Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / شان رسالتؐ میںگستاخی مسلمانوں کیلئے ناقابل برداشت

شان رسالتؐ میںگستاخی مسلمانوں کیلئے ناقابل برداشت

عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کو متاثر ہونے سے بچانا حکومت کی ذمہ داری‘ مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند کا بیان

ظلم و زیادتی کے ذریعہ جنت نہیں مل سکتی
نوجوانوں میں شعور بیدار کرنا زعمائے ملت کی ذمہ داری
اسلام کو بدنام کرنے داعش کو معروف بنانے کی کوشش
امریکہ اگر چاہے تو چند گھنٹوں میں اس تنظیم کو ختم کرسکتا ہے
حیدرآباد ۔ 14 ڈسمبر (سیاست نیوز) شان رسالت ؐ میں گستاخی کے مرتکبین کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئے۔ دستوری حدود میں رہتے ہوئے گستاخان کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے حکومت کی توجہ مبذول کروانے کی ضرورت ہے۔ مولانا سید جلال الدین انصر عمری امیر جماعت اسلامی ہند نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کملیش تیواری کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اسے سزاء دی جائے چونکہ مسلمان اس عظیم ہستی کی شان میں قطعی گستاخی برداشت نہیں کرسکتے جس ہستی نے دنیا کو دورجہالت کے اندھیروں سے نکال کر انسانیت کا درس دیا۔ انہوں نے مذہبی پیشواؤں و رہنماؤں کے خلاف ہونے والی بیان بازی اور بہتان تراشیوں کے خلاف قانون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے قانون کی تیاری پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے جو عظیم مذہبی شخصیات کی عظمت کو پامال ہونے سے محفوظ رکھے اور اس طرح کی گستاخیوں کے مرتکب افراد کو سخت سزاء دلوا سکے۔ مولانا جلال الدین عمری آج جماعت اسلامی ہند کے چار روزہ اجتماع کے اختتام پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہوچکی ہے اور اس صورتحال میں حکومت کی یہ ذمہ داری ہیکہ وہ عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہہ کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے ضروری اقدامات کرے۔ مولانا نے حکومت بہار کی جانب سے مکمل نشہ بندی کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند بالخصوص حکومت تلنگانہ کو بھی اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے شراب سے پاک ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنے چاہئے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مولانا ٹی نصرت علی، انجینئر محمد سلیم، جناب حامد محمد خان، حافظ محمد رشاد الدین، جناب خالد مبشرالظفر کے علاوہ دیگر ذمہ داران جماعت موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے داعش کو مغربی قوتوں بالخصوص امریکہ و اسرائیل کی جانب سے تیار کردہ قوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ داعش کے متعلق جو اطلاعات ہم تک پہنچ رہی ہیں۔ اگر وہ سچ ہے تو اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن عمومی اعتبار سے جو حالات دیکھے جارہے ہیں اس سے یہ اندازہ ہورہا ہیکہ مخالف اسلام قوتوں کے ہاتھوں یہ تنظیم کھلونا بنی ہوئی ہے۔ مولانا نے بتایا کہ اسلام اور اسلامی نظریات کو بدنام کرنے کی غرض سے اس تنظیم کو اتنا معروف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ اگر امریکہ چاہے تو چند گھنٹوں میں اس تنظیم کو ختم کرسکتا ہے۔ مولانا جلال الدین انصر عمری نے واضح کیا کہ ظلم و زیادتی کے ذریعہ جنت نہیں مل سکتی۔ جو نوجوان داعش کی بیوقوفیوں کا شکار ہوتے ہوئے اس راہ پر چل رہے ہیں وہ دراصل جہنم کی طرف جارہے ہیں۔ والدین اور زعمائے ملت کی یہ ذمہ داری ہیکہ وہ ان نوجوانوں میں شعور بیدار کریں۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے بتایا کہ جب امریکہ اپنے اتحادی افواج کے ساتھ لیبیا، عراق اور افغانستان کو تباہ کرسکتا ہے تو ایک مختصر حصہ پر قابض گروہ کو تباہ کرنے سے کیوں کترا رہا ہے؟ مولانا نے بتایا کہ امریکہ اور روس کے درمیان جاری لفظی جنگ بھی سیاسی چال بازی نظر آرہی ہے اور ایسا محسوس ہورہا ہیکہ دونوں ہی متحدہ طور پر مسلم مملکتوں کو منقسم کرتے ہوئے اپنے تسلط کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔  ( سلسلہ صفحہ7پر)

TOPPOPULARRECENT