Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / شام کے بحران کے حل کی تلاش

شام کے بحران کے حل کی تلاش

سید عبدالقدیر عزم
بات چیت کے درمیان ایک نمایاں پیش رفت یہ ہوئی کہ بین الاقوامی شام کے تائیدی گروپ نے 14 نومبر کے اجلاس کے دوران اتفاق کیا ہے کہ شام کی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں نے یکم جنوری 2016 کو ایک اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اقوام متحدہ کی زیر سرپرستی بات چیت کی جائے ۔ تائیدی گروپ عملی طور پر شام کی خانہ جنگی میں ملوث براہ راست یا بالواسطہ غیر ملکی حکومت پر مشتمل ہے ۔ اس نے شام کی خانہ جنگی کو غیر مستحکم کرنے کا طریقہ تلاش کرنے کی تحریک دی ہے ۔ ہر گروپ میں اس سمت میں پیشرفت کی جارہی ہے تاہم سنگین رکاوٹیں بھی موجود ہیں جو تیز رفتار سے پیشرفت کے فوائد کی اہمیت کم کرسکتا ہے جن کے حصول کی اس گروپ کو امید ہے ۔
تجزیہ
شام کے تائیدی گروپ نے جس امن منصوبہ سے اتفاق کیا ہے ، وہ حسب ذیل ہے ۔ 14 ڈسمبر تک یہ گروپ دوبارہ پیشرفت کا جائزہ اجلاس طلب کرے گا تاکہ اقوام متحدہ یکم جنوری 2016ء کو اپوزیشن گروپس اور حکومت شام کے درمیان بات چیت کو تسلیم کرلے ۔ اس کے لئے 14 مئی 2016 کی تاریخ مقرر کی ہے ۔ حکومت شام اور اپوزیشن گروپس کے دوران جنگ بندی اسی تاریخ سے اخذ ہوگی تاکہ نئے دستور کی تدوین کا عمل گمراہ نہ ہونے پائے اور اس کے آغاز میں تاخیر نہ ہو ۔ 14 مئی 2017 کو نئے دستور کے تحت آزادانہ انتخابات منعقد کئے جائیں گے ۔ ایک نئی حکومت تشکیل دی جائے گی ۔ امید ہے کہ یہ ملک میں جنگ کا خاتمہ کردے گی ۔

بین الاقوامی شامی تائیدی گروپ کا مقصد یہ ہے کہ شام کی خانہ جنگی میں ملوث تمام غیر ملکی گروپس ملک کی خانہ جنگی ختم کرنے کے ایک معاہدہ سے اتفاق کرلیں ۔ بعد ازاں اسے شامیوں کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی ہے کہ اس سے جنگ بندی میں سہولت ہوگی ۔ بین الاقوامی شامی تائیدی گروپ میں شامل عناصر بات چیت جاری رہنے کے دوران ناراض فریقین کو سربراہی بند کردیں گے ۔ تازہ ترین گروپ کے پرعزم مقصد کے باوجود اب بھی اس کا ایک دن نہیں ہے کہ اس کے نتیجہ میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ حسب ذیل مسائل بحران کا حل تلاش کرنے کی مزید پیشرفت کو روک دے گی ۔
شامی شرکاء
یہ حقیقت کہ بات چیت میں حکومت کے وفاداروں یا باغیوں کے گروپ میں سے کسی کے بھی نمائندے کو شامل نہیں کیا گیا ، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انتشار کا آغاز ہوگیا ہے جو امن کی کارروائی کو ناکام بنادے گا ۔ امریکہ اور دیگر ممالک جو بات چیت میں شرکت ہیں چاہتے ہیں کہ تصادم بات چیت کے دوران اقل ترین ہوجائے تاکہ بات چیت میں شامل طاقتوں کا بین الاقوامی گروپ شام کے کلیدی عناصر کو متفقہ پیغام دے سکے ۔ تاہم ، یہ حقیقت برقرار ہے کہ غیر ملکی طاقتوں کے لئے مشکل ہوگا کہ اتفاق رائے کریں ۔ شام میں متحارب فریقین کے لئے یہ اور بھی زیادہ مشکل ہوگا ۔ خانہ جنگی کو ہوا دینے والی مختلف نظریات مقاصد کی حامل مسلح افواج شام میں تعینات ہیں ۔

اپوزیشن کی تصویر
معاہدہ طے کرنے میں حائل مشکلات میں سے ایک اس ابتدائی مرحلہ میں بھی یہ ہے کہ اپوزیشن گروپس میں سے کون قیادت کرے گا ۔ بات چیت میں اپوزیشن کے نمائندہ کے طور پر شامل ہونا تو بعد کی بات ہے جوب بھی بات چیت ہوگی ۔ یہاں تک کہ باعیوں کی حامی طاقتیں بھی نمایاں اختلاف رائے رکھتی ہیں ۔ مثال کے طور پر امریکہ چاہتا ہے کہ آزاد شامی فوج کو بات چیت میں باغیوں کا نمائندہ سمجھا جائے ۔ تاہم تازہ ترین اطلاع کے مطابق امریکہ نے سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے دباؤ کے تحت احرارالشام کو بنیادی گروپ تسلیم کرنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔
کرد مسئلہ ایک اور ایسا مسئلہ ہے جو اب تک حل نہیں ہوسکا ۔ اس بات کا بھی امکان نہیں ہے کہ اس معاہدہ کو قطعیت دینے کے بعد بھی جو اجلاس منعقد ہوگا یہ مسئلہ حل ہوسکے گا ۔ ترکی یقیناً شامی کردوں کو آئندہ بات چیت میں نمایاں کردار دینے کی مخالفت کرے گا جبکہ کرد بلاشبہ اعظم ترین خود مختاری کا مطالعہ کریں گے ۔ یہ باغیوں اور وفادار گروپس کے موقف کے برعکس ہوگا ۔
غالباً عظیم ترین رکاوٹ غالباً مسلح باغی گروپس کی تعداد ہے جو خانہ جنگی میں شریک ہیں ۔ بہت چھوٹے سے لے کر بہت سے بڑے گروپس تک جیسے کہ اسلام کی فون ، احرار الاسلام سے لے کر وسیع تر آزاد شامی فوج تک سینکڑوں گروپس خانہ جنگی میں شامل ہیں ۔ بات چیت میں باغیوں کے موقف کے بارے میں صدر شام بشار الاسد کی اقتدار سے بے دخلی کے مسئلہ پر اتفاق رائے ہونے کا امکان بہت کم ہے ۔ اس مسئلہ پر خود بات چیت کی اہمیت کم ہونے کا خدشہ ہے ۔
دہشت گردوں کی فہرست

باغی گروپس اور حکومت شام کے درمیان سودے بازی کے ذریعہ کسی معاہدہ کے طے پاجانے کی صورت میں بھی خانہ جنگی بند ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ دو بڑے دہشت گرد گروپس جیسے دولت اسلامیہ اور جبار النصرۃ دوبارہ متحد ہوجائیں گے ۔ دولت اسلامیہ کا یہ اٹل موقف ہے کہ شام کی تمام مسلح افواج اس کی دشمن ہیں ۔ پیرس میں اس گروپ کے حملوں نے بھی شام کیہ بحران کا خاتمہ کردیا ہے جو سب سے زیادہ مطلوب تھا ۔ حالانکہ یہ مسئلہ ہمیشہ سے عاجلانہ توجہ کا محتاج تھا لیکن جبار النصرۃ اور اسی قسم کے دیگر گروپس کی دہشت گردوں کی فہرست میں شمولیت صورتحال کو کہیں زیادہ پیچیدہ بن چکی ہے اور کسی بھی امکانی معاہدہ کے لئے ایک خطرہ بن چکی ہے ۔
کئی باغی گروپس بشمول اسلام پسند گروپ احرار الاسلام اور بڑی حد تک سیکولر آزاد شامی فوج سرگرم ہیں اور امکان ہے کہ جبار النصرۃ جیسے گروپس کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ اپنی توسیع کریں گے ۔ اس طرح ان گروپس کا دیگر دہشت گرد گروپس کے ساتھ اتحاد ختم ہوجائے گا ۔ یہ اتحاد نظریاتی طور پر عارضی ہوگا یا مستقل یہ کہنا مشکل ہے ۔ حکومت کی وفادار افواج کے خلاف جنگ بند کرکے جبار النصرۃ جیسے دہشت گرد گروپس پر بندوقیں تان لینا باغیوں کے لئے مشکل ہوگا ۔
ساتھ ہی ساتھ جبار النصرۃ پر حملے جاری رکھنا ایک تنگ اور واضح طور پر پرہجوم میدان جنگ میں باغی گروپس کے ساتھ بات چیت کی اہمیت کم کرسکتا ہے کیونکہ اس سے دیگر باغی گروپس کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ روسیوں نے بھی قبل ازیں آزاد شامی فوج کی حلیف جبار النصرۃ سے اتحاد کیا تھا اور دعوی کیا تھاکہ وہ متحدہ کارروائیںا کریں گے چنانچہ دونوں ایک ہی ہیں ۔ روسیوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں اعظم ترین تعداد میں دہشت گرد گروپس کی شمولیت سے گہری دلچسپی ہے ۔ اندیشہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں مزید دہشت گرد گروپس بات چیت سے ترک تعلق رکھیں گے ۔

آخر کار جبار النصرۃ واحد انتہا پسند گروپ ہوگا جو باغیوں کے منظرنامہ میں روس کا اتحادی ہوگا ۔ دعوت اسلامیہ بھی ایک اور انتہا پسند گروپ ہے جس نے دیگر باغیوں سے اتحاد نہیں کرے گا بلکہ اپنے بل بوتے پر حکومت کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا ۔ جہادی گروپس جیسے جند انصار الدین اور جند الاقصی کا یہ موقف برقرار رہے کیونکہ ان کے نظریات بھی اسی قسم کے بلکہ اس سے بھی زیادہ انتہا پسند ہیں ۔ یہ تمام گروپس جنگ بندی کے خلاف ہیں ۔ خاص طور پر اس جنگ بندی کے جس پر غیر ممالک کی جانب سے زور دیا جائے ۔ وہ اپنے نظریات پر قائم رہیں گے چاہے حکومت کے وفادار اور باغی امن کی بحالی کے مقصد سے متحد ہی کیوں نہ ہوجائیں ۔
تائید ختم کردینا
اس تنازعہ میں ناراض عناصر پر جنگ بندی سے اتفاق کرنے کے لئے زور دینے کے مقصد سے ان کی رسد اور تائید ختم کردینا اسی حقیقت کی وجہ سے پیچیدہ ہوجائے گا کہ بین الاقوامی شامی تائید گروپ کے ارکان خود بھی سرگرم شرکت اس تنازعہ میں کررہے ہیں ۔ ایران اور روس میں مقابلہ کی صلاحیت کے ساتھ میدان میں ہیں جبکہ امریکہ شامی جمہوری فوج اور اس کے حلیفوں کی تائید کے ذریعہ اپنے وجود کا احساس دلانے میں اضافہ کررہا ہے ۔ یہ اور دیگر ممالک جیسے کہ ترکی اور سعودی عرب دعوی کرسکتے ہیں کہ ان کی تائید جو انھوں نے نیابتی طور پر اپنے پسندیدہ گروپس کو تائید فراہم کرکے کی ہے ، حکومت کی وفادار فوج یا باغیوں کے خلاف نہیں بلکہ دولت اسلامیہ کے حلاف تھی یا پھر اسے الحاق رکھنے والے گروپس جبار النصرۃ کے خلاف تھی ۔ تمام فریقین کے مفادات کسی نہ کسی طرح اس تنازعہ سے وابستہ ہیں جس کی وجہ سے وہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کے پسندیدہ گروپس بہتر موقف میں ہوں اگر وہ مذاکرات کی میز پر کبھی پہنچیں ۔ اس لئے رسد کی سربراہی کو مکمل طور پر بند کرنے بہت مشکل ہوجاتا ہے ۔

علاوہ ازیں بین الاقوامی شامی تائید گروپ نے اپنی کارروائی میں دانستہ طور پر صدر شام کے مستقبل کے بارے میں سوال کو تازہ ترین اجلاس میں نظر انداز کردیا ۔ گروپ کے ارکان نے فوری اعتراف کیا کہ بشار الاسد کے موقف کے بارے میں صف بندی ہورہی ہے ۔ کئی کواندیشہ ہے کہ اس مسئلہ کو اٹھانے سے ترقی کے آغاز سے پہلے ہی اس کی اہمیت کم ہوجائے گی ۔ تاہم اس سے صرف یہ اجاگر ہوتا ہے کہ اس کارروائی کے دوران کئی تنازعات حل کرنا ابھی باقی ہے ۔
آخری بات یہ کہ روس اور ایران صدر بشارالاسد کی قیادت اس وقت تک یقینی بناتے رہیں گے جب تک کہ ان کے مقاصد کی تکمیل ہوتی رہے ۔ لیکن بشارالاسد کو اقتدار سے دستبرداری کی ترغیب دینا اسی وقت شروع کیا جائے گا جب انھیں یقین ہوجائے کہ بات چیت کی پیشرفت ان کے حق میں ہے ۔ لیکن موجودہ مرحلہ پر اب بھی درپیش روکاٹیں اس امکان کو بعید از قیاس بنارہی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT