Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / شرعی قانون میں مداخلت پر سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی دھمکی

شرعی قانون میں مداخلت پر سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی دھمکی

پرسنل لاء بورڈ کا بیان، یکساں سول کوڈ کا نفاذ ممکن نہیں:ماہرین قانون
کانپور24اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ڈھمکی دی ہے کہ اگر کوئی بھی فرد یا جماعت متنازعہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں شریعہ قانون میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے تو وہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ ذرائع کے مطابق مسلم پرسنل لاء بورڈ نے عدالت عظمی میں طلاق ثلاثہ کے مسئلے کا دفاع کرنے کے لئے پہلے ہی بڑے وکیلوں کی ایک مضبوط ٹیم تشکیل دے دی ہے ۔ سپریم کورٹ میں اس مسئلے کی سماعت آئندہ ماہ شروع ہونے والی ہے ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی گزشتہ روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑے وکلاء کی ایک ٹیم ترتیب دی گئی ہے ، جو طلاق ثلاثہ کے خلاف کسی بھی اقدام کو چیلنج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم شریعہ قانون میں مرکز ی یا ریاستی حکومت کو کسی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے اور اگر ایسا کچھ بھی ہوا ، تو ہم سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے‘‘۔ دریں اثناء یکساں سیول کوڈ یایکساں سول کوڈ کا نفاذ ملک میں ممکن ہی نہیں ہے نیز اگر اسے متعارف کرکے نافذ کیا گیا تو کئی ایک تنازعات ایسے سر اٹھائینگے جن کا اب تک کوئی نام و نشان بھی نہیں ہے ان خیالات کا اظہار آج یہاں ملک کے ماہرین قانون نے میٹس یونیورسٹی کی جانب سے یکساں سول کوڈ پر منعقدہ ایک سیمینار کے دوران کیا ۔چھتیس گڑھ لا کمیشن کے چیرمین جی ۔ پی ۔ شرما نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس کے نفاذ کو لے کر مختلف قوموں میں بے چینی ضرور ہے نیز عوام کے احساسات سے حکومت کو واقف کرایا جائیگا اس کے بعد ہی حکومت اس ضمن میں کوئی فیصلہ کریگی ۔ ڈاکٹر جی ۔ پی ۔ ترپاٹھی ڈائریکٹریٹس یونیورسٹی نے کہا کہ عوام پر جبراً اسے تھوپنے سے ملک میں بدامنی میں اضافہ ہوگا اور کئی نئے تنازعات سر اٹھائینگے ۔ماہرین قانون کی اس کانفرنس میں مقررین کی اکثریت نے اس کے نفاذ کو غیر ضروری قرار دیا جبکہ کئی ایک ماہرین نے اس کے نفاذ کو ملک میں ہم آہنگی اور سب کے لئے ایک جیسا انصاف قرار دیا ۔ پونہ کے سمبوسیس کالج کی اسٹیٹ پروفیسر ابھروچی جین نے کہا کہ مرکزی لا کمیشن کی ویب سائٹ پر یکساں سول کوڈ کے تعلق سے جو رائے طلب کی گئی تھی وہ عام آدمی اور قانون سے ناقواف افراد کے لئے باعث انتشار تھی ۔ماہرین قانون نے کانفرنس میں کہا کہ اس کے نفاذ سے جہاں مختلف مسائل کھڑے ہونگے وہیں اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش کی جارہی ہے ۔ اس موقع پر ایک نوجوان وکیل مرزا ریحان بیگ نے طلاق ثلاثہ اور حلالہ کے تعلق سے مفصل گفتگو کی جس سے سامعین کی اکثریت واقف کی تھی ۔ کانفرنس نے انعقاد میں پنکج امبیکر ، راجوت راؤ ، امیت سری نواسن اور دیگر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT