوستان میں سال 2018 ء تک 4 کروڑ 4G صارفین ہوں گے اور 18 کروڑ 4G اسمارٹ فونس صارفین ہوں گے۔ مواصلات کی دنیا کی تمام بڑی کمپنیوں نے 4G سرویس کا آغاز کیا ہے۔ سال 2018 ء تک ملک میں 18 کروڑ صارفین 4G کا استعمال کریں گے۔ آئندہ چند سال میں 4G اور 3G نیٹ سب سے زیادہ تیز تر ترسیل والے گروپ ہوں گے۔ مارکٹ میں اسمارٹ فون کی قیمتوں میں کمی سے 2G رکھنے والے صارفین لامحالہ 4G سرویس سے استفادہ کرنے کی کوشش کریں گے اور 3G کنکشن رکھنے والے بھی اپنی سوشیل نیٹ ورکنگ دنیا کو تیز بنانے کے لئے 4G کا استعمال کریں گے۔ مارکٹ میں پیش کئے جانے والے پراجکٹ اور سوشیل نیٹ ورکنگ نظام میں ایک توازن پایا جانا چاہئے۔ 4G ٹیکنالوجی کا استعمال عصری دنیا کا حصہ ہے تو اس کو سماجی خرابیوں کا باعث بننے سے روکنا نظم و نسق کا کام ہے۔ سماج میں بڑھتی عدم رواداری اور مابعد واقعات کے پیچھے سوشیل نیٹ ورکنگ نظام بھی ہے۔ حکومت اور کمپنیوں کو ایسا لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے جس سے سوشیل نیٹ ورکنگ نظام کا بیجا یا غلط استعمال نہ ہونے پائے۔

TOPPOPULARRECENT