Monday , August 21 2017
Home / کھیل کی خبریں / شاہ رخ کیخلاف وانکھیڈے اسٹیڈیم میں داخلہ پر امتناع برخاست

شاہ رخ کیخلاف وانکھیڈے اسٹیڈیم میں داخلہ پر امتناع برخاست

انکیت چوہان پر بی سی سی آئی کے امتناع کو چیلنج نہیں کیا جائے گا ، ممبئی کرکٹ اسوسی ایشن کے فیصلے

ممبئی۔ 2 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی کرکٹ اسوسی ایشن (ایم سی اے) نے آج بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان پر زائد از تین سال سے جاری امتناع برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن داغدار کھلاڑی انکیت چوہان پر بی سی سی آئی کی جانب سے عائد تاحیات امتناع کو چیلنج نہیں کیا جائے گا حالانکہ دہلی کی عدالت نے ان کے خلاف فوجداری مقدمات کو کالعدم قرار دیا ہے۔ آج ایم سی اے کے اجلاس میں یہ دو فیصلے کئے گئے اور نائب صدر اشیش شلر نے یہ تجاویز پیش کی ہے۔ بعدازاں انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج ایم سی اے کے منعقدہ اجلاس میں آئی پی ایل کولکتہ فرنچائز کے مالک شاہ رُخ خاں پر عائد امتناع برخاست کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے صدر شرد پوار سے قبل از وقت منظوری حاصل کرتے ہوئے انہوں نے یہ تجویز پیش کی اور مینیجنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر اسے منظور کیا ہے چنانچہ وانکھیڈے اسٹیڈیم میں شاہ رخ خاں کے داخلے پر امتناع منسوخ کیا جاتا ہے۔ بالی ووڈ سوپر اسٹار شاہ رخ خاں پر ایم سی اے احاطہ بشمول وانکھیڈے اسٹیڈیم میں داخلے پر پانچ سال کیلئے امتناع عائد کیا گیا تھا۔ ایم سی اے مینیجنگ کمیٹی نے اس وقت کے سربراہ آنجہانی ولاس راؤ دیشمکھ کی قیادت میں 18 مئی 2012ء کو شاہ رخ خاں کے خلاف یہ فیصلہ اس وقت کیا تھا جب ان کی سیکیورٹی اسٹاف اور عہدیداروں سے لفظی بحث ہوگئی تھی۔ اس سے دو دن قبل کولکتہ نائیٹ رائیڈرس نے ممبئی انڈینس کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت شاہ رخ خاں سکیورٹی عملے سے الجھ گئے حالانکہ انہوں نے غلط طرز عمل کی تردید کی اور کہا کہ انہوں نے صرف اس وقت یہ ردعمل ظاہر کیا

جب ان کے بچوں کے ساتھ اسٹیڈیم میں سکیورٹی اسٹاف نے غلط برتاؤ کیا تھا۔ شلر نے کہا کہ شاہ رخ خاں کے خلاف اس وقت ضرورت کے حساب سے کارروائی کی گئی لیکن ہمارا یہ احساس ہے کہ امتناع کو مزید برقرار رکھنا بہتر نہیں ہوگا۔ انتظامی کمیٹی نے بھی اجتماعی طور پر بھی اس کی توثیق کی اور ہم سب کا یہ احساس تھا کہ کسی بھی اس طرح امتناع عائد کرنا مناسب نہیں۔ ایم سی اے ذرائع نے بتایا کہ شاہ رخ خاں نے شرد پوار سے ربط قائم کرتے ہوئے امتناع منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔ انتظامی کمیٹی نے آج بعض دیگر فیصلے بھی کئے۔ ایم سی اے نے انکیت چوہان پر امتناع کو چیلنج نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جنہیں دہلی کی عدالت نے گزشتہ ماہ تعزیری الزامات سے بری کردیا ہے۔ شلر نے کہا کہ ایم سی اے کسی ایسے کھلاڑی کے موقع کی تائید نہیں کرے گا

جسے بی سی سی آئی کی اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت قصوروار قرار دیا گیا۔ انکیت چوہان کو مکوکا الزامات سے بری کردیا گیا اور انہوں نے ہم سے درخواست کی تھی کہ بی سی سی آئی کو اس بات کیلئے آمادہ کریں کہ ان پر عائد امتناع برخاست کردیا جائے۔ شلر نے بتایا کہ بی سی سی آئی نے ایم سی اے کو پہلے ہی اس بارے میں ای۔میل کرتے ہوئے اپنا موقف اور حقائق واضح کردیئے تھے چنانچہ ایم سی اے نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انکیت کے خلاف بی سی سی آئی کی کارروائی کو چیلنج نہ کیا جائے۔ اس طرح ہم انکیت چوہان کی درخواست مسترد کرتے ہیں۔ مینیجنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے کھلاڑی کے خلاف کارروائی جاری رکھنی چاہئے کیونکہ عدالت کا فیصلہ صرف مکوکا کے بارے میں ہے۔ انکیت چوہان نے بی سی سی آئی کے فیصلہ کو چیلنج نہیں کیا ہے تو پھر ہم کس طرح ایسا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی سی سی آئی اپنے ہیڈکوارٹرس جو اس وقت وانکھیڈے اسٹیڈیم، جنوبی ممبئی میں واقع ہے۔ مضافاتی باندرہ کرلا کامپلیکس میں ایم سی اے کی ملکیت گراؤنڈ منتقل کرنا چاہتی ہے۔ ایم سی اے نے بی سی سی آئی کو اپنا ہیڈکوارٹر قائم کرنے کیلئے یہ اجازت دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی سی سی آئی نے ایم سی اے سے درخواست اس لئے کی کیونکہ ہم ایرپورٹ سے قریب ہیں چنانچہ ایم سی اے کی جانب سے باندرہ کرلا کامپلیکس میں بی سی سی آئی سنٹر کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایم سی اے مینیجنگ کمیٹی کے ارکان کو وانکھیڈے کے صدارتی گوشہ میں جگہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کیلئے نشستوں کی تعداد کو بڑھاکر 200 تک کردیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT