Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / شراب سانحہ کے مہلوکین کی تعداد 15 تک پہنچ گئی

شراب سانحہ کے مہلوکین کی تعداد 15 تک پہنچ گئی

اصل ملزم کی گرفتاری کے بعد حالات کاراز کھلے گا۔ لالو یادو
گوپال گنج،18اگست(سیاست ڈاٹ کام)بہار کے ضلع گوپال گنج میں مبینہ زہریلی شراب سے متاثر مزید تین افراد کی موت کے ساتھ ہی اس واقعہ میں مرنے والوں کی تعداد بڑھکر 15ہوگئی ہے ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راہل کمار نے آج یہاں بتایا کہ شہر تھانہ علاقے کے ہرکھوا کھجورباڑی گاؤں میں 15اگست کی رات مبینہ زہریلی شراب پینے کی وجہ سے کل رات تک 13لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ میں بیمار دو افراد کی آج پٹنہ میڈیکل اسپتال میں موت ہونے کی اطلاع ملی ہے ۔مسٹر کمار نے بتایا کہ اس معاملے میں پولیس نے چھ لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ضلع کے سبھی تھانہ انچارج کو شراب بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت مہم چلانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔دریں اثناء راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی )کے صدر لالو پرساد یادو نے بہار کے گوپال گنج کے واقعہ کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ شراب پر پابندی کے باوجود اس طرح کا واقعہ کیسے پیش آیا۔مستر یادو نے آج یہاں کے دس سرکلر روڈ پر واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ پر رکشا بندھن کے موقع پر پیپل کے درخت کو راکھی باندھنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ موقع سے ہومیوپیتھک دوا کی بوتلیں ملی ہیں۔آر جے ڈی کے صدر نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اس واقعہ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے ۔شراب پر پابندی کے باوجود ایسا واقعہ پیش آیا یہ ایک سنگین معاملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ گوپالگنج اترپردیش سے متصل ضلع ہے اور اس معاملے میں ایکسائز اور محکمہ آبکاری کی جانب سے جاری بیان اور دی گئی وضاحت سے وہ بھی واقف ہیں۔مسٹر یادو نے کہا کہ وزیر اعلی کو اس معاملے کی جانچ سختی سے کروانی چاہیے ۔حالانکہ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد پولیس اور انتظامیہ کے افسر الرٹ پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ شراب میں ملاوٹ کرنے کا ماسٹر مائنڈ ایک ماہ پہلے ہی جیل سے چھوٹ کر آیا ہے ۔آر جے ڈی صدر نے وزیر اعلی کی جانب سے معاوضہ دئے جانے کے اعلان کو صحیح بتایا اور کہا کہ لوگوں کو محتاط اور بیدار رہنا چاہیے ۔بہار دوسری ریاستوں سے گھرے جزیرے کی طرح ہے اور شراب پر پابندی میں جگہ جگہ جانچ ممکن نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ تھانوں کی پولیس دس کروڑ لوگوں کے پیچھے نہیں گھوم سکتی ۔مسٹر یادو نے کہا کہ شراب بندی کے سلسلے میں بیداری ضروری ہے اور میڈیا کا اس میں اہم رول ہے ۔انہوں نے کہا کہ گوپالگنج کے واقعہ کی پوری جانچ ہوئے بغیر وہ کچھ نہیں کہہ سکتے ۔اہم ملزم کا گرفت میں آنا ضروری ہے جس کے بعد ہی ملاوٹ کا راز کھلے گا۔

TOPPOPULARRECENT