Wednesday , May 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / شرعًا نسب کا تعلق باپ سے ہے

شرعًا نسب کا تعلق باپ سے ہے

سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی ماریگا ولد ینکیا عمر دس سال کو اس کے مانباپ کی رضامندی سے ایک مسلمان شخص نے گھر یلو کام کیلئے کھانے کپڑے کی ذمہ داری کے ساتھ اپنے پاس رکھ لیا ۔ اس لڑکے کانام بہ طیب رضا مشرف بہ اسلام ہونے پر جمشید رکھا گیا اور اسی نام سے پکارا جاتارہا نیز حسب قانون حفاظت اطفال تحت دفعہ (۱۲) محکمئہ نظامت میں نومسلم جمشید ولد ینکیا کے نام سے رجسٹرڈ ہوا ۔ اب یہ عاقل بالغ شادی شدہ ہے اور اپنا نام جمشید علی رکھ لیا پھر اپنے کو’’ سید ‘‘ باور کرانے نام کے ساتھ لفظ ’’ سید‘‘ کا اضافہ کرلیا ہے ۔
ایسی صورت میں کیا کوئی نو مسلم سادات کا شرف حاصل کرکے داخل نسب ہوسکتا ہے ؟
بینوا تؤجروا ۔
جواب  :  شرعاً نسب کا تعلق باپ سے ہے۔ ردالمحتار جلد دوم کتاب الطلاق فصل ثبوت النسبمیں ہے:  النسب ھو مصدر نسبہ الی أبیہ  ۔
پس صورت مسئول عنہا میں جمشید غیر مسلم ینکیا کا لڑکا ہی رہے گا ،اپنے کو ’’ سید ‘‘   ’’ہاشمی النسب ‘‘ باور کروانے سے نسباً ’’ سید ‘‘ نہیں ہوسکتا  ۔
وراثت کا شرعی مسئلہ
سوال :  کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ ہندہ اور زینب دختران عامرہ مرحومہ کا یکے بعد دیگرے لاولد انتقال ہوگیا ورثاء میں برادر ماموں زاد (احمد مرحوم ) کے تین لڑکے موجود ہیں ان کے سوا اور کوئی وارث نہیں ہے ۔
ایسی صورت میں ہر دو کے متروکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی  ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں ورثاء میں کوئی وارث از قسم ذوی الفروض و عصبہ موجود نہیں ہے تو بعد تقدیم ما تقدم علی الارث تمام متروکہ کے تین حصے کرکے میراحمد مرحوم کے تینوں لڑکوں میں سے ہرایک کو ایک ایک حصہ دیدیا جائے ۔ قدوری کتاب الفرائض  میں ہے:  اذا لم یکن للمیت عصبۃ ولا ذو سہم ورثہ ذوؤوالارحام۔
طلاق کنائی
سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو انکے شوہر نے ایک خط لکھا جس میں تحریر ہے کہ ’’ اب سے تمہارے اورمیرے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے تم میری بیوی نہیں ہو ، میں تمہارا شوہر نہیں ہوں… تیرے اور میرے درمیان اب کوئی رشتہ ہی نہیں ہے ، بھول جا ۔ جلدی میں طلاق دینے کی کوشش کرتا ہوں ، میری بیوی کی طرح اگر رہنا ہے تو میں جیسا بولتاہوں ویسا کرو ‘‘  آیا ان الفاظ سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں   ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  صورت مسئول عنہا میں شوہر نے تحریر مذکور الصدر میںجو الفاظ لکھے ہیں وہ کنائی ہیں ۔ اگر ان سے شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہو تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں عالمگیری جلد اول ص ۳۷۵ میں ہے  ولو قال ماأنتِ لی بامرأۃ أو لستُ لکِ بزوج ونوی الطلاق یقع … ولو قال لھا لا نکاح بینی وبینکِ أو قال لم یبق بینی وبینکِ نکاح یقع الطلاق اذا نوی  اور ص ۳۷۶ میں ہے ولو قال لم یبق بینی وبینکِ شیٔ ونوی بہ الطلاق لا یقع۔ پس شوہر سے اس کی نیت دریافت کی جاے ، اگر اس کی نیت طلاق کی تھی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ تعلقات زوجیت علیٰ حالہٖ قائم رہیں گے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT