Saturday , October 21 2017
Home / مضامین / شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

کے این واصف
کہتے ہیں رشتے یا جوڑے آسمانوں میں بنتے ہیں، لیکن آسمانوں میں بنے جوڑے کو عقد نکاح کے ضابطہ کی کارروائی سے گزار کر رشتہ کو رشتہ ازدواج میں باندھنے کیلئے زمین والوںنے خود ساختہ رسم و رواج سے عقد نکاح کی تکمیل کے آسان ترین عمل کو مشکل بنادیا۔ خصوصاً جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں شادی ایک بڑا مسئلہ بن کر رہ گئی ہے اور یہ کسی ایک فرقہ کا نہیں بلکہ یہ مسئلہ عام ہے۔ ہمارے ملکوں میں لوگوں نے اپنے آپ کو فرقوں اور مذاہب میں ضرور بانٹ رکھا ہے، مگر جہاں تک شادی کی رسم کی ادائیگی کو مشکل اور مہنگا عمل بنانے کی بات ہے وہاں سب ایک جٹ اور متحد نظر آتے ہیں۔ کیا مسلمان اور کیا غیر مسلم ۔ غریب اور متوسط گھرانوں کے لوگ بیٹی کی شادی کے نام سے لرز ا ٹھتے ہیں۔ لڑکی والے اپنی بیٹی کی پیدائش کے روز سے اس کی شادی کیلئے فکرمند ہوجاتے ہیں۔ اس کی شادی رچانے اور گھوڑے ، جوڑے اور جہیز وغیرہ کے انتظام کیلئے بچت اسکیموں میں برسوں شریک رہتے ہیں ۔ گھوڑے اور گھڑسواری کے دن تو کب کے لد گئے مگر یہ ’’گھوڑا جوڑا‘‘ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ گھوڑے جوڑے کی مذمت اور شادی کی تقاریب میں شاہ خرچیاں اور اصراف کے خلاف علماء کے وعظ و بیان، سماجی کارکنان کے احتجاج ، مضمون نگاروں کی تحریریں ، شعراء کی تخلیقات سب کے سب بے اثر اور بے وقعت نظر آتے ہیں۔ فی زمانہ شادی کے مروجہ رسم و رواج کو پوراکرتے ہوئے شادی کرنا ایک بے حد مہنگا سودا ہے

جو شادی اور دیگر تقاریب پر خرچ کرنے کے متحمل ہیں وہ سب کچھ آسانی سے کر گزرتے ہیں لیکن مشکل یہ ہیکہ شادیوں اور دیگر تقاریب کا یہ اصراف اور شاہ خرچی کا یہ رواج سماج میں جزء لاینفک کی شکل اختیار کرگیا ہے اور اب یہ تصور ذہنوں میںگھر کر گیا ہے کہ اگر شادی ہونی ہے تو پھر یہ سارے رسم و رواج اور شاہ خرچی کے خود ساختہ طریقہ پرہی ہوگی ۔ اب چاہے اسے قرض حاصل کر کے پورا کیا جائے یا زندگی بھر کی جمع پونجی لٹا کر کیا جائے یا زمین ، جائیداد پھونک کر کیا جائے۔ اولاد کی شادیوں میں تاخیر ہونے اور لڑکے لڑکیوں کی شادی کی صحیح عمر نکل جانے کی یہی وجوہات ہیں۔ دوسرے یہ کہ آج کل جو خاندان کے سمٹ کر رکھنے کا رواج ، قریبی رشتوں میں ایک دوسرے سے دوری، ایک دوسرے کے بھلے برے سے لاتعلقی، آپسی میل ملاپ کا نہیں کے برابر ہوجانا وغیرہ بھی رشتوں کے طئے ہونے میں رکاوٹ کا ایک سبب ہے ۔ گزرے وقتوں میں رشتے خاندانوں ہی میں طئے ہوجایا کرتے تھے اور شادیوں کی رسمیں بھی آسانی سے نمٹ جاتی تھیں۔
حیدرآباد و اضلاع میں رشتوں کے طئے ہونے میں آسانی پیدا کرنے کیلئے محترم زاہد علی خاں کی سرپرستی و رہنمائی میں ادارۂ سیاست اور مینارٹیز ڈیولپمنٹ فورم (MDF) نے ’’دوبہ دو ملاقات پروگرام‘‘ کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس سے لڑ کی والوں کے آپس میں ملنے اور بات چیت طئے کرنے کے مراحل میں بھی کافی وقت اور پیسہ صرف ہوتا تھا ۔ اب یہ کام دوبہ دو پروگرام سے بآسانی انجام پارہا ہے ۔ دوبہ دو میں رشتہ طئے ہونے کے بعد دوسرا مرحلہ تقریب عقد نکاح کا انعقاد ہے۔ اس مرحلہ کو آسان بنانے اور سادگی کے ساتھ تقریب عقد نکاح منعقد کرنے کیلئے ڈاکٹر علیم خاں فلکی صدر Socio-Reform Society ایک زمانہ سے کوششیں کر رہے ہیں ۔ علیم خاں فلکی کا کام ایک طرح سے ادارۂ سیاست اور مینارٹیز ڈیولپمنٹ فورم کی کوششوں کے سلسلہ کی دوسری کڑی کہی جاسکتی ہے۔ علیم خاں فلکی اپنی اس سماج سدھار مہم پر کئی برس سے مستعدی کے ساتھ جٹے ہوئے ہیں۔ عوامی آگہی کی خاطر وہ نظم و نثر لکھتے اور جرائد میں شائع کراتے ہیں۔ اس موضوع پر ہندوستان بھر میں سمینارس ، عوامی جلسے کا انعقاد عمل میں لاتے ہیں۔ کتابچے اور دیگر لٹریچر شائع کرواکر تقسیم کرتے ہیں وغیرہ۔ اس مہم پر وہ نہ صرف بے تکان محنت کر رہے ہیں بلکہ اپنا بے حساب پیسہ اور وقت بھی صرف کرتے ہیں لیکن ہماری سوسائٹی میں اس مہم کا اثر بھی تیر بہدف کا کام تو نہیں کر پارہا ہے بلکہ اندھیرے میں تیر چلانے جیسا ہی ہے۔ بہرحال علیم خاں فلکی نے اپنی بات پہنچانے کیلئے ہر حربہ آزمایا اور اب انہوں نے ایک نئے میڈیم کے ذریعہ اپنا پیام پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ علیم خاں فلکی نے گھوڑے جوڑے اور جہیز کی لعنت کے اپنے موضوع کو پرانی شراب نئی بوتل میں پیش کرتے ہوئے اس موضوع پر اب ایک مختصر فلم بنائی ہے جس کیلئے انہوں نے تلگو فلموں کے مشہور ڈائرکٹر ڈاکٹر گوپی کرشنا اور ان کے فنی عملے اور فنکاروں کا تعاون حاصل کیا اور ایک بہت ہی موثر شارٹ فلم تیار کی اور You Tube اور سوشیل میڈیا پر جاری کی ۔ لگتا ہے کہ فلکی صاحب کا یہ تیر نشانے پر لگا ۔ اس فلم میں علیم خاں فلکی نے خود بھی ایک اہم کردار ادا کیا ۔ فلم کی اسکرپٹ اور مکالمے بھی خود فلکی صاحب نے لکھے ۔ یہ فلم علیم خاں فلکی کی شخصیت کے کچھ اور جوہر سامنے لائی۔ علیم خاں فلکی کی مہم لین دین اور جوڑے جہیز کے خلاف ہے۔ اس فلم میں انہوں نے اپنی بات بڑ ے سلیقہ سے پراثر انداز میں پیش کی ہے ۔ فلم میں دکھایا گیا کہ لڑکی (دلہن) کے پاس عقد نکاح کے کاغذات پر دستخط کیلئے وکیل اور گواہ جاتے ہیں تو دلہن سوال کرتی ہے کہ جب اس میں لڑکے یا دولہا کی جانب سے دیئے جانے والی مہر کی رقم کی صراحت کی گئی ہے اور سرمحفل اس کا اعلان کیا گیا ہے تو کیوں نہیں لڑ کی والوں کی جانب سے بصورت جہیز وغیرہ دیئے جانے والی رقم اور اشیاء کا ذکر کیا جائے اور سرمحفل اس کا بھی اعلان کیا جائے تاکہ فریقین کے ساتھ برابری کا معاملہ ہو اور عقد نکاح کے دستاویز مکمل معلوم ہوں ۔ لڑکی کے احتجاج کا اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ اس بات پر معترض نہیں کہ جہیز وغیرہ لیا جارہا ہے بلکہ وہ اس بات پر بضد ہے کہ اس کا اندراج عقد نکاح کے دستاویز میں ہو اور سر محفل اس کا اعلان بھی ہو۔ اب ظاہر ہے لڑکے والوں کی غیرت گوارہ نہیں کرے گی کہ سر محفل ان تفصیلات کا اعلان ہو۔

سماج سدھار تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی کوشش کا سماج پر کچھ اثر ضرور ہوا ہے ۔ ایک قابل لحاظ تعداد لین دین اور ساز و سامان لینے سے احتراز کرنے لگے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے لیکن اس کے ساتھ لڑکے والے ایک شرط یا خواہش بھی اکثر رکھنے لگے ہیں کہ  ہمیں کچھ نہیں چاہئے بس شادی معیاری ہونی چاہئے ۔ یعنی فلاں شادی خانہ ہو اور اس طرح کا ڈنر ہو وغیرہ۔ اب اگر لڑکے والے مالدار اور اعلیٰ حیثیت کے لوگ ہیں تو ظاہر ہے لڑکی والوں کو اپنی حیثیت سے باہر نکل کر لڑکے والوں کی حیثیت کے مطابق شادی کے معیاری انتظامات کرنے پڑیں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ طرفین شادی اور ولیمہ کی تقاریب میں اپنی اپنی مالی حیثیت کے مطابق تقریب کے انتظامار کریں تاکہ کوئی ایک دوسرے پر بوجھ نہ بنے ۔

سیاست نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علیم خاں فلکی نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ریلیز ہوئی ان کی شارٹ فلم کو نیٹ پر صرف ایک ہفتہ میں 14 لاکھ افراد نے دیکھا اور پچاس ہزار افرادنے اسے Share کیا ۔ اس فلم نے ناظرین اور شیر کرنے والی تعداد کے اعتبار سے کئی ریکارڈز قائم کئے ۔ بس ضرور اس بات کی ہے کہ ناظرین اس پیام کا اثر قبول کریں اور اسے اپنی زندگیوں میں عملی جامہ پہنائیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ادارے سیاست، مینارٹیز ڈیولپمنٹ فورم، Socio-Reform Society اور ہندوستان میں اس طرح کی تنظیمیں جو شادی کی رسم کو سادگی سے انجام دینے اور آسان بنانے کی مہم پر کام کر رہے ہیں، وہ عوام میں مقبول ہوں۔ ’’شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات‘‘
[email protected]

TOPPOPULARRECENT