Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / شاہی مسجد باغ عامہ کی موقوفہ اراضی کا مکمل سروے کروانے کی ہدایت

شاہی مسجد باغ عامہ کی موقوفہ اراضی کا مکمل سروے کروانے کی ہدایت

ناجائز قبضہ کی نشاندہی پر زور، محکمہ اقلیتی بہبود کی سروے کمشنر وقف سے خواہش
حیدرآباد۔/26ڈسمبر، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے سروے کمشنر وقف کو ہدایت دی ہے کہ وہ شاہی مسجد باغ عامہ کے تحت موجود اوقافی اراضی کا مکمل سروے کرائے تاکہ اراضی پر ناجائز قبضہ کا پتہ چلایا جاسکے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بتایاکہ شاہی مسجد باغ عامہ کے تحت موجود اوقافی اراضی میں 3362 مربع گز پر محکمہ ہارٹیکلچر کے قبضہ کے بارے میں ’’سیاست‘‘ میں رپورٹ کی اشاعت کے بعد انہوں نے وقف سروے کمشنر کو اراضی کے سروے کی تحریری طور پر ہدایت دی تھی لیکن سروے کمشنر نے ان احکامات پر عمل نہیں کیا۔ لہذا انہوں نے دوبارہ موجودہ سروے کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وقف بورڈ میں موجود سرویئرس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے فوری طور پر اراضی کا سروے کیا جائے تاکہ وقف ریکارڈ میں موجود 13811 مربع گز اراضی کے موقف کا پتہ چلایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سروے میں اگر یہ ثابت ہوجائے کہ 3362مربع گز اراضی پر محکمہ ہارٹیکلچر کا قبضہ ہے تو سرکاری کارروائی کے ذریعہ اس کی بازیابی کی کوشش کی جائے گی۔ وقف ریکارڈ کے مطابق شاہی مسجد کے تحت جملہ 13811 مربع گز اراضی ہے اور چند برسوں قبل کئے گئے سروے میں صرف 10449 مربع گز اراضی کی موجودگی کا پتہ چلا۔ بتایا جاتا ہے کہ مابقی اراضی ہارٹیکلچر نے اپنے استعمال میں لے لی ہے اور مسجد کے اطراف حد بندی کردی گئی تاکہ اس اراضی پر قبضہ مستقل طور پر برقرار کھا جاسکے۔ مقبوضہ اراضی جوکہ وقف ہے اس پر ہارٹیکلچر کے ملازمین نے ایک عارضی مندر تعمیر کرلیا ہے جو مستقبل میں باقاعدہ مندر کی شکل اختیار کرنے کا اندیشہ ہے۔ مسجد کے مصلیوں اور اوقافی اراضیات کے تحفظ کی جدوجہد کرنے والی تنظیموں نے اس جانب وقف بورڈ کی توجہ بارہا مبذول کرائی لیکن وقف بورڈ کے عہدیداروں کو قلب شہر میں موجود اس قیمتی اراضی کے تحفظ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ شاہی مسجد دراصل وقف بورڈ کے ہیڈکوارٹر حج ہاوز سے صرف چند سو میٹر کی دوری پر واقع ہے لیکن وقف بورڈ کے عہدیداروں کے پاس معائنہ کیلئے بھی وقت نہیں۔ جب ہیڈکوارٹر کے قریب وقف اراضی کے تحفظ کا یہ حال ہے تو پھر دوردراز مقامات اور اضلاع میں موجود وقف اراضیات کا تحفظ کس طرح کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہارٹیکلچر ڈپارٹمنٹ کے رویہ سے مسجد کے ملازمین بھی پریشان ہیں اور وہ ناجائز قبضہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود مسجد کے دونوں جانب موجود نیاز خانوں کو اپنی تحویل میں لینے کی مساعی کررہا ہے تاکہ ان عمارتوں کو مسجد کی توسیع کیلئے استعمال کیا جاسکے۔ فی الوقت ان عمارتوں میں ایک خانگی ادارہ موجود ہے جسے وقف ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سابق میں زائد مدت کیلئے لیز پر دے دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک نیاز خانہ کو خواتین کے گوشہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ دوسرا مسجد کی توسیع کیلئے کام آئے گا۔ اسی دوران سکریٹری اقلیتی بہبود نے مکہ مسجد کے نئے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ وہ مسجد کے تحت موجود ملگیات اور مکانات کے کرایہ کی وصولی اور رقم میں بے قاعدگیوں کی جانچ کریں۔ انہوں نے کہا کہ رقم کے بیجا استعمال کیلئے جو بھی قصوروار پائے جائیں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مکانات اور ملگیات کے کرایوں میں اضافہ اور رقم کو اکاؤنٹ میں جمع کرنے کیلئے کمیٹی کی تشکیل کا منصوبہ ہے۔ مکہ مسجد کے احاطہ میں مدرسۃ الحفاظ کے احیاء کیلئے اُمور مذہبی سے بات چیت کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT