Wednesday , August 16 2017
Home / Top Stories / ’’شرعی قوانین، امریکی قوانین سے برتر نہیں‘‘

’’شرعی قوانین، امریکی قوانین سے برتر نہیں‘‘

صدر بننے کی صورت میں ترقیاتی پراجکٹس پس پشت ڈال کر دولت اسلامیہ کی بیخ کنی پر زائد توجہ
شمالی کیرولینا میں ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کا خطاب

واشنگٹن ۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے اب دہشت گردوں کے خلاف بھی سخت رویہ اپنانے کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دہشت گرد جو امریکہ پر حملہ کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، انہیں ڈھونڈ نکالا جائے گا اور تباہ کردیا جائے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ صدر بننے کی صورت میں ان کی تمام تر توجہ اسلامی انتہاء پسندی کے خاتمہ پر مرکوز ہوگی۔ شمالی کیرولینا کے شارلیٹ نامی مقام پر اپنی انتخابی ریالی کے دوران انہوں نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے لئے ان کے پاس ایک ایسا پیغام ہے جس سے ان کی (دہشت گردوں) نیندیں اڑجائیں گی۔ وہ لوگ جو امریکی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں، وہ کان کھول کر سن لیں کہ ہم تمام دہشت گردوں کو ڈھونڈ نکالیں گے چاہے وہ پاتال ہی میں کیوں نہ ہوں اور انہیں تباہ کردیا جائے گا۔ ٹرمپ نے کہاکہ فی الحال وہ ملک کی ترقی کے تمام پراجکٹس کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف اور صرف دولت اسلامیہ کی بیخ کنی پر تمام توانائیاں صرف کی جائیں گی جس کیلئے فوج، سائبر اور مالیاتی وارفیئر کا استعمال کیا جائے گا اور اس کیلئے دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ امریکہ شراکت داری کرنے تیار ہے جس میں خصوصی طور پر مشرق وسطیٰ کا تذکرہ ضروری ہے

کیونکہ اب تک دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے امریکہ کا سب سے بڑا ساتھی یہی ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر بننے کی صورت میں وہ دنیا کے کسی بھی ایسے ملک سے آنے والوں کے امیگریشن کا سلسلہ عارضی طور پر بند کردیں گے جہاں معقول اسکریننگ نہیں کی جاتی۔ ایسا کوئی بھی شہری جو یہ سمجھتا ہے کہ شرعی قوانین امریکی قوانین سے بالاتر ہیں، انہیں امیگرنٹ ویزہ جاری نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی امریکی سوسائٹی کا حصہ بننا چاہتا ہے تو اسے امریکی سوسائٹی کو دامے، درمے، سخنے اپنانا پڑے گا۔ امریکی اقدار کی پاسداری اور طرز زندگی کا احترام کرنا پڑے گا۔ ایسے لوگ جو خواتین، ہم جنس پرستوں، ہسپانکس، افریقی امریکی اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر ظلم و ستم روا رکھتے ہیں ان کا امریکہ میں استقبال نہیں کیا جائے گا۔ امریکی طرز زندگی اور طرز حکومت کا آج دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ انہوں نے ہلاری پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ کی انجیلا مرکل بننے کی کوشش کررہی ہیں۔ ہم نے دیکھا ہیکہ جرمنی میں جرائم کی شرح بہت زیادہ ہے اور مسائل کا انبار ہے جس نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔ ہمارے پاس بھی مسائل کی کمی نہیں ہے

لہٰذا ہم ان مسائل میں ایک اور مسئلہ (ہلاری) کا اضافہ کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے ٹیکسوں سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ورکرس اور چھوٹی تجارتوں پر بھاری ٹیکس کٹوتی دی جائے گی اور ساتھ ہی ساتھ پرکشش تنخواہوں والی سینکڑوں ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کئے جائیں گے۔ ہم ان تمام ریگولیشنز کو کالعدم قرار دیں گے جن کے ذریعہ امریکی ملازمتیں باہر کے لوگوں کو مل جاتی ہیں۔ ہم نوجوان امریکی شہریوں کو ان کے خوابوں کی تکمیل کیلئے چھوٹی چھوٹی تجارتوں کے آغاز کیلئے بھرپور تعاون اور مالی امداد پیش کریں گے۔ یاد رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو افریقی امریکی شہریوں میں زبردست مقبولیت حاصل ہے اور اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ان رائے دہندوں سے یہی کہہ رہے ہیں کہ انہیں (ٹرمپ) بھی ایک موقع دیا جائے کیونکہ افریقی امریکی برسوں سے اپنے اسکولس کی حالت دیکھتے آرہے ہیں کہ کس قدر خراب حالت میں ہیں۔ یہی نہیں بلکہ افریقی امریکی شہریوں کا 58 فیصد بیروزگار ہے۔ یہ سب کئی دہوں سے چلائی جانے والی جمہوری حکومتوں کا تحفہ ہے۔ لہٰذا اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT