Tuesday , September 26 2017
Home / اداریہ / شخصیت پرستی کا رجحان عروج پر

شخصیت پرستی کا رجحان عروج پر

آپ سے واقف نہ تھی جب زندگی
جو بھی کچھ حالات تھے بہتر رہے
شخصیت پرستی کا رجحان عروج پر
آزاد ہندوستان میں چرخے کا جب کبھی تصور آیا ہے اس کے ساتھ گاندھی جی کا تصور بھی دماغ میں ابھرتا رہا ہے ۔ گاندھی جی کی یہ تصویر ہندوستان میں کھادی کی علامت بھی سمجھی جاتی تھی اور یہ تصور عام ہوگیا تھا کہ اس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی ۔ حالانکہ اس تعلق سے کوئی قانون یا رول نہیں تھا لیکن ضروری نہیں ہے کہ ہر روایت کیلئے کوئی قانون موجود ہی ہو ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی شخصیت پرستی اور ذاتی نمود و نمائش کا کوئی موقع ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے روایتی انداز والے چرخے کی اس یادگار تصویر کا منظر ہی تبدیل کردیا گیا ۔ حالانکہ انداز اور چرخہ وہی دکھائی دے رہا ہے لیکن اب گاندھی جی کی جگہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر اس میں شامل کردی گئی ہے ۔ یہ شخصیت پرستی کی انتہا ہوسکتی ہے ۔ ہندوستان میں کئی قائدین آئے اور گئے ہیں۔ ہر کسی نے اپنے اپنے دور میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ہر کسی نے ملک و قوم کی بہتری میں کوئی نہ کوئی رول ضرور ادا کیا ہے ۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کسی لیڈر نے ملک کی بہتری اور سماجی حالات کو بہتر بنانے کیلئے کوئی کام نہیں کیا ہے ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان کاموں کی تشہیر نہیں ہوئی ہو اور نہ ہی اس وقت میڈیا اس قدر وسعت اختیار کرگیا تھا ۔ اس سب کے باوجود یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس ملک میں گاندھی جی کو جو مقام حاصل ہے وہ کسی اور لیڈر کو نہیں مل سکا ہے ۔ نہ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو وہ مقام ملا ہے اور نہ دستور ہند کے معمار ڈاکٹر امبیڈکر وہ مقام حاصل کرسکے ہیں جو مقام ہندوستانیوں نے گاندھی جی کو عطا کیا تھا ۔ اب ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی وہ مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز کمیشن کی جانب سے سال نو کے کیلنڈر پر جو تصویر شائع کی گئی ہے اس میں چرخہ والی تصویر موجود ہے لیکن اس میں گاندھی جی کی جگہ نریند رمودی کو بٹھادیا گیا ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کی تجویز یا منظوری کے بغیر ایسا نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ حکومت کے کارندوں اور ذمہ داروں کی جانب سے چاپلوسی اور خوشامد کی بھی انتہاء ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس چاپلوسی کیلئے گاندھی جی کی تصویر سے مذاق کیا گیا ہے ۔
اب کمیشن کی جانب سے اپنے فیصلے کی مدافعت کی جا رہی ہے اور ساتھ ہی گاندھی جی کی بڑائی بیان کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ کمیشن نے وزیر اعظم کی خوشامد کرنے کی انتہاء کردی ہے ۔ اگر کمیشن نے حکومت یا خود وزیراعظم کی اجازت کے بغیر یہ تصویر شائع کی ہے تو اسے معذرت کرنے کی ضرورت ہے اور خود وزیر اعظم کو اس پر اپنے موقف کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں اس کیلنڈر کو تبدیل کروانا چاہئے ۔ ملک میں کوئی بھی لیڈر اقتدار کی کسی بھی بلندی تک پہونچ جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ گاندھی جی کے مقام اور عوامی مقبولیت تک نہیں پہونچ پائیگا ۔ اس کا اعتراف ہر لیڈر اور ذمہ دار کو کرنے کی ضرور ت ہے ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ گاندھی جی سے آر ایس ایس کی پرخاش کو بھی اب راز میں نہیں رکھا جا رہا ہے بلکہ دھیرے دھیرے ان کو بھی قصہ پارینہ بنانے کی کوششیں عملی طور پر شروع ہوچکی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آر ایس ایس کو گاندھی جی سے ہمیشہ پر خاش رہی ہے اور اس پر گاندھی جی کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث رہنے کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کی نریندر مودی حکومت پر آر ایس ایس کا مکمل کنٹرول ہے ۔ ایسے میں یہ اندیشے خارج از امکان نہیں ہوسکتے کہ آر ایس ایس کو خوش کرنے یا خود وزیر اعظم نریندر مودی کی شخصی خوشامد کرنے کی نیت سے چرخہ کی تصویر کا منظر ہی تبدیل کردیا گیا ہو۔ کسی بھی سرکاری کمیشن کو کسی کی شخصیت پرستی اور چاپلوسی سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ہماری روایات کے مغائر ہے ۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وزیر اعظم ہمیشہ نمود و نمائش کا سہارا لیتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ ہی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے ۔ شائد یہی وجہ تھی کہ انہوں نے صدر امریکہ بارک اوباما کے دورہ ہندوستان کے موقع پر کپڑے پر اپنا نام لکھا ہوا سوٹ زیب تن کیا تھا ۔ یہ سوٹ لاکھوں روپئے کے خرچہ سے تیار ہوا تھا اور اس کا ہراج اور بھی زیادہ قیمت پر ہوا تھا ۔ اسی بات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے حکومت پر سوٹ بوٹ کی سرکار والا ریمارک کیا تھا ۔ نریندر مودی کی اسی شخصیت پرستی کو اور اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی خواہش کو دیکھتے ہوئے بھی کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز کمیشن نے شائد گاندھی جی کی تصویر کی جگہ مودی کی تصویر لگا دی ہو ۔ وجہ چاہے جو کچھ بھی رہی ہو لیکن یہ ایک غلط فیصلہ ہے اور یہ آزاد ہندوستان کی روایت سے انحراف ہے ۔ اس غلطی کو سدھارنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT