Saturday , September 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / شرکیہ نعرہ

شرکیہ نعرہ

اسلام دین توحید ہے اس میں شرک وکفرکی قطعا کوئی گنجائش نہیں ،جہاں اسلام ہوگا وہاں شرکیات وکفریات کا کوئی گزرنہیں،جہاں شرک وکفرہوگا وہاں توحیدکا کوئی تصورنہیں ،اسلام اورشرک دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ارشادباری ہے’’اورتمہارا اللہ تو ایک اللہ ہے اسکے سواکوئی الہ نہیں وہ بہت مہربان اوررحم فرمانے والا ہے ‘‘۔(البقرہ:۔۱۶۳) اس آیت مبارکہ کے پہلے جملہ میں توحید کا اثبات اوردوسرے جملہ میں شرک کی نفی کرکے اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ جب وہ ذات تم پر مہربان ہے اور جوتمہارے وجودکی خالق اورتمہاری بقاء ونشوونما میں اسکی رحمتوں کے جلوے موجودہیں توپھراسکے علاوہ اورکون ہوسکتاہے جس کو تم اپنا الہ معبود ومسجود بنا لو؟اسکے بعد والی آیت میں اللہ سبحانہ نے اپنی توحید پر جودلائل دئیے ہیں اس نے انسانی قلب ودماغ کووہ جلا بخشی ہے کہ جس سے ایک انسان گمراہ ہونے سے بچے ، یہ ساری کائنات انسانوں کے آگے ایک کھلی کتاب ہے،جس میں بڑے جلی حروف کے ساتھ اسکی قدرت وصناعی کے وہ جلوے قلم حقیقت شناس نے فہم ودانش کی دوات میں ڈبوکرجوہرآب دارسے بنی سیاہی میں ڈبوکر صفحات کائنات پر رقم کئے ہیں جوانسانی عقل کو حیرت کے دریامیں غرق آب کردیتے ہیں،اورتوحیدبارئی تعالی کی حقیقت کو سمجھاتے اوراسکے اسرار رموز سے پردہ اٹھاتے ہیں ،کائنات عالم کی تخلیق،زمین وآسمان کی پیدائش،آسمان کی عریض ووسیع چھت اس میں جھلملاتے انگنت ستارے،چاندکی چمک اوراسکی دل لبھاتی ٹھنڈی روشنی ،سورج اوراسکا روشنی بکھیرنا،اورتیزدھوپ وروشنی سے دن کو وجود بخشنااوراسکے بے نہایت فوائد سے خلق خداکو فائد ہ پہنچانا،کرئہ ارض کی وسعتیں اس میں بہنے والی ندیاںاوراسکے سینے میں دریاؤں اورسمندروں کا جاری رہنا،ان کے اندر تموج اورانکا وقاران وسیع وعریض سمندروں میں جہازوں اورکشتیوں کا چلنا،گھنگنھورگھٹاؤں کا چھانا،اوران سے باران رحمت کا برسنا،بجلی کی گرج وکڑک ،دیکھتے ہی دیکھتے بارش رحمت کی کرشمہ سازیوں سے مردہ زمینوں کا زندہ ہوجانا،اورسوکھی زمینوں کا پھرسے سرسبزوشاداب ہوجانا، یہ اوراس طرح کے کئی ایک مسحورکن کرشمہ ہائے قدرت۔ انسانی وجوداوراسکی عقل ودانش کو خاموش دعوت توحید دے رہے ہیں،وہ جو اس کتاب زندگی کو نہ پڑھ سکے اورتوحید کے جلوؤں سے اپنے دل ودماغ کو روشن نہ کرسکے وہ پھرانسان ہی کیا؟خالق کائنات نے اس دعوت غوروفکرکے بعد ان ساری جلوہ سامانیوں کو انسانوں کے لئے پیداکئے جانے کا اعلان مزید انسانی فکرکی گرہ کھولنے اورراہ ہدایت دینے کیلئے کافی ہے ، ارشادباری ہے ’’اللہ نے جو کچھ اس کرئہ ارض پر پیداکیا ہے وہ سب تمہاراہے‘‘۔یعنی  اے انسانو! اس سارے نظام کائنات کو ہم نے تمہارے لئے بنایا اوران سب کی پیدائش کو تمہارے لئے خاص کیا ہے۔

کفر شرک کی ظلمتوں میں ڈوبی ہندکی تاریک راتوں کو توحید کے نورسے روشن کرنے کیلئے اس کفروشرک کے گڑھ میں پہلے سمندری علاقوں کے اطراف واکناف کے افق پر اسلام کا نورجگمگایا اورپھرآہستہ آہستہ سارے ہندوستان کو اس سے روشن کیا، خواجہ اجمیری رحمہ اللہ اورکئی ایک بزرگان دین علماء وصلحاء کی محنتوں سے اس نورکی تابناکی میں اوراضافہ ہوا،دھیرے دھیرے ہندکے چپے چپے میں اسکی روشنی پھیلی ۔شیطان چونکہ انسانوں کو گمراہ کرنے کا وعدہ لیکر اس دھرتی پر آیا ہے ،اس جہاں میں اورجب موقع ملے ضروراپنے شیطانی مشن کو آگے بڑھانے سے کوئی دریغ نہیں کرتا،اللہ کے مخلص بندوں پر چونکہ اسکا کوئی داؤ نہیں چلتا ،مخلص اصحاب جب اس دھرتی پر کم ہوجا تے ہیں تو شیطان کو اپنا ننگا ناچ دکھانے کا موقع ہا تھ آجا تا ہے ،ایسی ہی کچھ صورت حال سے اس وقت ہمارا ملک دوچارہے۔ کفروشرک کے مظاہرکی یلغارکے اس زمانہ میں شرک اورشرکیہ اعمال اورشرک کی اشاعت پر کمربستہ باطل طاقتوں کو شکت دینے کیلئے قرآن کی اصطلاح میں ایسے مخلص بندوں کی شدید ضرورت ہے جوشیطان کے دام فریب میں پھنسنے سے محفوظ رہنے والے اوردوسروں کو اسکے دام فریب سے محفوظ رکھنے کی سعی کرنے والے ہوں،اس کے لئے ایمان پر استقامت ،اعمال صالحہ پر مداومت رکھنے والوں کی اس قدرکثیرتعدادکرئہ ارض پر ہر زمانہ وہروقت موجود ہو کہ جس کی وجہ شرک کا فتنہ خودبخود سرد پڑجائے ،اورشیطان کی گمراہ کن کوششیں اپنے آپ دم توڑدیںیہی وہ نبوی طریق ہے جسکو بھلاکر امت مسلمہ مصائب کا شکارہے۔’’سوریہ نمسکار‘‘’’یوگا‘‘’’وندے ماترم‘‘اوراب’’ بھارت ماتا کی جئے‘‘ جیسے نعرے وغیرہ کو زبردستی سب پر مسلط کرنا،اوراسکی مخالفت کرنے والوں کو للکارنا،اوران پر ظلم ڈھانااوراس طرح کی باطل جاہلانہ اورغیردستوری فکرکا کھلے عام ڈھنڈوراپیٹنا ،اس پر مستزاد یہ کہ حکومت کا چشم پوشی کرنا ،اورمہر بلب ہوجانا،اسکو سوائے اسکے کیا کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب شیطان کی کارستانیاں ہیں۔جو ملک کو بجائے محبت کے نفرت کے غارمیں ڈھکیلنے اورسارے ہندوستانی جو آپس میں انسانی نقطہ نظرسے بھائی بھائی،ایک دوسرے کے چارہ ساز،بہی خواہ اورمہربان ہیں،ان کو نفرتوں کے دلدل میں دھنسانا ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے انکی نافرمانی کی تو انھوں نے اپنے رب کی بارگاہ میں معروضہ پیش کیا کہ’’ اے میرے رب انھوں نے میری نافرمانی کی اوران کے متبع اورپیروبن گئے جن کے مال واولاد نے ان کو کوئی فائد ہ نہیں بلکہ نقصان ہی پہنچایا اورانھوں نے بڑے فریب سے کام لیا،اورانھوں نے کہا کہ ہرگزتم اپنے معبودؤں کو نہ چھوڑو اورنہ’’ ود‘‘ اور’’سواع‘‘ اور’’یغوث‘‘ اور’’یعوق‘‘ اور’’نسر‘‘کو چھوڑو۔یہ لوگ اپنے گناہوں کے سبب ڈبودئیے گئے اورجہنم رسید کردئیے گئے اوراللہ کے سواانھوں نے کوئی اپنا مددگارنہیں پایا ‘‘ (نوح:۔۲۱تا ۲۵) قوم نوح جن کی عبادت کرتی تھی ان معبودان باطل کا ذکراس آیت میں کیا گیا ہے،یہ پانچوں نام دراصل قوم نوح کے بڑے ہی نیک اوراللہ والے انسانوں کے ہیں۔جب یہ دنیا سے رخصت ہوئے تو شیطان نے پہلی کوشش یہ کی کہ انکے عقیدت منداپنے گھروں میں انکی تصاویرآویزاں کرلیں،دھوکہ یہ دیا کہ اس سے ان کی یاد تازہ رہے گی اورانکے تصورسے نیکیوں کی طرف رغبت بڑھے گی،اس پر عمل کرنے والے جب موت سے ہمکنارہوگئے تو شیطان نے گمراہ کرنے کا ایک اور دوسراجال ڈالا اورانکی نسلوں کو شرک میں مبتلاکرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زورلگایا اوران کو سمجھایا بجھایا کہ یہ جوتصاویرتمہارے گھر آویزاں ہیں ،یہ تو بڑی مقدس ہستیاں ہیں جن کی تمہارے آبا ووجداد پوجا وعبادت کیا کرتے تھے،تم بھی کامیاب ہونا چاہتے ہو تواپنے آباووجدادکی پیروی کرواوردل وجان سے ان کی پوجا کرو‘‘۔(صحیح البخاری :۔تفسیرسورہ نوح)شرک آہستہ آہستہ پیرپھیلا تا ہے

اور نورتوحید پر اثراندازہونے کی کوشش کرتا ہے،قرآن پاک کی آیات میں دی گئی دعوت فکرصرف ایمان والوں کیلئے نہیں بلکہ ساری انسانیت کیلئے ہے۔لیکن جو شیطان کے مریدومعتقد ہیں وہ اسکے جال میں پھنسے رہتے ہیں اوراسکی جعل سازیوں اوردسیسہ کاریوں سے مرعوب ہوجاتے ہیں ۔وہ چاہتے یہی ہیں کہ جن کے سینے نورتوحید سے روشن ہیں ان کو توحید کی روشنی سے نکال کر شرک کی تاریکیوں میں لایا جائے ۔’’سوریہ نمسکار‘‘سورج کی پرستش کا نام ہے۔’’یوگا ‘‘وہ طریقہ عبادت ہے جو شرک سے آلودہ ہے۔’’وندے ماترم‘‘ میں وندنا یعنی غیر خدا کی پوجا وعبادت کا اقرارہے۔’’بھارت ماتا کی جئے ‘‘کے نعرے میں شرک کی دیوی پس پردہ رہتے ہوئے کفروشرک کی فکری آبیا ری کر رہی ہے۔اس نعرے کے پیچھے ہندومذہب کے ماننے والوں کی آستھا اورعقیدت کارفرما ہے۔ بھارت ماتا کی مختلف شکلیںپیش کی جاتی ہیں اس وقت جو شکل وصورت بھارت ماتا کی شبیہ بن کرسامنے آئی ہے اس پر وہ ایک ہاتھ میں تلواریا ترشول اوردوسرے ہاتھ میں بھگواجھنڈا تھامے ہوئے ایک شیرنی پر براجمان ہے ،اسکی جئے کا نعرہ لگا نا کوئی سادہ بات نہیں بلکہ اسکے پیچھے ایک شیطانی مکروفریب والی لابی کام کررہی ہے۔وطن کی محبت ایک فطری امرہے ہر انسان کو اپنے وطن، ماں باپ اورآل و اولاد وغیرہ سے محبت ہوتی ہے ،اس محبت کے اظہارکیلئے کسی مخصوص نعرہ کی ضرورت ہی کہاں ہے ،سچی محبت جھوٹے نعروں کی نہیں بلکہ وفادارانہ عملی تقاضوں کی تکمیل کا مطالبہ کرتی ہے، بہت ممکن ہے ہندوستان پر کوئی امتحان وآزمائش کی گھڑی آن پڑے تو مسلمان اس جیسا شرکیہ نعرہ نہ لگاکر بھی سچے محب وطن ثابت ہوں،جبکہ ان کی محبت جھوٹی قرارپائے جو صرف جھوٹے اوردکھاوے کے نعروں پر یقین رکھتے ہیں،مخلصانہ عملی جد وجہد سے دیش کو آگے بڑھانے سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ علماء وصلحاء نے اپنی ذمہ داری کو پوراکرتے ہوئے اس شرکیہ نعرہ کی حقیقت سے امت مسلمہ روشناس کروایا،اور اس کی بروقت رہنمائی فرمائی بہت سے ایمان والے ۔دشمنوں اورشیا طین کے اس دام فریب میں نہیں آئے،افسوس کچھ ایمان والے ایسے بھی نکلے جنھوں نے رہنماؤں کی بات پر نہ صرف کان نہیں دھرابلکہ شیطانوں اورانکے چیلوں کو خوش کرنے کیلئے یہ نعرہ لگاکر اللہ کوبہت ناراض کرلیا ہے ،ہندوستان کے بعض گوشوں اورمسلم ممالک میں سکونت پزیربعض مسلم اصحاب نے ہمارے اس دیش کے وزیراعظم کی آمد کے موقع پر یہ شرکیہ نعرہ لگا کر مسلمانوں کونہ صرف شرمندہ کیا بلکہ خود اپنے مسلمان ہونے پر بڑاسوالیہ نشان لگالیا ہے۔  الامان والحفیظ۔

TOPPOPULARRECENT