Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / شاہد عباسی کی 28 رکنی کابینہ کی حلف برداری

شاہد عباسی کی 28 رکنی کابینہ کی حلف برداری

چار سال کے وقفہ کے بعد پہلے وزیرخارجہ کی حیثیت سے خواجہ آصف کا تقرر

اسلام آباد ۔ 4 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آج اپنی کابینہ کا اعلان کردیا، جس میں خواجہ آصف کو وزیرخارجہ بنایا گیا ہے۔ 2013ء کے بعد خواجہ آصف اس ملک کے پہلے مکمل اختیارات کے حامل ہمہ وقتی وزیرخارجہ ہوں گے۔ صدر ممنون حسین نے 28 وفاقی وزراء اور 18 مملکتی وزیروں کو اسلام آباد کے ایوان صدر میں منعقدہ تقریب میں حلف دلایا۔ نئی کابینہ میں گرچہ اکثر پرانے چہرے دوبارہ لئے گئے ہیں لیکن چند نئے قائدین بھی وزراء اور مملکتی وزیر کی حیثیت سے شامل کئے گئے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے اپنے پیشرو نواز شریف اور صوبہ پنجاب کے چیف منسٹر شہباز شریف کے ساتھ مری میں واقع تفریحی رہائش گاہ میں 6 گھنٹے طویل بات چیت کے بعد اپنی کابینہ کے ارکان اور ان کے قلمدانوں کو قطعیت دی۔ خواجہ آصف قبل ازیں نواز شریف کابینہ میں وزیردفاع تھے اور اب وزیرخارجہ ہوں گے۔ 2013ء کے دوران پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس ملک میں کوئی وزیرخارجہ ہی نہیں تھا۔ اس طرح خواجہ آصف کے تقرر سے قبل حنا ربانی ہی اس ملک کی آخری وزیرخارجہ تھیں جنہیں آصف زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی نے اس عہدہ پر مقرر کیا تھا۔ سابق وزیرمنصوبہ بندی احسان اقبال کو کلیدی وزارت داخلہ دی گئی ہے۔ اسحاق ڈار بدستور وزیرفینانس رکھے گئے ہیں۔ البتہ پرویز ملک نئے وزیرکامرس ہوں گے بجائے خرم دستگیر خاں جو وزارت دفاع کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ ڈار کو بدستور وزیرفینانس برقرار رکھا گیا ہے حالانکہ سپریم کورٹ نے ان کے خلاف رشوت ستانی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ مریم اورنگ زیب اپنے سابقہ عہدہ مملکتی وزیراطلاعات کے ساتھ نئی کابینہ میں برقرار رہیں گی لیکن طاقتور قائد چودھری نثار علی خان کو نئی کابینہ سے باہر رکھا گیا ہے کیونکہ انہوں نے پارٹی کی قیادت سے اختلافات کی بنیاد پر نئی کابینہ میں شمولیت سے انکار کردیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیئے جانے پر نواز شریف نے 28 جولائی کو وزیراعظم کے عہدہ سے استعفیٰ دیدیا تھا جس کے آٹھ دن بعد آج نئی کابینہ کی حلف برداری عمل میں آئی۔ نواز شریف اس عہدہ سے سبکدوشی کے بعد پرفضاء و تفریح گاہ مری کے گیسٹ ہاؤز میں مقیم ہیں جہاں اہم قائدین کی آمدورفت اور سرگرم مشاورتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT