Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / شریعت اسلامی میں مداخلت ناقابل برداشت

شریعت اسلامی میں مداخلت ناقابل برداشت

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داروں سے ملاقات کے لیے محمد علی شبیر کی دہلی روانگی
حیدرآباد۔17۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر بہت جلد نئی دہلی پہنچ کر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داروں سے ملاقات کریں گے ۔ محمد علی شبیر نے سپریم کورٹ میں زیر دوران مقدمہ میں فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے جمیعتہ العلماء کے ریاستی ذمہ داروں سے اس سلسلہ میں بات چیت کی اور کہا کہ وہ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ اور شریعت اسلامی میں مداخلت کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کریں گے۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج کے خلاف جو حلفنامہ داخل کیا ہے ، اس کے خلاف شرعی نقطہ نظر سے دلائل پیش کرنے کیلئے وہ ماہرین قانون کی خدمات حاصل کریں گے ۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ وہ نئی دہلی میں بعض ماہرین قانون سے ربط میں ہیں اور انہیں سپریم کورٹ کے مقدمہ میں فریق بننے کے فیصلہ سے واقف کراچکے ہیں۔ نئی دہلی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داروں سے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ میں پیروی کی حکمت عملی طئے کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ لاء کمیشن کے سوالنامہ کے بائیکاٹ کا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا فیصلہ درست اور حقائق پر مبنی ہے ۔ پرسنل لا بورڈ نے ملک کے مسلمانوں کے جذبات کی حقیقی طور پر ترجمانی کی ہے۔ ایسے وقت میں تمام مسلم جماعتوں اور قائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرسنل لاء بورڈ سے تعاون کریں۔ محمد علی شبیر نے بعض گوشوں کی جانب سے پرسنل لاء بورڈ کے موقف کے برخلاف فیصلہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے عناصر کو شریعت اسلامی کے تحفظ سے زیادہ سیاسی مفادات کے حصول میں دلچسپی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے یکساں سیول کوڈ کے بارے میں اپنا موقف واضح کردیا ہے ، لہذا ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوئی بھی کوشش سماج کو توڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ تلنگانہ کے مختلف اضلاع کے علاوہ آندھراپردیش کے مختلف مقامات سے علماء کے نمائندہ وفود نے حیدرآباد پہنچ کر محمد علی شبیر سے ملاقات کی اور سپریم کورٹ کے مقدمہ میں پرسنل بورڈ سے تعاون کے فیصلہ کی ستائش کی ۔ علماء کرام نے کہا کہ شریعت اسلامی کے تحفظ کیلئے مسلمانوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ باطل طاقتیں طویل عرصہ سے شریعت کو نشانہ بنارہی ہے جس کے لئے خواتین کے حقوق کا سہارا لیا جارہا ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام نے خواتین کو جو حقوق اور احترام دیا ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT