Friday , September 22 2017
Home / دنیا / شام کی جیلوں میں چار برس میں تقریباً 18 ہزار ہلاکتیں :رپورٹ

شام کی جیلوں میں چار برس میں تقریباً 18 ہزار ہلاکتیں :رپورٹ

طرابلس ۔ 18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں زیر حراست افراد پر مبینہ طور پر جیلوں میں تشدد اور عصمت ریزی باعث چار برس میں تقریباً 18 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق سرکاری جیلوں میں ہونے والی یہ ہلاکتیں 2011 سے 2015 کے درمیان ہوئی ہیں۔ ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ اس کی رپورٹ میں 65 کے قریب ان افراد کے انٹرویو شامل ہیں جنھیں خود ’تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا،‘ اور انہوں نے حراستی مراکز اور جیلوں میں ہونے والے خوفناک پرتشدد واقعات کے بارے میں بتایا ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری سے درخواست کی ہے کہ وہ شام پر تشدد کا استعمال ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں تاہم شامی حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ ایمنیسٹی کی جانب سے یہ رپورٹ جمعرات کے روز شائع کی گئی ہے جس کا نام ’اٹ بریکس دا ہیومن‘ ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق مارچ 2011 سے 2015 کے درمیان شامی صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کے آغاز کے بعد سے 17723 سے زائد قیدی ہلاک ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس تناسب سے ہر روز دس اور ہر ماہ تین سو کے قریب لوگ مر رہے ہیں۔ اکثر قیدیوں کو جیلوں میں آنے کے بعد محافظوں کی جانب سے شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے ’استقبالیہ پارٹی‘ کہا جاتا ہے۔ جس کے دوران خاص طور پر خواتین کو مرد محافظوں کی جانب سے عصمت ریزی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT