Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / شرعی قانون (Sharia Laws) کی چند خصوصیات

شرعی قانون (Sharia Laws) کی چند خصوصیات

امریکہ میں صدارتی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں ، صدارت کی دوڑ میں جو امیدوار ہیں وہ اپنے استحقاق و اہلیت کو ثابت کرنے کیلئے ہرممکنہ کوشش کررہے ہیں ۔ خاص بات یہ نظر آرہی ہے کہ ان ساری سیاسی سرگرمیوں میں اسلام ، شرعی قانون ، دہشت گردی ، داعش نیز امریکہ کی طرف اہل اسلام کی ہجرت کو موضوع بحث بنایا جارہا ہے اور شاید پہلی مرتبہ علی الاعلان اسلام اور اہل اسلام کے خلاف زہریلے بیج بوئے گئے ہیں۔ مخفی مبادکہ مغربی مصنفین اور ریسرچ اسکالرس نے اپنی تحقیقات ، تصنیفات کے ذریعہ اسلام ، پیغمبر اسلام ، اسلامی قانون اور اہل اسلام کے خلاف حقارت آمیز مواد جمع کرنے اور اس کو عام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کئی ایک کتابیں “Sharia Laws” پر لکھی گئی ہیں اور بعض ذیلی اُمور کو اصول کا درجہ دیکر تنقید کی گئی ۔ امریکہ کی کئی ریاستوں میں باضابطہ شرعی قانون پر پابندی لگائی گئی ہے ۔ ایک ایسے وقت جبکہ ساری دنیا نے اپنی باہمی اختلافات کے باوجود اسلام اور اہل اسلام کو اپنا مشترکہ دشمن بنایا ہے اور اسلام کو ہر دشمن سے زیادہ پرخطرقرار دیا ہے ، عالمی قائدین ، سیاسی لیڈرس ، صحافی ، اساتذہ ، مصنفین ، انتظامیہ ، تاجرین ، غرض شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے تمام افراد ، زندگی کے ہر موڑ پر اسلام کے خلاف ہرممکنہ کوشش کررہے ہیں، عین اسی وقت مسلمان باہم ایک دوسرے کے دست بگریباں ہیں ، خانہ جنگی کا شکار ہیں ، مسالک و مکاتب میں بٹے ہوئے ہیں اور ساری توانائی باہم ایک دوسرے کے خلاف خرچ کررہے ہیں اور اپنے حقیقی چالاک ، مکار ، طاقتور ، دولتمند وحشی دشمن سے غافل و بے خبر ہیں ۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ ایسے بیشتر اُمور و مسائل میں اُلجھے ہوئے ہیں جن کا کوئی تعلق آخرت میں نجات سے نہیں ہے ۔

مغربی دنیا کے سامنے ، ان کی فکر ، مزاج ، طرز استدلال اور تحقیق کے معیار کے مطابق کسی ہندوستانی مسلمان اسکالر نے اسلامی قانون کی اہمیت و افادیت کو اُجاگر کیا ہے تو میرے معلومات کے مطابق وہ عظیم ہستی ڈاکٹر محمد حمیداﷲ ( پیرس ) کی ہے ۔ مولانا موصوف رحمۃ اﷲ علیہ کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ساری دنیا کے قدیم قوانین بین الممالک کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور اسلامی قانون سے ان کا تقابل کرتے ہوئے ہرمقام پر نہایت قوت کے ساتھ اسلامی قانون کی جامعیت و انفرادیت کو معقول و معروضی انداز میں ثابت کیا ۔
ڈاکٹر محمد حمیداﷲ مرحوم نے اپنے ایک مقالہ ’’رسول اکرم ﷺ بطور مقنن ‘‘ میں اسلامی و شرعی قانون پر بحث کرتے ہوئے عہد نبوی کے واقعات و تشریعی طرق سے مندرجہ ذیل نتائج و ثمرات کو اخذ کیا ۔ ڈاکٹر محمد حمیداﷲ کے مطابق ’’اسلام کا خاص امتیاز ہے کہ اس میں قانون اور اخلاق دست بدست چلتے ہیں، قانون اخلاق کا پاسدار ہے اور اخلاق قانون کا محافظ ، یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم بیک وقت معلم اخلاق بھی تھے اور مقنن بھی ، بالعموم نبی کا تعلق اولاء عقائد و عبادت کی تعلیم یا تزکیۂ اخلاق اور تصفیہ قلوب سے ہوتا ہے ، ثانیاً کسی اور چیز سے لیکن آنحضرت ﷺ کا تعلق بیک وقت دونوں سے ہے ‘‘۔

اﷲ سبحانہ و تعالیٰ ہی حقیقی سرچشمہ قانون اور شارح اصلی ہے نیز نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم ساری انسانیت کیلئے عالمگیری رسول ہیں، آپ ﷺ کی ذات مقدسہ سرچشمہ قانون ہے اور آپ ﷺ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ قرآن تصدیق کرتا ہے۔ ’’یعنی وہ درحقیقت وحی ہوتی ہے جو آپ پر القاء کی جاتی ہے ‘‘۔
( سورۃ النجم ۵۳؍۳)
قرآن اور حدیث کے سکوت کی صورت میں عرف و عادات برقرار رہتے ہیں بشرطیکہ انھیں کوئی بات روح قرآنی کے منافی نہ ہو اور شریعت اسلامی کے مقاصد پر زد نہ پڑتی ہو ۔ یہ شریعت ابراہیمی و موسوی کے باقیات الصالحات بھی ہوسکتے ہیں اور خالص انسانی عقل اور تجربہ کے نتائج بھی۔ لہذا عرف و عادت مستقل شریعت کی اساس نہیں بلکہ وہی معتبر ہوں گے جو قرآن و حدیث سے ہم آہنگ ہو ۔
٭  اسلام کی قانون سازی میں فطری تقاضوں کا پورا لحاظ رکھا گیا مثلاً انسانی جبلتوں کی اعتدال کے طریقہ پر تسکین کے لئے نکاح کا حکم ہے ۔ اسی طرح خوش حال رہنے کی خواہش ، عزت و وقار کی خواہش ، تعمیر و ترقی کی آرزو ، فطری و طبعی ہے۔ اس کیلئے بھی شرعی مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اصول و قوانین موجود ہیں۔ آپ دنیا سے اپنا حصہ نہ بھولیں۔
( سورۃ القصص ۲۸؍۷۷)
٭ قانونِ اسلامی کا ایک اہم عنصر یہ ہے کہ اس میں سہولت ہے یعنی دین کے احکام عوام اور ہر قسم کے کم سمجھ رکھنے والے انسانوں کیلئے بھی قابل عمل ہے ۔اسی بناء پر یہ دین مٹھی بھر فرشتہ صفت انسانوں سے مختص ہوکر نہیں رہا۔ ’’یعنی مشقت کے ساتھ آسانی ہے ‘‘(سورۃ الانشراح) پھر مدنی دور میں مزید صراحت کی گئی ’’اللہ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا‘‘ ۔( سورۃ البقرہ ۲؍۱۸۵)
احادیث میں بھی اس اصول کا بکثرت ذکر ہے ۔
٭  برائیوں سے روکنے اور نیکیوں کی ترغیب کے سلسلہ میں بھی طبع انسانی کے محرکات کا خیال رکھا گیا ، محض سزائے دنیوی اور ظاہری تہدید کافی نہیں سمجھی گئی ۔ اس کے لئے گہرے روحانی عوامل کو بھی کام میں لایا گیا ہے ۔ چنانچہ آخرت کی جزاء اور سزا کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں کوئی شخص برے عمل کی سزا سے بچ بھی نکلا تو کیا ہوا ، ایک یوم الحساب اور بھی ہے ۔

٭  سابقہ انبیاء کرام کی شریعتیں بعض احکام کے سلسلے میںجن کا قرآن میں بصراحت ذکر ہے برقراری رکھی گئیں بجز ان کے جن کی قرآن و حدیث کے ذریعے ترمیم و تنسیخ کی گئی ہو۔’’یہی وہ لوگ ہیں جن کو اﷲ نے ہدایت دی پس آپ ان کے طریقہ پر چلیں‘‘۔ ( سورۃ الانعام )
قانونِ اسلامی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تمام قوانین میں توازن ، اعتدال ہے ، عدل و انصاف پر مبنی ہے ۔ ظلم و زیادتی کا انسداد ہے ۔ ادنیٰ اوسط اور اعلیٰ ہر قسم کے لوگوں کے لئے دین کے روحانی اور مادی احکام قابل عمل ہیں۔ مثال کے طورپر یہ نہیں کہا جائیگا کہ اگر کسی کو طمانچہ لگے تو وہ شخص اپنا دوسرا گال بھی ظالم کے سامنے رکھ دے اور یہ بھی نہیں کہا گیا کہ وہ اس کا دس گنا بدلے لے ۔ بلکہ فرمایا : یعنی برائی کا بدلہ اس جیسی برائی ہے ، ہاں جو شخص معاف کردے اور معاملے کی اصلاح کردے ، پس اس کا اجر اﷲ کے ذمہ ہے ، بے شک اﷲ ظالموں کو پسند نہیں فرماتا ۔
٭  شرعی قوانین میں جامعیت ہے اور وہ ساری ضرورتوں کا کفیل ہوتا ہے ، دینی اور روحانی ، دنیوی اور مادی انفرادی اور اجتماعی سب ضرورتیں اس سے پوری ہوجاتی ہیں اور احکامات اسلامی میں درجہ بندی مثال کے طورپر واجب ، مستحب اور مباح اور دوسری طرف حرام ، مکروہ وغیرہ اسلامی قوانین کے کمال کا آئینہ دار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT