Sunday , September 24 2017
Home / عرب دنیا / شام کیلئے اقوام متحدہ کے امدادی قافلے روانہ

شام کیلئے اقوام متحدہ کے امدادی قافلے روانہ

جنگ بندی کیلئے جنیوا میں 25 فروری کو آئندہ مذاکرات
دمشق۔ 17 فروری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی جانب سے شامی پناہ گزینوں کے لئے امدادی قافلے آج روانہ ہوئے تاہم ایک طرف جہاں امدادی کارروائیوں کا آغاز ہورہا ہے تو دوسری طرف شام میں جنگ بندی اور امن کے آثار نظر نہیں آتے کیونکہ ترکی نے بھی اپنے جنگ زدہ پڑوسی ملک میں زمینی جنگ کا اعلان کردیا ہے۔ حکومت شام نے شام کے سات علاقوں تک رسائی کو منظوری دی ہے جن میں مدایا شہر بھی شامل ہے جہاں یہ کہا جارہا ہے کہ اب تک فاقہ کشی کی وجہ سے درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی اقمور سے وابستہ ترجمان نے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر دمشق میں اقوام متحدہ کے سفیر اسٹیفان ڈی مستورا نے بتایا کہ تمام امدادی قافلوں کو آج روانہ کردیا جائے گا جبکہ دیکھنا یہ ہے کہ ایک دوسرے سے آمادۂ جنگ لوگ انسانی بنیادوں پر بھی امدادی سامان کی ضرورت مندوں تک پہونچنے دیتے ہیں یا نہیں؟ دریں اثناء شام کے وزیر خارجہ ولید معلم نے کہا کہ یہ حکومت شام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ایک شہری کی خبر گیری کرے، چاہے

وہ کسی بھی مقام پر ہو اور اقوام متحدہ کی جانب سے جو بھی امداد بھیجی جارہی ہے، اسے ضرورت مندوں تک پہنچنے دے۔ اب ہمیں کل تک یہ بات معلوم ہوجائے گی، شام میں 5 لاکھ شہری ایسے ہیں جو جنگ زدہ علاقوں میں موجود ہیں جبکہ حکومت شام اور باغی فوجیوں کے درمیان جنگ کا سلسلہ گزشتہ پانچ سال سے جاری ہے۔ ریڈکریسنٹ کے ایک ذریعہ نے بتایا کہ امدادی قافلوں کا پہلا قافلہ باغیوں کے قبضہ والے شیعہ مواضعات فعا اور کفرایا کو روانہ ہوگا اور ان کے علاوہ مدایا اور زبادانی مواضعات کو بھی امدادی قافلہ روانہ کیا جائے گا۔ آخرالذکر دونوں مواضعات کا فوج نے محاصرہ کر رکھا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ جنگ بندی کے لئے جو مذاکرات کی جائیں گی، ان میں پیشرفت کے لئے انسانی بنیادوں پر بھیجی گئی، امداد بھی اہم رول ادا کرے گی لیکن فریقین (حکومت شام اور باغی افواج) کا یہ ماننا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ پر عمل آوری مشکل ہے۔

عالمی سطح پر دُنیا کے 17 ممالک اس بات کے خواہاں ہیں کہ شام میں اندرون ایک ہفتہ جنگ بندی ہوجائے جو دراصل گزشتہ جمعرات کو میونخ میں کئے گئے ایک معاہدہ سے مشروط ہے جس میں جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ایک ایسی جنگ میں جس میں اب تک 12,60,000 افراد لقمۂ اَجل بن چکے ہیں لیکن پیر کو پانچ ہاسپٹلس اور دو اسکولس پر جو بمباری کی گئی ہے، اس نے انسانیت کو بھی شرمندہ کردیا اور سب سے اہم اور المناک بات یہ ہے کہ ان حملوں کی وجہ سے شام میں جنگ بندی کے آثار اب دور دور تک معدوم ہوگئے۔ بہرحال اب امن مذاکرات کے لئے 25 فروری کی تاریخ ضرور مقرر کی گئی ہے جس کے بعد حالات کیا رخ اختیار کریں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ امن مذاکرات جنیوا میں ہوگی۔ اقوام متحدہ میں شام کے قاصد بشر جعفری نے بھی کل انتباہ دیا تھا کہ شام میں جنگ بندی کے لئے ایک ہفتہ سے زائد کا عرصہ درکار ہے۔

TOPPOPULARRECENT