Tuesday , September 26 2017
Home / دنیا / شام کے نجات دہندہ کے بطوریاد رکھے جانے کی خواہش

شام کے نجات دہندہ کے بطوریاد رکھے جانے کی خواہش

صدر بشارالاسد کا بیان ‘ اسپینی روزنامہ ’ایل پائیز‘ کو صدر شام کا انٹرویو
میڈرڈ۔21فبروری ( سیاست ڈاٹ کام )صدر شام بشارالاسد نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ شام کو بچانے والے کی حیثیت سے تنازعہ کے آغاز سے 10سال تک یاد رکھے جائیں ۔ اسپینی روزنامہ ’’ ایل پائیز ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بشارالاسد نے جن کا حشر کلیدی حیثیت رکھتا کیونکہ وہ اقتدار پر برقرار رہنے کی کوشش کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں شام میں خونریز خانہ جنگی شروع ہوگئی ہے جو چھٹے سال میں داخل ہوچکی ہے ۔ ایک بڑا سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا انہیں اب بھی اقتدار پر برقرار رہنے کیلئے اصرار کرنا چاہیئے لیکن باغی اور ان کے بین الاقوامی حامی جیسے ترکی اس موقع کو اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کا موقع سمجھتے ہیں اور اسے ضائع کرنا نہیں چاہتے ۔ بشارالاسد کا انٹرویو آج اسپینی روزنامہ کی ویب سائیٹ پر شائع کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ 10سال میں اگر وہ بحیثیت صدر شام کو بچاسکتے تو ضرور بچالیتے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ آئندہ دس سال تک صدر شام بنے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اپنے آئندہ دس سال کیلئے نظریہ کی بات کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر شام محفوظ اور خوشحال ہو اور انہیں ملک کو بچانے والے کی حیثیت سے یاد رکھا جائے تو کافی ہوگا ۔

یہی اب ان کا کام ہے ‘ یہی ان کا فرض ہے ۔ اگر شامی عوام مجھے اقتدار پر برقرار رکھنا چاہیں تو میں برقرار رہوں گا اگر وہ میری برخواستگی چاہتے ہیں تو میں کوئی جوابی کارروائی نہیں کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کی مدد نہیں کرسکتے اس لئے انہیں فوری اقتدار سے دستبردار ہونا چاہیئے ۔ عالمی طاقتیں شام میں خودساختہ جنگ بندی کیلئے اصرار کررہی ہیں تاکہ امن مذاکرات کا احیاء کیا جاسکے لیکن صلح ناکام ہوچکی ہے کیونکہ زمینی جنگ میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ 12فبروری کو اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے معاہدہ سے پہلے صدر شام بشارالاسد نے عہد کیا تھا کہ پورے ملک پر اپنا قبضہ بحال کریں گے ۔ ایل پائیز سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ جنگ بندی کیلئے تیار ہیں لیکن دہشت گردوں کی جانب سے اس کا استحصال کرتے ہوئے اپنے موقف کو بہتر نہیں بنانا چاہیئے ۔

TOPPOPULARRECENT