Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / شرعی قوانین میں تبدیلی کا حکومت کو کوئی حق نہیں

شرعی قوانین میں تبدیلی کا حکومت کو کوئی حق نہیں

ملک گیر شریعت بیداری شعور مہم کا اختتامی اجلاس ، جماعت اسلامی ہند کے علمائے دین کا خطاب
نئی دہلی ۔8مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) جب خود پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و سلم کو اُلوہی قوانین شریعت میں تبدیلی کا کوئی حق نہیں تھا تو مسلمان کسی بھی حکومت کو یا عدالت کو ایسا کرنے کی کیسے اجازت دے سکتے ہیں۔ علمائے دین نے جو جماعت اسلامی ہند کی ملک گیر شریعت شعور بیداری مہم کے اختتام میں شرکت کررہے تھے یہ سوال اُٹھایا۔ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے اعلیٰ سطحی علمائے دین نے متفقہ طورپر کہا کہ شریعت (پرسنل لاء ) اُلوہی ہے ، چنانچہ حکومت یا عدالت کو اس میں کوئی تبدیلی کا حق حاصل نہیں ہے ۔ علمائے دین نے کہاکہ گھریلو مسائل پر مسلم تنازعات عدالتوں میں پہنچ رہے ہیں کیونکہ شریعت کی گنجائشوں سے ناواقفیت کی بناء پر یا پھر دانستہ طورپر استحصال کیا جارہاہے ، جس کے ذمہ دار شرعی قوانین کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے بجائے اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ مسلم عوام کو شریعت کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں تاکہ اُنھیں احساس ہوجائے کہ اس پر ایمانداری کے ساتھ عمل کرنا ضروری ہے ۔ گھریلو معاملات پر پیدا ہونے والے تنازعات کی یکسوئی کیلئے مشاورتی مراکز یا شرعی پنچایتیں قائم کی جاسکتی ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کے قومی امیر سید جلال الدین عمری ، کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے معتمدین مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی اور مولانا فضل الرحمن مجددی اور عالم دین ظفرالاسلام خان اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کی ۔ مولانا مجددی نے کہاکہ حال ہی میں طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج کے خلاف ایک عالمی سازش کے حصہ کے طورپر شوروغل مچایا گیا تاکہ اسلام کے خاندانی اور سماجی نظام کو نشانہ بنایا جائے ۔ اجلاس میں جماعت اسلامی ہند کی بیداری شعور مہم جو 23 اپریل تا 7 مئی چلائی گئی تھی اختتام پذیر ہوئی ۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکز نے گزشتہ سال 7 اکٹوبر کو سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ ، نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کے مسلمانوں میں رواج کی مخالفت کی اور صنفی مساوات اور سیکولرازم کی بنیاد پر اس پر نظرثانی کرنی کی تائید کی ۔

TOPPOPULARRECENT