Saturday , September 23 2017
Home / دنیا / شام کی معیشت کیلئے جنگ بڑی تباہی، بچے شدید متاثر

شام کی معیشت کیلئے جنگ بڑی تباہی، بچے شدید متاثر

بیروت ، 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایک نئے مطالعاتی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ شام میں جاری جنگ نے وہاں کی معیشت پر کتنے تباہ کن اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس جائزے کے مطابق اس جنگ کے معاشی اثرات نے سب سے زیادہ وہاں کے بچوں کو متاثر کیا ہے۔ شام میں 15 مارچ 2011ء کو شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے اُس خانہ جنگی کا نقطہ آغاز ثابت ہوئے، جس میں اب تک دو لاکھ ستر ہزار افراد ہلاک اور کئی ملین بے گھر ہو چکے ہیں۔ رواں ہفتے جائزہ کے نتائج جاری کئے گئے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پانچ برسوں سے جاری اس خونریز تنازعے میں پیداوار اور خدمات کے شعبے میں ہی ماہانہ ساڑھے چار ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس جائزے کو ’دی کاسٹ آف کنفلکٹ فار چلڈرن‘ (تنازعے سے بچوں کو پہنچنے والے نقصانات) کا عنوان دیا گیا ہے اور اسے بچوں کی بہبود کیلئے سرگرم ایک عیسائی ادارہ ’ورلڈ ویژن انٹرنیشنل‘ نے مشاورتی ادارہ ’فرنٹیئر اکنامکس‘ کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔ اس جائزہ کے مطابق 2011ء  سے لے کر اب تک شام کو 275 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے اور اگر یہ جنگ 2020ء  تک جاری رہی تو یہ نقصان بڑھ کر 1.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ تنازعہ اسی سال ختم بھی ہو جاتا ہے، تب بھی اس ملک کو 448 ارب اور 689 ارب ڈالر کے درمیان معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزید یہ کہ شام میں امن قائم ہو جانے کے بعد بھی کھنڈر ہو چکی معیشت اور اقتصادی ڈھانچے کی بحالی اور تعمیرِ نو کیلئے کئی برس درکار ہوں گے۔ ایک اندازے کے مطابق شام کو اپنی فی کس مجموعی آمدنی میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کیلئے دس تا پندرہ سال کا عرصہ درکار ہو گا۔

TOPPOPULARRECENT