Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / شام کے شہر حمص پر دوہری بمباری سے 46 افراد ہلاک

شام کے شہر حمص پر دوہری بمباری سے 46 افراد ہلاک

روس کا مزید دھاؤں کا عہد ‘ اپوزیشن کی صلح کی شرائط ‘ جنگ بندی کے امکانات موہوم
بیروت۔21فبروری( سیاست ڈاٹ کام) دوہرے کار بم حملے سے شام کے وسطی شہر حمص میں کم از کم 46 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے ۔ انسانی حقوق کی نگرانکار تنظیم شامی رصدگاہ کے بموجب مہلوکین کی بیشتر تعداد شہریوں پر مشتمل تھی ۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کا اندیشہ ہے ‘ کیونکہ بعض زخمی تشویشناک حالت میں ہیں ۔ دریں اثناء روس نے عہد کیا کہ حکومت شام کی تائید میں بمباری جاری رکھے گا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی جائے گی ‘ اس طرح اپوزیشن کی جنگ بندی کی امیدیں ناکام ہوگئیں ‘ کیونکہ اس سے صرف حکومت شام اور اس کے حامیوں کو فائرنگ بند کرنے میں مدد مل سکے گی ۔ عالمی طاقتیں دشمنیوں کے خاتمہ پر زور دیتے آرہی ہے تاکہ تازہ سودے بازی جس کا مقصد شام کی پانچ سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہو لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صلح ناممکن ہے ۔ جب کہ زمینی لڑائی میں شمالی شام میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ روس اور ترکی حمایت یافتہ اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔  اقوام متحدہ کی زیر قیادت جنگ بندی مذاکرات ہفتہ کے دن مقرر تھے جنہیں غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے تازہ اندیشے پیدا ہوگئے ہیں ۔ روسی اور امریکی عہدیدار جنگ بندی کے نفاذ کی تفصیلات کا تعین کرنے سے قاصر رہے ‘ کوششیں جاری ہے تاکہ شام کی خانہ جنگی کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جائے ۔ مذاکرات جاریہ ماہ کے اوائل میں ناکام ہوگئے تھے ۔

امریکی سفیر اسٹیفن ڈی مسٹورا نے کہا تھا کہ 25فبروری کو بات چیت کے احیاء کا منصوبہ درحقیقت ممکن نہیں ہے ۔ کئی گروپس شمالی شام کی سرزمین کیلئے آپس میں برسرپیکار ہے ۔ روس نے عہد کیا ہے کہ صدر بشارالاسد کی تائید میں فضائی حملے جاری رکھے گا جب کہ حکومت شام شہر حلب کے علاقہ پر اپنی فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ روس نے کہا کہ اسے شام ۔ ترک سرحد پر کشیدگی میں اضافہ پر تشویش ہے کیونکہ ترکی کرد زیرقیادت افواج پر شمالی شام میں شل باری جاری رکھے ہوئے ہے جس کا الزام وہ انقرہ میں ایک بم حملے کے سر باندھتا ہے جس سے کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ صدر بشارالاسد نے ترکی پر جوابی تنقید کرتے ہوئے اسپینی روزنامہ ’’ ایل پائیز‘‘ سے کہا کہ وہ جنگ بندی کیلئے تیار ہیں لیکن اگر دہشت گرد اس کے مثبت فروغ کا استحصال نہ کریں ۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک کو خاص طور پر ترکی کو اپنے مزید فوجی روانہ کرنے سے روکنا اس جنگ بندی کا مقصد ہوگا ۔ زیادہ تعداد میں دہشت گرد ‘ زیادہ اسلحہ یا کسی قسم کی دفاعی تائید ان دہشت گردوں کو پیش کی جائے تو جنگ بندی ناکام ہوسکتی ہے ۔ اسپینی روزنامہ کی ویب سائٹ پر اس سلسلہ میں ایک بیان شائع کیا گیا ہے ۔ شام کی اپوزیشن سے بات چیت کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی مذاکرات کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ وہ عارضی صلح سے متفق ہیں بشرطیکہ حکومت شام فائرنگ کا سلسلہ بند کردے ۔ ریاض حجاب نے کہا کہ جنگ بندی بین الاقوامی ثالثی کے ذریعہ طئے پانی چاہیئے اور اس بات کی طمانیت روس ‘ ایران اور فرقہ پرست عسکریت پسندوں اور کرایہ کے فوجیوں کی جانب سے جنگ روک دینے کا تیقن حاصل ہونا چاہیئے ۔ اس وقت تک صلح نہیں ہوسکتی جب تک کہ جھڑپیں تمام فریقین کی جانب سے بیک وقت روک دی جائیں ۔ محاصرہ اٹھالئے جائیں ‘ انسانی بنیاد پر امداد مستحق افراد خاص طور پر قیدیوں ‘ خواتین اور بچوں تک پہنچائی جائے اور انہیں آزاد کردیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT