Sunday , April 30 2017
Home / مذہبی صفحہ / شرعًا نکاح عمر قید سے نہیں ٹوٹتا

شرعًا نکاح عمر قید سے نہیں ٹوٹتا

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ اگرکسی شخص کو عمر قید کی سزا ہوجائے تو کیا رشتہ نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں اور اگر اس کی بیوی دوسرا نکاح کرنا چاہے تو شریعت میں اس کاکیا طریقہ ہے ۔
جواب:شریعت اسلامی میں جب ایک مرتبہ نکاح منعقد ہوتاہے تو بیوی اپنے شوہر کی زوجیت سے کبھی خارج نہیں ہوتی تا وقت یہ کہ شوہر اس کو طلاق دے یا وہ خلع لے لے یا مرجائے ۔ دریافت شدہ مسئلہ میں عمر قید کی سزا سے رشتہ نکاح ختم نہیں ہوتا ‘ بیوی کو چاہئے کہ وہ عمر قید کی سزا کاٹنے والے شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرے اور بعد طلاق یا خلع ‘عدت گزرنے کے بعد وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے ۔اس کی اور ایک صورت یہ ہے کہ وہ اپنی مجبوریات ظاہر کرکے مسلم حاکم عدالت کے پاس فسخ نکاح کی درخواست پیش کرے اگر حاکم عدالت اس کا نکاح فسخ کردے تو اس کا نکاح فسخ ہوجائے گا اور دوسرا نکاح کرسکتی ہے ۔ انقطاع زوجیت و انقضاء عدت کے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کرنا شرعاً حرام ہے ۔
رد المحتار ج دوم ص ۶۲۳ باب العدۃ میں البحر الرائق سے منقول ہے ’’ أما نکاح منکوحۃ الغیر و معتدتہ … لانہ لم یقل أحد بجوازہ فلم ینعقد اصلا‘‘۔ عالمگیری جلد اول ص ۲۸۰ میں ہے ’’ لایجوز للرجل أن یتزوج زوجۃ غیرہ ۔
اوقات ممنوعہ میں سجدہ تلاوت
سوال: طلوع آفتاب ‘ زوال آفتاب ‘ غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا صحیح نہیں ۔ اگر ان اوقات میں قرآن شریف کی تلاوت کے دوران آیت سجدہ کی تلاوت کی جائے تو کیا سجدہ تلاوت ادا کیا جاسکتا ہے یا نہیں ۔
جواب :شریعت اسلامی میں ان تینوں ممنوعہ اوقات میں فرض و نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ ہے ۔ تاتارخانیہ جلد اول ص ۴۰۷ میں ہے:  ’’الاوقات التی یکرہ فیھا الصلوۃ  ثلاثۃ یکرہ فیھا التطوع و الفرض و ذلک عند طلوع الشمس و وقت الزوال عند غروب الشمس لا عصر یومہ فانھا لا یکرہ عند غروب الشمس۔
مذکورہ اوقات ممنوعہ میں تلاوت قرآن مکروہ نہیں اگر ممنوعہ وقت میں تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ کی تلاوت کی جائے تو سجدہ تلاوت کرنا بغیر کسی کراہت کے جائز ہے ’’ أما  لو تلا فی وقت مکروہ و سجدھا فیہ جاز من غیر کراہۃ  ۔
اگر آیت سجدہ کی تلاوت ان اوقات کے علاوہ میں ہو اور تلاوت کرنے والا واجب شدہ سجدہ تلاوت ان اوقات میں کرنا چاہئے تو شرعاً درست نہیں ۔ مزید معلومات کے لئے عالمگیری ج اول ص ۵۳۱ دیکھئے۔
کرایہ دار کو شفعہ کا حق
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید گھر سے متصل ایک مکان ہے‘جس میں ایک صاحب تقریباً بارہ سال سے مقیم ہیں‘ زید اپنے گھر کے بیچنے کا ارادہ کیا تو یہ صاحب نے کورٹ میں دعویٰ کر دیا کہ ان کو شفعہ کا حق حاصل ہے ۔ کوئی دوسرا خرید نہیں سکتا ۔ کیا ان کا یہ دعویٰ اسلامی نقطہ نظر سے صحیح ہے یا نہیں ۔ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے؟
جواب :دارالاسلام میں شفعہ کے احکام ثابت ہیں۔شفعہ کے دعوے کیلئے یہ شرط ہیکہ جس مکان کی وجہ سے شفعہ کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اس کا مالک ہونا ضروری ہے ‘ کرایہ دار یا عاریتاً رہنے والا چونکہ مکان کا مالک نہیں ہے ۔ اس لئے اس کو شفعہ کے دعویٰ کے حق حاصل نہیں ۔ فتاوی عالمگیری جلد پنجم کتاب الشفعۃ میں ہے ’’ و منھا ملک الشفیع و قت الشراء فی الدار التی یأخذھا بھا الشفعۃ فلا شفعۃ لہ بدار یسکنھا بالاجارۃ او الاعارۃ ‘‘۔                                     فقط واﷲ اعلم

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT