Friday , September 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / شاہین ادارہ جات کی آئی اے ایس تربیتی خدمات قابل ستائش

شاہین ادارہ جات کی آئی اے ایس تربیتی خدمات قابل ستائش

سیول سرویس طلبہ سے فوزیہ ترنم آئی اے ایس کی ملاقات اور خطاب
بیدر 11 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ملک کے معروف شاہین تعلیمی ادارہ جات کی جانب سے ریاست کے دارالخلافہ بنگلور میں واقع شاہین سیول سرویس اکاڈمی میں آئی اے ایس اور آئی پی ایس کی تیاریوں کے پیش نظر امیدواروں کے ٹسٹ امتحان کی تیاری کیلئے تربیت دی جاتی ہے۔ شاہین ادارہ جات نے تعلیم کے فروغ اور مختلف شعبوں میں بہتر نمائندگی کے مقصد سے جن مختلف محاذوں پر کام شروع کیا ہے ان میں آئی اے ایس اور آئی پی ایس کے خواہشمند طلباء کی رہنمائی و تربیت کیلئے ہرممکن کوشش کررہا ہے۔ یہ بات جناب محمد عبدالسبحان سیٹھ انچارج شاہین سیول سرویس اکاڈمی بنگلور نے اکیڈیمی ہذا میں فوزیہ ترنم آئی اے ایس کے دورہ اور طلباء سے ملاقات کے سلسلہ میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب عبدالسبحان سیٹھ نے کہاکہ یونین پبلک کمیشن 2014 ء کے نتائج میں جس طرح سے مسلم طلباء نے کامیابی کا مظاہرہ کیا ہے اسے ہم ایک بہتر دور کا آغاز کہہ سکتے ہیں۔ ہر سال یو پی ایس سی میں مسلم طلباء کی تعداد میں تھوڑا ہی سہی لیکن اضافہ ہورہا ہے۔ خصوصی طور پر مسلم لڑکیاں اس امتحان کے تئیں اپنی دلچسپی، لگن اور محنت کا مظاہرہ کررہی ہیں وہ یقینا قابل تعریف ہیں۔ 2014 ء کے یو پی ایس سی کے امتحان میں ٹاپ 100 میں چار مسلم طلباء نے کامیابی کا پرچم لہرایا وہ ملک و ملت کیلئے فخر کی بات ہے۔ آج ہمارے اکاڈیمی میں طلباء سے خصوصی طور پر دورہ کرنے کیلئے آئیں آئی اے ایس آفیسر جنھوں نے یو پی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والے 1236 امیدواروں میں ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والی فوزیہ ترنم نے 31 واں رینک لاکر ایک مثال قائم کی ہے۔ اس موقع پر شاہین سیول سرویس اکیڈیمی نے جس طرح سیول سرویس کے خواہشمند امیدواروں کیلئے تربیت کا جو بیڑہ اُٹھایا ہے وہ قابل تقلید و قابل ستائش کام ہے۔ آج کے اس دور میں اکثر ہم دیکھ رہے ہیں کہ طلباء پروفیشنل کورسیس میں اپنا مستقبل تلاش کررہے ہیں۔ مگر آج کی تاریخ میں تعلیم کو آگے بڑھانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ملک کے نظام کو چلانے کے لئے آئی اے ایس اور آئی پی ایس کا بہت اہم رول ہوتا ہے۔ فوزیہ ترنم نے کہاکہ انھیں جو کامیابی حاصل ہوئی ہے، اس کامیابی کا سہرا اپنے والدین کو دیتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر میرے والدین میری حوصلہ افزائی نہ کرتے تو آج میں اس مقام پر نہ ہوتی۔ انھوں نے کہاکہ میں بچپن سے ہی آئی اے ایس بننے کے خواب دیکھا کرتی تھی، جو شرمندہ تعبیر ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT