Thursday , September 21 2017
Home / سیاسیات / شرد یادو ‘علی انور کی راجیہ سبھا رکنیت ختم کرنے کی درخواست

شرد یادو ‘علی انور کی راجیہ سبھا رکنیت ختم کرنے کی درخواست

دونوں قائدین کو اندرون ایک ہفتہ جواب داخل کرنے راجیہ سبھا سکریٹر یٹ کی ہدایت
نئی دہلی 12 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا سیکریٹریٹ نے جنتادل یو کے باغی ارکان پارلیمنٹ شرد یادو اور علی انور سے کہا ہے کہ وہ ان کی پارٹی کی درخواست پر اندرون ایک ہفتہ جواب داخل کریں ۔ پارٹی نے درخواست دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ارکان کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کی جانی چاہئے کیونکہ وہ مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ شرد یادو نے پارٹی صدر نتیش کمار کی جانب سے بہار میں عظیم اتحاد سے ترک تعلق کرتے ہوئے بی جے پی سے اتحاد کرنے کے فیصلے پر بغاوت کردی تھی ۔ جنتا دل یو نے راجیہ سبھا کے صدر نشین وینکیا نائیڈو سے کہا ہے کہ شرد یادو اور علی انور کو ایوان کی رکنیت سے نا اہل قرار دیدیا جائے ۔ علی انور بھی شرد یادو کی حمایت میں آگے آئے ہیں۔ جنتادل یو کے جنرل سکریٹری سنجئے جھا نے کہا کہ سابق میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب راجیہ سبھا کے ایک رکن کو ایوان سے نا اہل قرار دیدیا گیا تھا جب اس رکن نے اپوزیشن کے پروگراموں میں شرکت کی تھی ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں جئے نارائن پرساد نشاد کی مثال پیش کی ۔ نشاد بی جے پی کے رکن رہتے ہوئے راشٹریہ جنتادل کے پروگرام میں شریک ہوئے تھے ۔ سنجئے جھا نے کہا کہ ہم نے ان دونوں قائدین کی مخالف پارٹی سرگرمیوں کے دستاویزی اور دوسرے ثبوت بھی پیش کردئے ہیں۔ ان قائدین نے پارٹی قیادت کے احکام کی خلاف ورزی کی ہے اور الیکشن کمیشن سے پارٹی کا انتخابی نشان حاصل کرنے رجوع ہوئے ہیں۔ یہ بھی پارٹی مخالف سرگرمی ہے ۔ شرد یادو کو پٹنہ میں راشٹریہ جنتادل کی جانب سے منعقدہ ایک ریلی میں شرکت کرنے کی پاداش میں پہلے ہی ایوان بالا میں پارٹی قائد کی حیثیت سے برطرف کردیا گیا ہے ۔ اب پارٹی نے انہیں نا اہل قرار دینے درخواست پیش کی ہے ۔ شرد یادو نے حال ہی میں بہار کا دورہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ وہ ابھی بھی عظیم اتحاد میں شامل ہیں جس میں راشٹریہ جنتادل اور کانگریس شامل ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر بہار نتیش کمار پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے پارٹی قرار دادوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ دعوی کرتے ہوئے کہ وہی اصل جنتادل یو ہے ان کے گروپ نے الیکشن کمیشن سے رجوع ہوتے ہوئے خواہش کی تھی کہ پارٹی کا انتخابی نشان اس گروپ کو الاٹ کیا جائے ۔ شرد یادو کا دعوی ہے کہ حقیقی جنتادل اب بھی ان کے ساتھ ہے اور نتیش کمار کے ساتھ جو جنتادل یو ہے وہ سرکاری ہے ۔ پارٹی نے راجیہ سبھا میں شرد یادو کی بجائے آر سی پی سنگھ کو اپنا لیڈر نامزد کردیا ہے ۔ علی انور پر تنقید کرتے ہوئے سنجئے جھا نے کہا کہ وہ راجیہ سبھا کیلئے جنتادل یو کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے تاہم اس کیلئے بی جے پی ارکان اسمبلی کی تائید بھی حاصل کی گئی تھی اور اب وہ اسی کی مخالفت کر رہے ہیں جو مناسب نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT