Wednesday , October 18 2017
Home / مضامین / شام کے پناہ گزین

شام کے پناہ گزین

غضنفر علی خان
’’یارب یہ تیرے سادہ لوح بندے کہاں جائیں‘‘
شام سے لاکھوں کی تعداد میں شامی شہرت رکھنے والے باشندے وہاں کی جنگ کے حالات سے خوف کھا کر اپنی جان بچانے کے لئے یوروپی ممالک میں پناہ لینے کے لئے اپنے گھر بار اور متاع عزیز چھوڑ کر چلا نکلے ۔ یہ پناہ گزینوں کا اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ ساری دنیا اس کی لپیٹ میں آگئی ہے ۔ یہ شامی پناہ گزین اپنی زندگی بچانے کی خاطر جہاں بھی پناہ مل سکتی ہے، جانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ وہ عرب ہیں ۔ ان کی زبان ، ان کی تہذیب ، ان کی تاریخ سب کچھ ایک ہے ۔ اس کے باوجود انھیں اپنے وطن سے نکلنے پر حالات نے مجبور کردیا ہے ۔ لاکھوں کی تعداد میں شام سے کوچ کرنے والے یہ لوگ اگر یوروپ کے کسی ملک میں پناہ بھی لے لیں یا کوئی مغربی ملک انہیں سیاسی پناہ دے کر اپنے ملک میں رہنے کی اجازت بھی دیدے تو کیا عیسائیوں کی غالب اکثریت رکھنے والے یہ مغربی ممالک انھیں اپنے اسلامی عقیدہ پر قائم رہنے دیں گے ۔ بنیادی طور پر لاکھوں پناہ گزین عرب مسلمان ہیں ۔ ڈر اس بات کا ہے کہ یوروپی ممالک انھیں پناہ دے کر ان سے انکا دین و ایمان کا سودا کرسکتے ہیں ۔ یہ محض اندیشہ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا سامنا عالم عرب اور عالم اسلام کو مستقبل قریب میں کرنا پڑسکتا ہے ۔ لاکھوں باشندوں کا یوں مرتد ہونا دین مبین کے لئے کتنا بڑا نقصان ہوگا ۔ پوپ نے یونہی پناہ گزینوں کی حمایت نہیں کی کہ ’’مغربی ممالک کو ان پناہ گزینوں کے لئے اپنے دروازے کھول دینے چاہئے‘‘ ۔ پچھلے کئی برسوں میں کسی ملک سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی نہیں کیا تھا ۔ لیکن یہ نقل مکانی کسی بیرونی حملے یا تشدد کی وجہ سے نہیں ہوئی ۔ یہ وہ مظلوم ہیں جن پر ان ہی وطن والوں نے عرصۂ حیات تنگ کردیا تھا ۔ یہ پناہ گزین کسی جنگ کے متاثرین بھی نہیں ہیں ۔ یہ تو اپنے ملک میں شروع ہوئی لامختتم ’’خانہ جنگی‘‘ کے شکار ہیں ۔ انھیں کسی دشمن ملک نے اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا ۔ شام میں جاری بے مقصد خانہ جنگی ، داعش کے جور و ستم آسمان سے برستے ہوئے آتشیں بموں ، توپوں کی گھن گرج ، داعش کے خونخوار حامیوں کے جبر و تشدد نے انھیں جان ہتھیلی پر لیکر ترک وطن کرنے پر مجبور کیا ۔ کسی دشمن نے ان کا یہ حشر نہیں کیا بلکہ ان کے اپنوں کے ہاتھوں ہوئی تباہی نے انہیں دیار غیر میں پناہ لینے پر مجبور کیا ۔ کتنی حیرت کی بات ہے ، کس قدر افسوسناک صورتحال ہیکہ عالم عرب ان پناہ گزینوں کی افتاد پر توجہ دینے کے لئے بھی آمادہ نہیں ہے ۔ غیر ممالک ان پر عنایات بے جا کررہے ہیں۔  انہیں کیا مصلحت درپیش ہے ۔ اگر لاکھوں کی تعداد میں یہ پناہ گزین اپنی مجبوری ، بے بسی کسی وجہ سے خدانخواستہ ترک اسلام (نعوذباللہ) کرتے ہیں تو اس کی ذمہ داری مسلمانان عالم اور خاص طور پر عرب ممالک پر عائد ہوگی ۔ ایک فتنۂ ارتداد ہے کہ عالم اسلام پر خوفناک درندہ بن کر ٹوٹ پڑا ہے ۔ یا ٹوٹ پڑنے کو ہے ۔ کیا تاریخ میں ایسی کوئی مثال مل سکتی ہے کہ عالم عرب سے لاکھوں کی تعداد میں اہل عرب نے ترک وطن کیا تھا اور وہ بھی محض اس لئے کہ ملک کی حکومت نے انھیں ایسا کرنے پر مجبور کردیا تھا ۔ جدید تاریخ عرب میں تو اسکی مثال ملنی بہت مشکل ہے ۔ افسوس تو یہ ہے کہ شامی پناہ گزینوں کے ان قاتلوں کو ’’ہجرت کرنے والے بھی نہیں کہا جاسکتا‘‘ ۔ کس مشکل میں پھنس گئے ہیں یہ بے سہارا لوگ ان کا کوئی مستقبل نہیں ، ان کا حال تباہ کن ہے ۔ وہ صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ

متاع دین و دنیا لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی
یوروپ کی مہربانیوں کا ساری دنیا کو غیر جانبدار انداز میں تجزیہ کرنا چاہئے ۔ اہل شام کا یہ ارتداد ، ان کی غلطی نہیں عین ممکن ہے کہ پناہ گزینوں میں بعض راسخ العقیدہ مسلمان بھی ہوں گے لیکن اندیشہ یہ ہے کہ بھاری تعداد میں یہ لوگ عیسائیت قبول کرلیں ۔ اسکا ذکر ابھی میڈیا میں نہیں ہورہا ہے کیونکہ یوروپی ممالک اپنی مذہبی حکمت عملی کو کبھی قبل از وقت آشکار نہیں کرتے ۔ جن کا ہر کام ابتداء میں معمولی لگتا ہے ۔ لیکن بعد میں اسکے اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں ۔ اہل عرب اگر مغربی ممالک میں آج ان کی دریا دلی کو نہیں سمجھ رہے ہیں تو ان کو یہ اندازہ ہونا چاہئے کہ وقت بہت جلد ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا تب کف افسوس ملنے کے علاوہ ان کے پاس کچھ نہیں بچے گا ۔ عیسائیت نے کبھی اہل عرب پر ایسی نوازش نہیں کی تھی ۔ بلکہ اہل اسلام سے تو ان کو خاصی عداوت ہے ۔ انھیں صلیبی جنگیں یاد ہے ۔ ان کے دل میں ان کے ذہنوں میں تاریخ کے وہ واقعات پیوست ہیں ۔ یہ تو زرین موقع ان کے ہاتھ لگا ہے کہ وہ جنگ و جدال سے نہ سہی دنیا میں عیسائیوں کی تعداد بڑھانے کی خاطر کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ خود عالم اسلام سے ’’امّت‘‘ ہونے کا تصور ہی ختم ہوگیا ہے وہ اپنے عقیدہ کو جغرافیائی حدود کا پابند سمجھنے لگتے ہیں ۔ امت کا concept ملک و قوم کے تصور سے کہیں زیادہ عمیق اور وسیع ہے ۔اس تصور میں کبھی بھی علاقائی احساس نہیں آتا ۔ یہ پیام دنیا کو مسلمانوں ہی نے دیا تھا کہ ’’سب انسان اہل اللہ ہیں سب اسی اللہ کی مخلوق ہیں جو کائنات کا خالق ہے ۔ آج شام سے عرب ، جرمنی ، یونان اور دیگر یوروپی ممالک کو جانا چاہتے ہیں تو اسلام کی تعلیمات کا اثر کہاں رہا ۔ یہ تو اور بھی حیرت انگیز بات ہے کہ عربوں کے کسی گروہ (داعش کے جور و ستم سے تنگ آکر شامی پناہ گزین یوروپ کو اپنا وطن بنانا چاہتے ہیں کوئی خلیجی ملک نہیں ہے جو انھیں اپنی پناہ میں لے لے ۔ ان کی اجڑی ہوئی دنیا پھر سے آباد کرے ۔ یوروپ کے جن ممالک میں پناہ کی تلاش کررہے ہیں وہ ممالک بطور خاص مشرقی یوروپ کے ممالک خود بھی معاشی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں شامی پناہ گزینوں کو ہمیشہ کے لئے جگہ دیں ۔ اگر فی الحال یہ ممالک اسکے لئے آمادہ ہیں تو اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے ۔ خلیج کے چھوٹے چھوٹے ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں ۔ ان کی معیشت مضبوط ہے ۔ یہ ممالک کم از کم عارضی طور پر بے گھروں کو گھر بھر کوئی روٹی فراہم کرسکتے ہیں لیکن سب کے سب تماش بین ہیں ۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اپنا وطن چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں آباد ہونا اتنا آسان نہیں ہے  ۔دنیا میں اسی مثالیں ضرور ہیں جن میں تارکان وطن کے کسی دوسرے ملک میں آباد ہونے کا تذکرہ ملتا ہے لیکن ان کو کبھی ان ممالک نے برابر کا شہری نہیں سمجھا ۔ مائنمار کے روہنگیا آبادی کو دیکھئے کہ آج برسوں کے بعد بھی انھیں مائنمار دھتکار رہا ہے ۔ ان پر بھی اللہ کی زمین تنگ کردی گئی ہے ۔ فلسطینی اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے کئی ممالک بشمول عرب ممالک میں منتشر ہوگئے لیکن انہیں کسی بھی ملک میں سکون نصیب نہیں ہوا ۔ ہندوستان کی ریاست آسام میں بنگلہ دیشی تارکان وطن آج بھی ہندوستان اور بنگلہ دیش دونوں کے لئے ناپسندیدہ ہیں ۔ پاکستان کی مثال لیجئے ۔ آج بھی برصغیر کی تقسیم کے بعد وہاں مہاجر کن کن دشواریوں کے شکار ہیں انھیں 67 برس بعد بھی اپنے حقوق کے لئے لڑنا پڑرہا ہے۔ آج خانہ جنگی کی وجہ لاکھوں شامی پناہ گزین اگر ترک وطن کرکے مغربی ممالک میں بس جائیں تو ان کی کیا شناخت ہوگی وہ برسوں بعد بھی تارکان وطن ہی کہلائیں گے ۔ اس وقت جو صورتحال پیدا ہوگئی ہے وہ انتہائی دردناک ہے جس کو بہت بڑا انسانی سانحہ کہا جائے گا اور وطن ترک کرنے والوں کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT