Monday , May 1 2017
Home / Top Stories / شریعت اسلامی میں مداخلت ناقابل برداشت

شریعت اسلامی میں مداخلت ناقابل برداشت

پُرفتن دور میں اسلامی قوانین پر اعتراضات کا معقول جواب دینے کی ضرورت، شریعت سے ناواقف افراد کی تنقیدیں تشویشناک

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اجلاس، یکساں سیول کوڈ کی سخت مخالفت

کولکتہ 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) شریعت اسلامی کے تحفظ کے لئے متحدہ جدوجہد ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اسلامی قوانین بالخصوص مسلم پرسنل لاء سے متعلق قوانین کو جس انداز میں زیربحث لایا جارہا ہے اور اِن کی اہمیت و معنویت پر سوالات کھڑے کئے جارہے ہیں، ضروری ہے کہ تمام مسلمان اِس صورتحال کا مؤثر ڈھنگ سے مقابلہ کریں۔ ہمارے لئے تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ اسلامی شریعت سے ناواقف افراد نے بھی مسلم پرسنل لاء پر تنقیدیں شروع کردی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا سید محمد ولی رحمانی نے کیا۔ کولکتہ کے مائرہ بینکویٹ ہال میں جاری بورڈ کے سہ روزہ 25 ویں اجلاس کا آج دوسرا دن تھا۔ انھوں نے بورڈ کی ایک سالہ کارکردگی اور مختلف سرگرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مولانا ولی رحمانی نے کہاکہ دینی تنظیموں، جماعتوں اور اداروں و اہم شخصیتوں کو مل کر موجودہ فتنوں اور اسلامی قوانین پر اُٹھائے گئے سوالات کا معقول و مدلل جواب دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انھوں نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تحفظ اور اُس کے دفاع پر زور دیا۔ انھوں نے کہاکہ مسلمانوں میں مسلم پرسنل لاء پر عمل آوری کا جذبہ بھی ہونا چاہئے۔

مولانا ولی رحمانی نے طلاق ثلاثہ پر مرکز کی اختیار کردہ پالیسی اور ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کی۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ دستور کے مطابق انصاف کرے گی۔ اُنھوں نے بورڈ کی جانب سے جاری دستخطی مہم کو مزید تیز کرنے کی اپیل کی۔ آج کی نشست میں جنرل سکریٹری کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر بحث کی گئی جس میں شرکاء نے ’’دین اور دستور بچاؤ تحریک‘‘ کو جاری رکھنے، اسلامی قوانین کے مجموعے کا انگریزی ترجمہ کرتے ہوئے اسے قانون داں طبقہ تک پہنچانے، یکساں سیول کوڈ پر کتابچہ تیار کرتے ہوئے اسے تقسیم کرنے اور مسلم خواتین میں شریعت اسلامی کے قوانین سے واقفیت کے لئے مہم میں تیزی لانے پر زور دیا۔ کل اجلاس کا آخری دن ہوگا اور دوپہر دو بجے پارک سرکس میدان میں جلسہ عام منعقد کیا جائے گا جس میں عامۃ المسلمین سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ پرسنل لاء بورڈ کی مجلس استقبالیہ کے صدرنشین اور پارلیمنٹ کے رکن سلطان احمد نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’کنونشن میں یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ تین طلاق کا طریقہ کار برقرار رہے گا اور اس کے خلاف حکومت کی کسی بھی کوشش کی ہم پوری شدت سے مخالفت کریں گے ۔ ہم یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت بھی کریں گے ۔ تین طلاق کا رواج ایک زمانہ سے جاری ہے ۔ یہ ہمارے مذہبی حقوق کا حصہ ہے ‘‘ ۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، تین طلاق پر امتناع کے خلاف پہلے ہی دستخطی مہم شروع کرچکی ہے اور ملک بھر کی 10 کروڑ مسلم خواتین ، تین طلاق کی تائید میں دستخط کرچکی ہیں ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک رکن نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’ہمارے صدر مولانا رابع حسنی ندوی اپنی تقریر کے دوران واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ مرکز کی بی جے پی حکومت ملک کے مسلمانوں بالخصوص نوجوان نسل کو غیر ضروری طور پر ہراساں کرنے کا ایجنڈا اپنا رہی ہے ۔ حکومت کی یہ ذہنیت رہی ہے کہ مسلمانوں کو ملک دشمن کی حیثیت سے ماخوذ کیا جائے اور انہیں ہراساں کیا جائے ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو نصب کرنے کی کوشش جس کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’مسلمان بھی اس عظیم سیکولر ، جمہوریہ ہند کا ایک حصہ ہیں ۔ بی جے پی حکومت کے فرقہ وارانہ منصوبوں کے خلاف ہم جدوجہد کریں گے ‘‘

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT