Tuesday , September 19 2017
Home / اداریہ / شاہ سلمان کا دورہ ایشیاء

شاہ سلمان کا دورہ ایشیاء

خاموشیوں نے میری بہت کچھ کہا مگر
محفل بھی آپ ہی کی تھی، بات آپ کی چلی
شاہ سلمان کا دورہ ایشیاء
خادم حرمین شریفین فرمانروا سعودی عرب شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عالمی سطح پر پھیلتی مخالف اسلام نفرت کی لہر کے درمیان ایشیاء کے ایک ماہ طویل دورے کا آغاز انڈونیشیاء سے کیا۔ امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کے لیڈر ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد عالمی طاقت کے توازن میں اچانک پیدا ہونے والے فرق کے تناظر میں شاہ سلمان کا یہ دورہ غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عالم اسلام کو دیگر ممالک کے ساتھ مضبوط روابط کو فروغ دینا وقت کا تقاضہ سمجھا جارہا ہے تو سعودی عرب کے شاہ کے اس دورہ سے آنے والے دنوں میں کچھ مثبت اور ٹھوس تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں تو ان تبدیلیوں کو دنیائے اسلام کے حق میں بہتر متصور کیا جاسکتا ہے۔ شاہ سلمان انڈونیشیا کے علاوہ ملائیشیا، برونی، جاپان، چین اور مالدیپ کیلئے اپنے سفری منصوبوں کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ اپنے سفر کے پہلے مرحلہ میں ہی انہوں نے دورہ کے مقاصد کا اشارہ دیتے ہوئے شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالم اسلام کی کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیا۔ اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے صرف اسلامی ممالک کو متحد ہونا چاہئے۔ اس سوال کے تناظر میں شاہ سلمان نے اپنے دورہ میں جاپان اور چین کو بھی شامل کیا ہے تو اس کا مطلب یہی اخذ کیا جاسکتا ہیکہ چین اور جاپان کے ساتھ دوستی کو فروغ دے کر مغرب کی جانب سے اٹھنے والی مخالف اسلام لہر کا رخ موڑنے کی ایک کوشش ہوسکتی ہے۔ عالم اسلام کے سامنے بڑھتے چیلینجس تشویشناک ہیں۔ خاص کر مسلم برادری کو اسلام دشمن طاقتوں نے خاص نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ ان طاقتوں سے صرف اور صرف متحد ہوکر ہی مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے شاہ سلمان نے انڈونیشیائی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اسی اتحاد پر زور دیا۔ اسلام کے تعلق سے پھیلائی جارہی گمراہ کن باتوں کو غلط ثابت کرنے کیلئے شاہ سلمان نے اسلام کے رودارانہ حصہ کو فروغ دینے پر توجہ دی کیونکہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف لڑائی میں اسلام کے بنیادی اصولوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اس خصوص میں سعودی عرب کے انڈونیشیاء میں سعودی امداد کے ساتھ اسلامی مراکز قائم کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ عربی کالجس کے قیام کے ذریعہ طلباء کو اسلام کی بنیادی تعلیمات امن و خوشحالی، انسانیت کا احترام کرنے کا درس دیا جائے گا۔ بعض ناقدین نے آج کی دہشت گردانہ لہر کو سعودی عرب کی بعض پالیسیوں اور اس کیلئے خرچ کئے گئے فنڈس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپس کا خیال ہیکہ سعودی عرب سے نکلنے اولے وہابیت نظریہ نے ہی بعض گروپس کو جنگجوانہ رخ اختیار کرنے کا موقع دیا اور یہی مزاج دہشت گردی کے فروغ کا باعث ہے۔ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گردی جیسے واقعات سے رونما ہونے والے چیلنجس نے پریشان کر رکھا ہے۔ اسلام کے قدامت پسندانہ طرز کو فروغ دینے کیلئے مسلم ممالک کو فنڈس کی فراہمی کا جو الزام عائد کیا جاتا رہا ہے اب اسی کی نفی کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ شاہ سلمان کو اپنے اس ایک ماہ طویل دورہ کے دوران عالم اسلام کے حق میں بڑی طاقتوں کی حمایت یکجا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر وہ امریکہ کے مقابلہ دیگر ممالک کو عالم اسلام کے قریب لانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو آئندہ عالم اسلام کے تعلق سے برا سوچنے والے ملکوں کو یکا و تنہا کرنے کی پہل کی جاسکتی ہے۔ شاہ سلمان کے اس طویل دورہ کے بارے میں یہی توقع کی جارہی ہیکہ وہ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑی طاقتوں کو ناکام بنانے کے علاوہ ثقافتی تصادم کے بڑھتے واقعات روکنے ، دیگر ممالک کے مقتدراعلیٰ کا عدم احترام کرنے والی طاقتوں اور داخلی امور میںان کی بیجا مداخلتوں کو ختم کرنے میں اہم رول ادا کریں گے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب شاہ سلمان کے مطابق تمام مسلم ممالک متحد ہوکر چیلنجس کا مقابلہ کریں۔ سخت ترین جدوجہد سے ہی مشترکہ مفادات کا تحفظ ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بے نامی لین دین کے خلاف انتباہ
محکمہ انکم ٹیکس نے بے نامی لین دین کے خلاف سخت انتباہ دیا ہے جو افراد بے نامی معاملت کریں گے انہیں 7 سال تک قید بامشقت کی سزاء ہوسکتی ہے۔ ایک سادہ سے انکم ٹیکس قانون کے تحت ان خلاف ورزی کرنے والوں کو سزاء دی جائے گی۔ مودی حکومت نے نوٹ بندی کے ذریعہ کالادھن ختم کرنے کی مہم چلائی اور بے نامی جائیدادوں کا پتہ چلانے کا بھی اعلان کیا اب محکمہ انکم ٹیکس حکومت کی پالیسیوں کو روبہ عمل لانے کیلئے ملک بھر کے بڑے اخبارات میں اشتہارات دے کر عوام کو بیدار کیا جارہا ہے کہ اب بے نامی جائیدادوں کی معاملت قانون 1988 کو یکم نومبر 2016ء سے سختی سے روبہ عمل لایا جارہا ہے۔ کالے دھن کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دینے والی حکومت اور اس کے اداروں نے اب تک اس کالے دھن پر قابو پانے میں کس حد تک کامیابی حاصل کی ہے اس کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیاگیا۔ اس کے بجائے عوام پر ہی زور دیا جارہا ہیکہ وہ اس لعنت کے خاتمہ کیلئے حکومت کی مدد کریں۔ عوام الناس کی بڑی تعداد بلاشبہ کالے دھن کے خلاف ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے اس قانون کے نافذہونے کے بعد سے 230 کیسیس درج کئے اور 55 کروڑ لاگت کے اثاثہ جات ضبط کئے۔ 130 کروڑ آبادی والے اس ملک میں بے نامی جائیدادوں اور بے نامی لین دین کرنے والوں کی تعداد اور گنتی کا اندازہ اگر حکومت اور ا سکے اداروں کو نہ ہو تو یہی سب سے بڑی بدعنوانی کی مثال ہے۔ عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ حکومت کے کارندے یا بعض آفیسرس ہی بے نامی معاملت کی راہ دکھا کر مالداروں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ جب تک بدعنوانی اور رشوت خوری کا چلن جاری ہے۔ انکم ٹیکس کی چوری کرنے والے بعض مالدار لوگ اپنے کالے کرتوتوں سے باز نہیں آئیں گے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ مابعد نوٹ بندی تمام رقمی لین دین اور معاملتوں کے ریکارڈ کی جانچ کی جائے۔ حکومت اور اس کے اداروں کو باقاعدہ علم ہونا چاہئے کہ اس غریب ملک کے مالداروں، صنعتکاروں، تاجروں اور سیاستدانوں کی بے نامی جائیداد یں کتنی ہیں اور بے نامی لین دین کس حد تک جاری رہتا ہے۔ عام آدمیوں کیلئے قانون بنانااور ان پر عمل کرنے کی ڈرامائی کوشش بہتر نتیجہ برآمد نہیں کرسکتیں۔

TOPPOPULARRECENT