Friday , September 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / شرک جلی سے زیادہ شرک خفی خطرناک

شرک جلی سے زیادہ شرک خفی خطرناک

کعبۃ اللہ میں کفار و مشرکین ۲۶۰ بت بٹھا رکھے تھے، اس کے باوجود وہ اس کو بیت اللہ ہی کہتے تھے۔ کسی نے بھی اس گھر کو اپنے کسی بت کے نام منسوب نہیں کیا اور نہ سب بتوں کی طرف منسوب کرکے اس گھر کو ’’بیت الآلھۃ‘‘ کہا۔ ان بتوں میں سب سے بڑا بت ’’ہبل‘‘ تھا، جو خانہ کعبہ کی چھت پر رکھا تھا اور جنگوں میں اس کی جے پکارتے تھے۔ جنگ احد میں ابوسفیان نے اسی کے نام کے نعرے لگائے تھے، لیکن اس کے باوجود خانہ کعبہ کو کبھی کسی نے ’’بیت الہبل‘‘ نہیں کہا۔ سب بیت اللہ ہی کہتے تھے اور اللہ کو ہی اپنا کارساز حقیقی سمجھتے تھے۔ ابرہہ کے حملہ کے وقت سب نے اللہ ہی کو پکارا تھا۔ ابوجہل کے بیٹے عکرمہ کا جہاز جب طوفان میں گھر گیا تو مسافروں کو نجات اس وقت ملی تھی، جب وہ معبودان باطل کو پکار پکار تھک چکے تھے اور سب سے مایوس ہوکر انھوں نے اللہ ہی کو پکارا تھا اور گڑگڑاکر اللہ ہی سے دعائیں مانگی تھیں۔
عوام الناس مشرکین کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدا کے منکر ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے، وہ اللہ کو ہی اپنا معبود حقیقی مانتے ہیں، لیکن ان کا عظیم ترین گناہ شرک ہے، یعنی وہ اللہ تعالی کے ساتھ اس کی ذات یا صفات، یا حقوق یا اختیارات میں دوسروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں۔ اسی کو اللہ تعالی نے ’’ظلم عظیم‘‘ فرمایا ہے، جو ہرگز ہرگز نہیں بخشا جائے گا۔ علماء کرام نے شرک کو اچھی طرح سمجھانے کے لئے اس کو دو قسموں میں تقسیم کرکے سمجھایا ہے، ایک شرک جلی ہے یعنی کھلم کھلا بالکل واضح شرک اور دوسرا شرک خفی ہے، یعنی چھپا ہوا اور پوشیدہ شرک۔ لیکن سانحہ دیکھئے کہ لوگوں نے شرک خفی کو شرک خفیف سمجھ لیا اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ اس کا معاملہ اتنا اہم نہیں جتنا شرک جلی کا ہے۔ شرک خفی کے معنی ہیں چھپا ہوا شرک۔ شرک خفی، شرک جلی سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس کے معاملے میں بہت زیادہ حساس اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کو اس طرح سمجھ لیا جائے کہ کھلا دشمن زیادہ خطرناک نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے بارے میں آدمی چوکس رہتا ہے، لیکن جو دشمن چھپا ہوا ہو، وہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ یوں سمجھو کہ شرک جلی جِلدی زخم ہے جو نظر آرہا ہے، آدمی اس کو دیکھ رہا ہے، اس پر توجہ دینا آسان ہے، بروقت اس کا علاج بھی ہوسکتا ہے، لیکن شرک خفی (چھپا ہوا شرک) اندرونی کینسر ہے، جو اندر ہی اندر پھیلتا ہے اور آدمی اس سے غافل رہتا ہے اور جب اس کا پتہ چلتا ہے تو وہ ناقابل علاج ہوچکا ہوتا ہے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ شرک خفی کو سمجھنے کے لئے بڑی دقتِ نظر اور دین کے گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے۔
بے شک صوفیۂ کرام کا ایک طبقہ نظریۂ وحدۃ الوجود کے پیش نظر اپنے وجود کے اثبات کو بھی شرک خفی کہتا ہے، لیکن یاد رکھو نظریہ وحدۃ الوجود ایک وجدانی مسئلہ ہے۔ صوفی کو جب یہ وجدان حاصل ہو جائے اور عشق الہی کی آگ میں تپ کر اس کی ’’انا‘‘ فنا ہو جائے تو جذب کی کیفیت میں وہ اگر ’’اناالحق‘‘ کہہ دے تو مرفوع القلم سمجھا جائے گا، ورنہ نہیں۔ جس طرح لوہا آگ میں تپ کر خود آگ بن جائے اور کہے ’’اناالنار‘‘ تو درست ہے، لیکن ٹھنڈے لوہا کو ’’اناالنار‘‘ کہنا ہرگز زیب نہیں دیتا۔ ویسے عام لوگوں کو وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کی بحثوں میں نہیں پڑنا چاہئے۔
ایک بات اچھی طرح ذہن نشین رکھیں کہ ’’عبدیت‘‘ بڑی چیز ہے، ہمارے ابدان پر یہی جامہ زیب دیتا ہے، اس لباس کو نہ اتاریں۔ عبدیت ہمارے جسموں کی زینت ہے، ہمارے سروں کا تاج ہے۔ یہ ظرف ہے، جس میں سارے مدارج و مراتب سما جاتے ہیں۔ یہ ظرف ہی اگر نہ رہے تو پھر مظروف کہاں؟۔ شب معراج میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سدرۃ المنتہی سے آگے پہنچے، جو عبد و معبود کے تخلیہ کا اعلی ترین مقام ہے، یہاں جو وحی کی گئی اس کو پردہ خفا میں رکھا گیا۔ اس منزل میں اللہ تعالی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ’’اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) میں تمھیں کس شرف سے مشرف کروں؟‘‘ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: ’’یااللہ! میں تیری عبودیت کی نسبت سے مشرف رہنا چاہتا ہوں‘‘۔ یعنی شرف عبودیت کوئی معمولی چیز نہیں ہے، قرآن کریم میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ جگہ جگہ ’’عبد‘‘ کے لفظ سے کیا گیا ہے۔ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کا تعارف بھی اللہ تعالی نے ’’عبد‘‘ ہی کی حیثیت سے کرایا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین پاک کے صدقے میں ہم گنہگاروں کو بھی اللہ تعالی نے عبدیت اور عبودیت ہی کے شرف سے مشرف فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ’’اے نبی! آپ اعلان کردیں کہ اے میرے بندو! جنھوں نے گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر بڑا ظلم ڈھایا ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں‘‘ (سورۃ الزمر۔۵۳) اس لئے اللہ تعالی سے اپنی عبدیت اور عبودیت کی نسبت قائم رکھنا اور اس پر فخر کرنا چاہئے، کیونکہ یہ قابل فخر نسبت ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اس نسبت سے ہمیشہ مفتخر فرمائے۔ (آمین)
شرک جلی اور شرک خفی کے بارے میں جو علماء کا نقطہ نظر ہے، من و عن وہی نقطہ نظر صوفیہ کا بھی ہے۔ علماء اور صوفیہ کا متفقہ نقطۂ نظر جو قرآن و حدیث سے مستفاد ہے، علم و عقل اور ایمان کا تقاضا بھی وہی ہے۔
توحید اور شرک کو ایک اور مثال سے سمجھ لیں کہ آپ کے پاس ایک بالٹی میں نہایت خالص اور عمدہ دودھ ہے، اگر اس میں مینگنی گرجائے تو اس دودھ کی وجہ سے مینگنی پاک و صاف نہیں ہوگی، بلکہ اس مینگنی کی وجہ سے سارا دودھ گندا اور ناپاک ہو جائے گا۔ آپ کے پاس توحید خالص کا نہایت پاک و صاف عمدہ دودھ ہے، اس کو شرک کی مینگنی سے بچائیں، ورنہ توحید غارت ہو جائے گی اور جب توحید غارت ہو جائے تو پھر کچھ نہیں بچتا، سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو شرک کے شائبہ تک سے دور رکھے۔ (آمین) (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT