Wednesday , September 27 2017
Home / Top Stories / شخصی طور پر کوئی تحریری درخواست نہیں وصول ہوئی‘ ای میل کا کوئی علم نہیں ہوا ؟

شخصی طور پر کوئی تحریری درخواست نہیں وصول ہوئی‘ ای میل کا کوئی علم نہیں ہوا ؟

حیدرآباد ۔ 19۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ایسے وقت جبکہ تلنگانہ کے مسلمان تحفظات کے فیصد میں اضافہ کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، دور دراز کے اضلاع اور چھوٹے مواضعات سے غریب مسلمان کسی طرح اپنے خرچ پر حیدرآباد اس امید سے پہنچے کہ بی سی کمیشن کے ذریعہ انہیں انصاف ملے گا لیکن مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی جماعت کی بے حسی دیکھ کر ہر کسی کو حیرت ہوئی۔ مسلمانوں کی تعلیمی معاشی اور سماجی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت نے بی سی کمیشن سے رپورٹ طلب کی ہے۔ حکومت تو اس سلسلہ میں سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے ، تاہم حکومت کی تائید کرنے والی مقامی جماعت مجلس نے بی سی کمیشن سے مدلل اور تفصیلی نمائندگی کے بجائے صرف رسمی نمائندگی پر اکتفاء کیا ۔ اس طرح مسلمانوں میں اپنا چہرہ دکھانے کیلئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مجلس نے بھی تحفظات کے حق میں نمائندگی کی تھی۔ بی سی کمیشن سے مجلس کے فلور لیڈر اور ارکان مقننہ نے عوامی سماعت کے دوران ملاقات کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ دو دن میں تفصیلی اعداد و شمار اور قانونی نکات کے ساتھ دوبارہ رجوع ہوں گے۔ کمیشن نے دو دن تک عوامی نمائندوں کیلئے سماعت کا موقع فراہم کیا تھا لیکن اس دوران مجلس کی جانب سے کوئی شخصی یا تحریری نمائندگی نہیں کی گئی۔ آج شام 5 بجے جو کہ نمائندگیوں کے وصولیوں کا آخری وقت تھا، کمیشن کو بھی انتظار تھا کہ مجلس کے ارکان مقننہ اپنے فلور لیڈر کے ساتھ پہنچ کر وعدہ کے مطابق نمائندگی کریں گے لیکن وقت گزرنے تک بھی ایسا نہیں ہوا اور کمیشن نے سماعت کی تکمیل کا اعلان کردیا ۔ کمیشن سے نہ ہی کوئی تحریری نمائندگی کی اطلاع ہے اور میل کے ذریعہ یادداشت روانہ کرنے کے بارے میں کمیشن واقف ہے۔ کمیشن میں مختلف اضلاع سے پہنچنے والے افراد کا کہنا تھا کہ حکومت کی حلیف جماعت کو اس اہم اور حساس مسئلہ پر اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے نمائندگی کرنی چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جس وقت عوامی سماعت کے دوران ارکان مقننہ کمیشن سے رجوع ہوئے تھے، ان کے ترجمان اخبار میں خود صاف طور پر لکھا گیا کہ مجلس کی جانب سے رسمی نمائندگی کردی گئی ہیں اور مسلم پسماندگی کی تائید میں تفصیلی اعداد و شمار آئندہ دو دنوں میں پیش کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT