Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / شاہ سلمان کا 31 سالہ فرزند محمد کو ولیعہد مقرر کرنے کا اعلان

شاہ سلمان کا 31 سالہ فرزند محمد کو ولیعہد مقرر کرنے کا اعلان

شاہی فرمان میں محمد بن نائف اب تخت کے جانشین اول نہیں رہے، وزارت داخلہ کا قلمدان بھی واپس لے لیا گیا

ریاض ۔ 21 جون (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے آج باقاعدہ طور پر اپنے 31 سالہ فرزند محمد بن سلمان کو ولیعہد مقرر کردیا اور اس طرح محمد بن سلمان اب تخت کے وارثوں میں سب سے اول نمبر پر ہیں۔ یاد رہیکہ محمد بن سلمان دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی تحریک چلانے میں پیش پیش رہے ہیں اور امریکہ میں بھی انکی کافی مقبولیت ہے۔ شاہی خاندان کی جانب سے کچھ اہم فیصلے کئے گئے ہیں جن کا سعودی پریس ایجنسی نے احاطہ کیا ہے۔ شاہ سلمان نے پرنس محمد بن نائف کو ولیعہد برقرار نہیں رکھا ہے جو دراصل تخت کے آئندہ وارث تھے۔ علاوہ ازیں محمد بن نائف کو سیکوریٹی کے پیش نظر وزیرداخلہ کے عہدہ سے بھی برخاست کردیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ معلنہ ولیعہد محمد بن سلمان یوں بھی کئی ذمہ داریاں نبھاتے آئے ہیں، جن میں وزارت دفاع کا قلمدان سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ علاوہ ازیں موصوف ملک کی ایک معاشی کونسلکے سربراہ بھی ہیں جو ملک کی معیشت کی نگراں کار ہے۔ قبل ازیں تخت کے وارثوں میں ان کا نمبر دوسرا تھا اور وہ نائب ولیعہد کہے جاتے تھے۔ دوسری طرف یہ بات بھی قابل ذکر ہیکہ جنوری 2015ء میں شاہ سلمان کے اقتدار پر آنے سے قبل ولیعہد محمد بن
سلمان کون ہ تو سعودی شہری جانتے تھے اور نہ ہی دیگر ممالک کے سربراہان اور عوام۔ قبل ازیں وہ اپنے والد کی شاہی عدالت کے انچارج بھی تھے۔ سعودی بادشاہ نے جن کے پاس تقریباً ہر اختیارات ہیں، نے عاجلانہ طور پر اپنے فرزند کو بیشتر اختیارات تفویض کردیئے، جس نے شاہی خاندان کے دیگر سینئر ارکان کو حیرت زدہ کردیا کیونکہ بات صرف سینئر ہونے کی نہیں تھی بلکہ تجربہ کی بھی تھی۔ محمد بن سلمان کا تجربہ ان کے سامنے صفرتھا۔ محمد بن سلمان کو ایم بی ایس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو ان کے نام کے حرف تہجی ہیں۔ آج جو شاہی فرمان جاری کیا گیا اس میں واضح طورپر تحریر کیا گیا ہیکہ شاہی خاندان کے سینئر ارکان کی ’’اکثریت‘‘ نے محمد بن سلمان کو ولیعہد مقررکئے جانیکی تائید کی ہے۔ سعودی عرب ٹی وی کے مطابق کونسل کے39 کے منجملہ 31 ارکان نے نئی تبدیلی کے حق میں اپنا ووٹ دیا ہے۔
الیجاتنس کونسل دراصل ایک ایسی مجلس ہے جو سعودی عرب کے بانی کے فرزندان اور پوتوں پر مشتمل ہے۔ مرحوم شاہ عبدالعزیز نے ان ہی شاہی ارکا ن میں سے شاہ اورولیعہد کو منتخب کرنے کے سلسلہ کا آغاز کیا تھا۔ جاریہ ہفتہ کے اواخر میں شاہ سلمان نے محمد بن نائفکو ان کی (نائف) بیشتر ذمہ داریوں سے فارغ کردیا ہے۔ خصوصی طور پر فوجداری
تحقیقات کے شعبہ کو آفس آف پبلک پراسیکیوشن کہا جائے گا اور پراسیکیوٹر راست طور پر شاہ کو اپنی رپورٹ پیش کریں۔ محمد بن نائف کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہیکہ سعودی اور امارات کی جانب سے قطر کو یکا و تنہا کردینے کے معاملہ میں انہوں نے مؤثر رول ادا نہیں کیا جبکہ قطر پر یہ الزامات عائد کئے گئے ہیںکہ وہ دہشت گردوں کی تائید کرنے والا ایران کے تئیں نرم گوشہ رکھنے والا ملک ہے۔ محمد بن سلمان نے مارچ میں امریکہ امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے وائیٹ ہاؤس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی کی تھی اور اسی دورہ کی بنیاد پر ٹرمپ نے مئی میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جو ٹرمپ کا پہلا بیرونی دورہ تھا جس کے بعد سعودی عرب نے بھی دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ آج بھی خطہ میں اس کا دبدبہ ہے اور عالم اسلام میں سعودی عرب کی قدر و منزلت ہے۔

TOPPOPULARRECENT